مصرانسانیت تختہ دارپر

جہاں حکومت کی مرضی کے مطابق سزائیں نہ دینے پر ججوں کو ہی سزا بھگتنا پڑتی ہے
سمیع اللہ ملک،لندن
وہ استعماری قوتیں جنہوں نے اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل کیلئے مصرکی منتخب حکومت کے مقبول رہنمامحمدمرسی کواپنی سازشوں سے جبراً ہٹاکراپنے منظورنظرایجنٹ فوجی آمرجنرل فتاح السیسی کیلئے میدان ہموارکیا ،اس سے ان کادہرامعیاراورمنافقت ساری دنیاکے سامنے آگئی۔ لیکن اب یہی قوتیں اورعالمی میڈیامصرکی دگرگوں معیشت ،سیاحت کی صنعت کی تنزلی اورامن وامان کی بدترین بگڑتی صورتحال کے تناظرمیں آمرفتاح السیسی پرالزام عائدکررہے ہیںکہ وہ مصرکودرپیش اہم مسائل کونظراندازکرتے ہوئے صرف اورصرف اخوان المسلمون کوکچلنے کی پالیسیوں پرعمل پیراہیں،واضح رہے کہ عالمی ردّعمل اس وقت ابھرکرسامنے آیاہے جب انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں اورقانونی اداروں کی نگاہ میں کٹھ پتلی کہلائی جانے والی ایک مصری عدالت نے مصرکے پہلے منتخب،معزول واسیرجمہوری صدرمحمدمرسی کوپانچویں مقدمہ میں مجرم قراردیتے ہوئے ان کی عمرقیدکی سزاسنائی ہے۔اس مقدمہ کے بارے میں مصری وزارتِ داخلہ اورایوانِ صدرنے اطمینان کااظہارکرتے ہوئے جاری بیان میں کہاہے کہ مصرکے دشمنوں کے خلاف کریک ڈاو¿ن جاری رہے گااورتمام مجرموں اورریاست کے خلاف بغاوت کرنے والوں کوکیفرکردارتک پہنچایاجائے گا۔
ادہرانٹرنیشنل جیورسٹ کونسل نے انکشاف کیاہے کہ مصری آمرحکومت نے تمام عدالتوں کے ججوں کوپابندکردیاہے کہ اخوان المسلمون کے کسی بھی رکن کے خلاف پیش کئے جانے والے مقدمہ میں ان کوسزادینالازمی ہوگاوگرنہ ان ہدایات کی خلاف ورزی کرنے والے ججوں کو”نشانہ عبرت“بنادیاجائے گا۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کے ڈپٹی ڈائریکٹربرائے مڈل ایسٹ / افریقامگدینامغرابی نے مصری عدالتی نظام کو”مجرمانہ سوچ“پراستوارقراردیاہے جومصری فوجی حکومت کادست وبازوبناہواہے اورمخالفین کودھڑادھڑظالمانہ سزائیں سنارہا ہے ۔ واضح رہے کہ مارچ2016کی ایک رپورٹ میں عالمی قانونی تنظیم ”انٹرنیشنل جیورسٹ کونسل“نے ایک رپورٹ میںانکشاف کیاتھاکہ مصری حکومت نے اخوان المسلمون کے اسیروں کو یکطرفہ طورپرسزائیں نہ دینے کی پاداش میں32ججوں کوبرطرف کردیاہے اوران کی تنخواہیں اورتمام مراعات سلب کرلیں ہیں۔روسی خبرایجنسی”ریانوستی“کے مطابق دوسال میں برطرف کئے جانے والے انصاف پسندججوں کی تعداد47ہوچکی ہے جن کو”فوجی آمرجنرل سیسی کی ہدایات“پرعملدرآمدنہ کرنے سبب ملازمتوں اورعہدوںسے برطرف کیا جا چکا ہے۔ ”انٹرنیشنل جیورسٹ کونسل“نے مصری سپریم جوڈیشنل کونسل کی جانب سے انصاف پسندججوں کے خلاف کاروائیوں کوناقابل قبول قراردیاہے۔
