اسرائیل کے متواتر حملوں سے غزہ زبردست اقتصادی بحران سے دوچار

غزہ پٹی:غزہ گذشتہ کئی سالوں سے سخت ترین اقتصادی بحران کا شکار ہے اور یہ بحران آئے روز شدت اختیار کرتا جا رہا ہے جس کی وجہ سے بے روزگاری اور فقر میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ اسرائیل کی جانب سے کئے گئے حملوں کے نتیجے میں اکثر کارخانے اور دیگر صنعتی ادارے تباہ ہو چکے ہیں اور ان کو دوبارہ تعمیر کرانا بھی ممکن نہیں ہے۔فلسطینی ذرائع کے مطابق غزہ میں ہونے والی پے در پے تین صہیونی جنگوں کے نتیجے میں وہاں کی صنعت کا ایک بڑا حصہ پوری طرح تباہ ہو چکا ہے۔
اسرائیل کارخانوں اور فیکٹریوں پر بم گرانے کے بعد پورے غزے کو اپنے محاصرے میں لیے ہے تا کہ ان کی تعمیر نو میں رکاوٹ بن جائے اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔غزہ گذشتہ دس سال سے صہیونیوں کے محاصرے میں ہے جس سے غزہ کی اقتصادیات بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ تین تباہ کن جنگوں کے بعد غزہ کا بنیادی ڈھانچہ اور صنعتی تنصیبات پوری طرح تباہ ہو گئی ہیں۔ جس کے نتیجے میں بے روزگاری اور فقر کی شرح میں حیران کن اضافہ ہوا ہے۔واضح رہے کہ غزہ کی اسی فیصد آبادی دیگر ممالک سے آنے والی امداد کے ذریعے اپنا گزارا کر رہی ہے جبکہ اس وقت غزہ کی آبادی کے ایک بڑے حصے کو تغذیہ بخش اور اچھی غذا میسر نہیں ہے۔

Title: gaza food crisis | In Category: دنیا  ( world )
Tags: ,

Leave a Reply