شام میں ترکی کی فوجی مداخلت کا واحد مقصد شامی علاقوں سے جہادیوں کا خاتمہ ہے:اردوغان

استنبول/انقرہ:(یو این آئی) ترک صدر طیب اردوغان نے کہا ہے کہ شام میں ترکی کی فوجی مداخلت کا مقصد صرف شامی سرحدی شہر الباب ہی نہیں بلکہ داعش کے گڑھ رقہ کو بھی آزاد کراتے ہوئے قریب پانچ ہزار مربع کلومیٹر شامی علاقے سے جہادیوں کا خاتمہ ہے۔ ترک صدر نے یہ بات آج تین خلیجی عرب ریاستوں بحرین، سعودی عرب اور قطر کے اپنے سرکاری دورے پر روانہ ہونے سے پہلے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ صدر اردگان نے کہا کہ ترک فوجی دستوں کی شام میں مسلح کارروائیوں کا ہدف صرف ترک سرحد کے قریب شامی شہر الباب سے ہی د داعش کے جہادیوں کا خاتمہ نہیں ہےبلکہ حتمی ہدف رقہ سمیت شام کے ترکی کے ساتھ تمام سرحدی علاقوں سے داعش کے جنگجوؤں کا خاتمہ ہے۔ رائٹر کے مطابق الباب کا شہر ترک شامی سرحد سے جنوب کی طرف 30 کلومیٹر یا 20 میل کے فاصلے پر واقع ہے، جس کی طرف انقرہ حکومت کے حمایت یافتہ شامی باغی مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ یہ شامی باغی جنوب کی طرف سے اس شہر کی طرف پیش قدمی کر رہے ہیں لیکن یہ خطرہ بھی اپنی جگہ ہے کہ ان شامی باغیوں کا شامی حکومتی دستوں کے ساتھ براہ راست تصادم بھی ہو سکتا ہے۔
ترک فوجی دستوں نے جنوری کے اوائل میں الباب کی طرف بڑھتے ہوئے راستے میں پڑنے والے شامی سرحدی شہر الراعی کو بھی داعش کے قبضے سے چھڑا لیا تھا اس حوالے سے ترک صدر نے صحافیوں کو بتایا، ”ہمارا حتمی ہدف پانچ ہزار مربع کلومیٹر کے شامی سرحدی علاقے کو صاف کرنا ہے۔“ ساتھ ہی ترک سربراہ مملکت نے یہ بھی واضح کر دیا کہ ترک فوجی دستوں کا شام میں دیر تک قیام کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور جیسے ہی وہ اپنے عسکری مقاصد میں کامیاب ہوئے، انہیں واپس بلا لیا جائے گا۔ ایک دوسرے واقعے میں ترکی میں انتخابات کے محکمے نے16 اپریل کوملک میں ریفرنڈم کرانے کا اعلان کیا ہے۔ اس ریفرنڈم میں ترک عوام ملک میں پارلیمانی نظام ختم کر کے صدارتی نظام نافذ کرنے سے متعلق فیصلہ دیں گے۔ اردوغان صدارتی نظام کے خواہش مند ہیں۔ ان کا یہاں تک کہنا ہے کہ ترکی کے سیاسی نظام کی مخالفت کرنے والے ترکی کے دشمن ہیں۔ خلافت عثمانیہ کا دور ختم ہونے کے بعد وجود میں آنے والی جدید ترک ریاست کے سیاسی نظام میں سب سے بڑی تبدیلی کے لیے یہ ریفرنڈم کرایا جا رہا ہے۔ اس ریفرنڈم میں ترک عوام ملک میں صدارتی نظام نافذ کرنے کے حق اور مخالفت میں ووٹ ڈالیں گے۔
سیاسی تبدیلی کے بعد ترک صدر کو صدارتی حکم نامے جاری کرنے، ملک میں ایمرجنسی نافذ کرنے، وزراء اور اعلیٰ حکومتی عہدیداروں کی تقرری کرنے جیسے اختیارات حاصل ہو جائیں گے۔ اس تبدیلی کے بعد ممکنہ طور پر موجودہ صدر اردوغان ناٹو کی رکنیت رکھنے والے اور یورپی یونین میں شمولیت کے خواہاں ترکی کی باگ ڈور 2029 تک اپنے ہاتھوں میں رکھ سکیں گے۔ دوسری جانب مخالفین کو خدشہ ہے کہ صدارتی نظام سے ملک میں آمریت کا خدشہ ہے۔ ترکی میں ناکام فوجی بغاوت کے بعد سے پہلے ہی ہزاروں عام شہری، اساتذہ، صحافی، اور سرکاری و غیر سرکاری اداروں کے ملازمین زیر حراست ہیں۔ ترکی میں اپوزیشن کی دو بڑی سیاسی جماعتیں، سی ایچ پی اور ایچ ڈی پی سیاسی نظام میں تبدیلی کے خلاف ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی سے ملک میں طاقت کا توازن ختم ہو جائے گا اور پہلے ہی سے طاقت ور ایردوآن کا اثر و رسوخ مزید بڑھ جائے گا۔

Read all Latest world news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from world and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Erdogan turkish army will press on to isil held raqqa in Urdu | In Category: دنیا World Urdu News

Leave a Reply