اسرائیلی جریدے ”ہارٹز“نے باخبرمصری ذرائع کے حوالہ سے خبردی ہے کہ مرسی کے خلاف پانچویں مقدمہ کی سماعت کرنے والے مصری جج”ایم شیریں فہمی“نے فیصلہ میں یہ بھی لکھا ہے کہ متعلقہ حکام مرسی اوردیگرافرادکوپھانسی کی سزاو¿ں پرعمل درآمدکیلئے مصری مفتی اعظم کے دفترمیں درخواست جمع کراکران سے فتویٰ طلب کریں اوراگلے چھ ماہ میں مرسی سمیت ان تمام افرادکی پھانسی کی سزاو¿ں پرعملدرآمدکرائیں جن کوماضی وحال میں مصری عدالتوں سے سزائے موت سنائی گئی ہے۔مراکشی جریدے”الشروق“نے انکشاف کیا ہے کہ اخوان المسلمون کے خلاف کریک ڈاو¿ن اورفوجی عدالتوں میں مقدمات کے تناظرمیں یہ بات اہم ہے کہ اب تک اس تنظیم کے ایک ہزاررہنماو¿ں اورکارکنوں کوسزائے موت کاحق دارٹھہرایاجاچکاہے جبکہ چارہزارسے زائدکارکنان اوراساتذہ وصحافیوں کومختلف المعیادسزائے قیدسنائی گئی ہیں۔
عرب جریدے”القدس“نے ایک رپورٹ میں بتایاہے کہ رمضان لمبارک کی آمدبھی مصری اسلام پسندوں کے خلاف حکومتی کریک ڈاو¿ن اورتشددمیں کوئی کمی نہیں لاسکی ہے اور مصری سیکورٹی فورسزنے دارلحکومت قاہرہ سمیت نصف درجن شہروں میں چھاپوں کاسلسلہ درازکرتے ہوئے تین صحافیوں سمیت137اخوانیوں کوگرفتارکرکے نامعلوم مقامات اورحراستی مراکزمیں منتقل کردیاہے۔مصری جریدے”مصرالیوم“نے بتایاہے کہ سابق صدرمرسی کوقطرکیلئے جاسوسی کرنے اورقطرکوحساس مصری قومی سلامتی کی دستاویزات حوالے کرنے کے الزام اورسزاو¿ں پرنہ صرف مصری میڈیاسمیت سماجی رابطوں کی سائیٹس پرجنرل سیسی اورمصری عدالتوں کامذاق اڑایاجارہاہے بلکہ قطر،ترکی اورجرمن حکومتوں نے ان سزاو¿ں پرشدیدردّعمل ظاہرکیاہے۔،سب سے شدیدردّعمل قطری حکومت کاتھاجس نے مصری عدالتوں اورحکومت کونالائق قراردیاہے اورمصری فوجی آمرالسیسی کویاددلایاہے کہ جس برادرملک(قطر)کے خلاف مصری عدالتیں اورحکومت جاسوسی کاالزام عائدکررہی ہے،اس کاماضی وحال میں ایساکوئی ریکارڈنہیں ہے کہ قطرنے کسی اسلامی ملک کے خلاف جاسوسی یاسازش کی ہو ۔قطری وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کئے جانے والے ایک نوکیلے بیان میں فوجی آمرسیسی کومشورہ دیاگیاہے کہ بہتر ہوگاکہ فوجی آمراوران کی عدالتیں اپنے ہی باشندوں کے خلاف بہیمانہ تشدداورکریک ڈاو¿ن کی بجائے ملک میں بگڑتے امن وامان اوربدترین معاشی ھالات کوبہتربنانے پرتوجہ دیں۔
