یوگانڈا کے تانا شاہ عیدی امین نے ہندوستانیوں کوملک بدر کر کے فاش غلطی کی تھی

کمپالا:یوگانڈا نے اپنے تانا شاہ حکمراں عدی امین کی طرف سے یہاں رہ رہے ہندوستانیوں کو نکالنے کے واقعہ کو ایک بڑی غلطی قرار دیا ہے لیکن کہا ہے کہ اس معاملے سے ہندوستان کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ یوگانڈا کے صدر یوویری مسیوینی نے سابق وزیر اعظم آنجہانی اندرا گاندھی کے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کل یہاں کہا کہ جن ہندوستانیوں کو امین نے نکال دیا تھا وہ یوگانڈا کے شہری تھے اور یہ مسئلہ اس افریقی ملک اور برطانیہ کے درمیان تھا۔ اس سے ہندوستان کا کچھ لینا دینا نہیں تھا۔ مسٹر مسیوینی ینٹب واقع اپنی سرکاری رہائش گاہ پر ہندوستان کے نائب صدر جمہوریہ حامد انصاری کے ساتھ دو طرفہ مسائل پر بات چیت کے بعد منعقد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ ایک سوال کے جواب میں مسٹر مسیوین نے کہا، “یوگانڈا میں رہ رہے ہندستانی ہمارے شہری تھے اور یہ مسئلہ یوگانڈا اور برطانیہ کے درمیان تھا۔ جب ہندستانی شہری نکالے گئے تھے تب اس سے ہندستان کا کچھ لینا دینا نہیں تھا۔
یہ بات اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی نے کہی بھی تھی۔ تاہم مسیوینی نے امین کے اس قدم کو ایک غلطی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستانیوں کو نکالنے سے یوگانڈا کا نقصان ہوا، جبکہ ان ہندوستانیوں کی وجہ سے برطانیہ اور کناڈا کو فائدہ ہو ا۔ مسٹر مسیوینی کے مطابق، نکالے گئے ہندوستانیوں نے کناڈا اور برطانیہ میں اپنا مقام بنایا اور خوب ترقی کی۔ انہوں نے کہا کہہم نے ان ہندوستانیوں سے واپس آنے کی اپیل کی اور ان میں سے کچھ بڑے صنعت کار اور دوسرے لوگ لوٹے بھی، کچھ ایک نہیں لوٹے کیونکہ وہ وہاں (برطانیہ اور کناڈا) میں کافی ترقی کر چکے تھے۔ اپنے اس جواب کے بعد مسٹر مسیوینی ہندستان کے نائب صدر جمہوریہ کی جانب مخاطب ہوئے اور ان کی طرف متجسس نظروں سے دیکھا۔ مسٹر انصاری نے انکے جواب کی حمایت کی۔ واضح ر ہے کہ جنرل عیدی امین نے 45 سال پہلے یہاں رہ رہے ایشیائی لوگوں کو ملک سے چلے جانے کا حکم دیا تھا، جن میں بڑی تعداد میں گجراتی لوگ تھے۔ یہ لوگ 100 سال سے زیادہ عرصہ سے مشرقی افریقہ میں رہ رہے تھے۔

Title: expulsion of indians had nothing to do with india says uganda | In Category: دنیا  ( world )

Leave a Reply