شہنشاہ اکی ہیتو کی 2018میں تخت سے دستبرداری کے قانونی پہلو جاپان کے زیر غور

ٹوکیو: جاپان کی حکومت ان تمام قانونی پہلوؤں پر غور کر رہی ہے جن کے تحت شہنشاہ اکی ہیتوکے عہدہ چھوڑ کر تخت سنبھالنے کی ذمہ داری ان کے بیٹے کو دی جا سکتی ہے۔ گزشتہ دو سو برسوں میں یہ پہلا موقع ہو گا جب کسی شہنشاہ نے عہدہ چھوڑ کر اپنے بیٹے کو اقتدار سونپا ہو۔ قابل ذکر ہے کہ شہنشاہ اکی ہیتو کی عمر اس وقت 83 سال ہے اور انہوں نے گزشتہ سال اگست میں اس سلسلے میں اشارے دئے تھے کہ زیادہ عمر کی وجہ سے وہ اپنی ذمہ داریاں ادا نہیں کر پا ر ہے ہیں اور عہدہ چھوڑنا چاہتے ہیں۔
تاہم جاپان کے موجودہ قوانین میں ایسا کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ حکومت ان طریقوں پر غور کر رہی ہے جن کے تحت وہ عہدہ چھوڑ کر یہ ذمہ داری اپنے 56 سالہ بیٹے شہزادے ناروہیتو کو دے سکتے ہیں۔وہ اپنا عہدہ 31 دسمبر 2018 یا یکم جنوری 2019 کوچھوڑ سکتے ہیں۔
اس معاملے میں ماہرین کا ایک پینل گزشتہ سال سے ہی تمام ممکنہ پہلوؤں پر غور کر رہا ہے اور اس کی سفارشات اس سال آنے کی امید ہیں۔ اس درمیان کابینہ سیکرٹری یوشہیدے سوگانے کل واضح کیا کہ انہیں ایسی کسی صورت حال کی اطلاع نہیں ہے۔ موجودہ شہنشاہ اکیہیتوکے دل کا آپریشن ہو چکا ہے اور پوروش غدود کے کینسر کے مسئلے سے بھی وہ نجات پا چکے ہیں۔انہوں نے 1989 میں اپنے والد ہیروہیتو کے انتقال کے بعد تخت سنبھالا تھا۔شہنشاہ ہیروہیتو کے نام پر دوسری جنگ عظیم لڑی گئی تھی۔

Read all Latest world news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from world and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Emperor akihito japan considers moves to allow 2018 abdication reports in Urdu | In Category: دنیا World Urdu News

Leave a Reply