گنی میں ٹیچرس کے مظاہرے کے دوران تشدد،پانچ ہلاک

کوناکری(گنی):مغربی افریقی ملک گنی کے دارالحکومت کوناکری میں ٹیچرس کی ہڑتال کے درمیان طلبا کا مظاہرہ تشدد میں بدل جانے سے کم از کم پانچ افراد ہلاک اور 30 دیگر زخمی ہو گئے۔ گنی کے’میجر ٹیچرس یونین‘ گذشتہ یکم فروری سے ہی حکومت کی جانب سے جونیئر اساتذہ کو برطرف کئے جانے اور تنخواہ میں تخفیف کئے جانے کے فیصلوں کی مخالفت میں مظاہرہ کر رہی تھی۔
جس کے باعث طلبا کی کلاسیں نہیں لگ پا رہی تھیں۔اور انہوں نے بھی پتھروں اور لاٹھی بلموں کے ساتھ مظاہرے شروع کر دیے۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ یہ حالات آج صبح اس بگڑ گئے جب کچھ افراد نے تھانے پر حملہ کر دیا اورکوناکری کے کئی اضلاع میں مظاہرین کے ساتھ جھڑپ شروع ہو گئی۔ حکومت نے ایک بیان میں کہا، “دوپہر تک اس مظاہرے میں کم از کم پانچ افراد ہلاک ہو گئے۔
” انہوں نے اس مظاہرے کو غیر قانونی اور ممنوع قرار دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس میں 30 دیگر افراد زخمی ہو گئے۔ حکومت نے کہا کہ اساتذہ کے اس مظاہرے کو ختم کرنے کے لئے ایک معاہدہ کیا گیا تھا لیکن اس کی تصدیق نہیں ہوپائی ہے۔ واضح رہے کہ اس سے پہلے بھی ٹیچرس کے مظاہرے میں درجنوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

Read all Latest world news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from world and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Five killed in guinea as police clampdown on student protests in Urdu | In Category: دنیا World Urdu News

Leave a Reply