افغانستان میں طالبان کی سرپرستی کے باعث افیون کی کاشت دوگنی ہوگئی

کابل:اقوام متحدہ اور افغان حکومت کے مشترکہ سروے کے بعد جاری ایک رپورٹ کے مطابق افغانستان میں2016کے مقابلہ امسال افیون کی کاشت دو گنی ہوئی ہے نیز افیون کے کھیتوں کے رقبہ میں میں بھی63فیصد اضافہ ہوا ہے۔
جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ افغانستان میں افیم کا کاروبار نہایت مقبول ہے۔اور اس کی مقبولیت اس لیے بھی بڑھ رہی ہے کیونکہ افیون کی کاشت کرنے والوں کو طالبان کی سرپرستی حاصل ہے۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ گزشتہ سال کی نسبت اس سال افغانستان میں افیون کی کاشت میں 87 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ پہلے 21 صوبوں میں افیون کاشت ہو رہی تھی جبکہ اب 24 صوبوں میں بڑے پیمانے پر افیون کاشت کی جا رہی ہے۔ افغانستان میں انتہا پسند گروہ اسی فصل کی آمدنی سے بڑی رقم حاصل کرتے ہیں اور پھر اس رقم سے اسلحہ اور گولہ بارود خریدتے ہیں۔
افغان حکومت نے افیون کی کاشت کے خلاف قانون بنا رکھا ہے لیکن افغانستان کے زیادہ تر رقبے پر طالبان کا قبضہ ہونے کی وجہ سے افغان حکومت کے قوانین پر عمل آوری نہیں ہو پاتی ہے۔ اس کے علاوہ حکومتی زیر کنٹرول علاقوں میں بھی افیون کی کاشت میں اضافہ ہو رہا ہے۔افغانستان دنیا بھر میں افیون کی کاشت میں پہلے نمبر پر ہے۔
افغانستان میں غربت، جہالت اور انتہا پسندی وہ اسباب ہیں جن کی بنا پر لا قانونیت اور بے راہ روی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کے علاوہ بین الاقوامی سازشیں بھی ہیں جن کی بنا پر خطوں میں بد امنی پیدا کر کے اسلحہ اور ادویات کی تجارت کی جاتی ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2016میں 4,96,671ایکڑ زمین پر افیم کی کاشت ہوتی تھی جبکہ2017میں افیون کی کاشت کی زمین کا یہ رقبہ بڑھ کر8,10,488ایکڑ ہو گیا ہے۔

Read all Latest world news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from world and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Figures reveal dire trend in afghan opium production in Urdu | In Category: دنیا World Urdu News
Tags: ,

Leave a Reply