عالمی جریدے ”ڈپلومیٹ“نے بتایاہے کہ منتخب ومعزول اسیرصدرمرسی کوپانچ مختلف مقدمات میں ایک بارسزائے موت اورکل 85سال قیدبامشقت کی سزائیں سنائی گئیں ہیںاور اسلام پسندحکمران جماعت اخوان المسلمون کوکالعدم اورغیرقانونی قراردے دیاگیاہے جبکہ اخوان المسلمون کے خلاف مصری فوجی آمرکے اندھادھندکریک ڈاو¿ن کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایاجاسکتاہے کہ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں”ہیومن رائٹس واچ“ایمنسٹی انٹرنیشنل“سمیت اقوام متحدہ کے ہیومن رائٹس کمیشن نے مصری حکومت کے اقدامات کو”غیرانسانی“اورناقابل قبول قراردیاہے اوربتایاہے کہ حکومتی کریک ڈاو¿ن میں اب تک ایک لاکھ سے زائدخواتین،طلبائ،علمائے کرام،سیاسی کارکنان،اساتذہ کرام اورصحافیوں کوپابندسلاسل کیاجاچکاہے جن میں سے بائیس ہزارکے مقدمات خصوصی فوجی عدالتوں میں بھیجے گئے تھے جہاں ان میں سے چارہزارکے قریب اخوانی قیدیوں کووکیل مہیاکئے بغیراورچارج شیٹ کی عدم فراہمی کی صورت میں یکطرفہ طورپرلمبی سزائیں سنائی گئیں ہیں اورباقی افرادکوحراستی مراکزمیں رکھاگیاہے۔واضح رہے کہ ہیومن رائٹس واچ نے انکشاف کیاہے کہ مصری عدالتیں انصاف کے تقاضوں کوپورے کرنے کی بجائے ”اسکور“پوراکررہی ہیں۔ اس سلسلہ میں الجزیرہ نے قاہرہ میں اخوان المسلمون کے مرشدعام روحانی سربراہ ”محمدبدیع“سمیت683اخوانی کارکنان کے خلاف مرکزی مقدمہ کی رودادبیان کرتے ہوئے نشری رپورٹ میں بتایاہے کہ سیکڑوں افرادکے خلاف دہشتگردی،ہتھیاروں کے غیرقانونی استعمال سمیت ریاست کے خلاف بغاوت جیسے سنگین مقدمہ کومصری جج نے محض ”ایک گھنٹے“میں کچھ اس طرح نمٹایاکہ وکیل صفائی کوکچھ کہنے کاموقع ہی نہیں دیاگیانہ ہی ان کی دستاویزات کودیکھاگیا،صرف حکومتی پراسیکیوٹرکے چندمنٹ کے دلائل سن کراخوانی مرشد اوران کے گرفتارغیرحاضر683افرادکوسزائے موت سنادی گئی جن میں غزہ میں دوسال قبل شہادت کاجام پینے والے پانچ افرادکے نام بھی شامل تھے ،اس انوکھے فیصلہ پرانسانی حقوق کی تنظیموں کے ساتھ ساتھ امریکا،روس،جرمنی،برطانیہ اورکینیڈانے شدیدردّعمل ظاہرکیاجس پرمصری وزارتِ داخلہ کے خفیہ احکامات پرمصری عدلیہ نے دُم دباکرسزائے موت کافیصلہ واپس لے لیالیکن خبث باطن کااظہارکچھ اس طرح کیاکہ بے گناہ اورانصاف سے محروم افرادکورہائی دینے کی بجائے انہیں مختلف المعیادسزائے قیدسناکرجیل بھیج دیا۔
