چین کے شین جیانگ میں خنجر برداروں کے حملہ میں8 ہلاک

شنگھائی:(یو این آئی) چین کے مغرب بعید کے مسلم آبادی والے خطہ شین جیانگ میں تین چاقو بردار حملہ آوروں نے 8 افراد کو ہلاک اور 10 کو زخمی کردیا ا لیکن پولس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ان ” ٹھگوں“ کو مار ڈالا۔ وسط ایشیا سے متصل چینی سرحد پر تشدد کا یہ تازہ واقعہ ہے۔ سرکاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ شورش زدہ شین جیانگ کے پشان علاقہ میں یہ حملہ کل شام ہوا تھا۔ ”فی الحال اس مقام پر سماجی نظم ٹھیک ہے سماج مستحکم ہیں اور تفتیش کی جارہی ہے“۔ حملہ آوروں اور انکے مقصد کے بارے میں مزید کوئی تفصیل نہیں بتائی گئی ہے۔ وسط ایشیا ، پاکستان ، افغانستان اور ہندوستان کی سرحدوں سے متصل وسائل سے مالا مال شین جیانگ میں حالیہ برسوں میں سیکڑوں لوگ ہلاک ہوچکے ہیں ۔یہاں مسلم ایغور اقلیت اور اکثریتی ہان چینیوں کے درمیان اکثر تشدد ہوتا رہتا ہے۔
حکومت یہاں کی شورش کے لئے علیحدگی پسند مسلم جنگجوں کو موردالزام ٹہراتی ہے مگر انسانی حقوق کے گروپ اور جلا وطن کہتے ہیں کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ چین نے مسلم ایغور آبادی کے مذہب اور ثقافت پر طرح طرح کی پابندیاں لگارکھی ہیں اس لئے وہاں کے لوگوں میں غصہ اور ناراضگی ہے وہاں داڑھی ، برقعہ، روزہ اور نماز پر کئی طرح کی پابندیاں ہیں مگر چین اس سے انکار کرتا ہے۔ پشان میں جیسے ایغور زبان میں گوماکہتے ہیں حالیہ برسوں میں تشدد کے کئی واقعات ہوچکے ہیں 2011 میں پولیس نے سات افراد کو ہلاک کردیا تھا اور کہاتھا کہ یہ اغوا کار تھے اور ان کا دہشت گرد گروپ سے تعلق تھا۔
جلا وطن گروپ عالمی ایغور کانگریس کے ترجمان دلشاد راشد نے کہا کہ چین کے ظلم کا یہ تازہ واقعہ اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ وہاں لوگوں کے پرامن طریقہ سے ناراضگی ظاہر کرنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے۔ اگر کوئی اشتعال انگیز واقعہ ہوتا ہے تو اس کے نتیجہ میں ٹکراؤ ہوسکتا ہے۔ تھوڑے عرصہ سکون اور حالیہ ہفتوں میں سنکیانگ میں تشدد پھر بڑھ رہا ہے۔ دسمبر میں حملہ آور ایک گاڑی لے کر سرکاری عمارت میں گھس گئے تھے جس کے نتیجہ میں 5 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ پچھلے ماہ پولیس نے تین افراد کو گولی مارکر ہلاک کردیا تھا حکام نے انہیں مشکوک دہشت گرد بتایا تھا۔ شاہراہ ریشم کی ایک چوکی ہوتان کو ایغور کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔

Title: eight killed in knife attack in chinas xinjiang govt | In Category: دنیا  ( world )

Leave a Reply