”الااہرام آن لائن“نے ایک رپورٹ میں بتایاہے کہ مصری حکومت نے اخوان المسلمون کے ساتھ ساتھ مصری صحافیوں کے خلاف بھی محاذگرم کیاہواہے اورمصری لکھاریوں اور صحافیوں کی مضبوط ترین تنظیم”جرنلسٹ سنڈیکیٹ“کوتوڑنے کیلئے کئی ارکان کولالچ دیاگیااوراس سنڈیکیٹ کے سربراہ ”یحییٰ کالاش“کوگرفتارکرکے بدترین تشددکیاگیااوران کے خلاف کئی درجن مقدمات درج کرکے فوجی عدالتوں کے سپردکردیاگیاہے لیکن فوجی اقدامات پرنہ تواخوان المسلمون نے سرجھکایاہے اورنہ ہی صحافیوں کاقلم پژمردہ ہواہے۔
مصر میں اسرائیل موساد، سی آئی اے کے ایجنٹ جنرل عبدالفتاح السیسی اخوان کے خلاف ہی نہیں بلکہ اسلام دشمنی میں عقل و ہوش، انسانیت و شرافت، عدل و قانون کو بالکل ہی بھلا بیٹھے ہیں۔عالم اسلام کے چند ممالک کا اسلامی انقلاب اسلام دشمنوں کو بالکل ہی نہیں بھاتا ہے۔ مصر میں اسلام پسند جمہوری حکومت کا خاتمہ کردیا گیا ہے۔اخوان المسلمین بلاشبہ اسلامی دنیا کی سب سے بڑی اور مو¿ثر تحریک ہے اس کے ساتھ یاد رکھنے والی بات یہ ہے کہ عرب دنیا میں کئی اعتبار مصر کو خاصی اہمیت حاصل ہے۔ جغرافیائی محل و قوع کے اعتبار سے اسرائیل اور فلسطین سے اس کابراہِ راست تعلق ہے۔عالم عرب میں تعلیم کے میدان میں بھی مصر سب سے آگے ہے۔عالمی تجارت اورتیل کی ترسیل کیلئے نہر سوئز زبردست اہمیت کی حامل ہے۔ مصر میں اخوان کے خاتمے کے بہانے وہاں اسلامی تحریک کو ہی ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کیونکہ اسلام دشمنوں کی نظروں میں سب سے زیادہ اخوان المسلمین ہی کھٹکتی ہے کیونکہ عالم عرب میں ہی نہیں بلکہ غیر عرب اسلامی ممالک میں بھی اس کا خاصہ اثر ہی نہیں ہے بلکہ اس سے اسلامی تحریکوں کو رہبری و رہنمائی بھی ملتی ہے۔ اسرائیل کے لئے اخوان المسلمین زیادہ بلکہ نتہائی خطرناک دشمن اس وجہ سے بھی ہے کہ عرب حکمراں امریکا کے دبا و¿میں آجاتے ہیں لیکن اخوان کی اسلامی تحریک پر دباو¿ ڈالنا ناممکن ہے نہ ہی اس تحریک کو خریدا جاسکتا ہے اس لئے اسے سازشوں کا نشانہ بنایا گیا اور بنایا جارہا ہے۔دراصل اسلامی تحریکوں کو ماضی میں بھی اسی قسم کی دشمنی اور مخالفتوں کا سامنا کرنا پڑا ہے بلکہ اخوان کے ساتھ آج کل جو کچھ ہورہاہے وہ کوئی نئی بات نہیں ہے ،شروع دن سے ہی اسی قسم کے حالات سے مسلسل گزررہی ہے ۔ یہ سب گزشتہ صدی اور حال ہی میں ترکی، افغانستان چیچنیا بنگلہ دیش ٹیونس الجزائر ماریطانیہ فلسطین اور کئی عرب ممالک میں بھی ریشہ دوانیوں کا سلسلہ جاری ہے لیکن ہر مرتبہ ہر موقع پر آخری فتح اسلامی تحریکوں کو ہوتی ہے۔ اسلامی تحریکوں سے عناد اور دشمنی کی وجہ صرف یہ ہے کہ اسلامی تحریک اس نظام کا نفاذچاہتی ہے جس کااللہ نے مسلمان سے مطالبہ کیاہے کیونکہ یہ نظام عوام کی بھلائی اور بہتری چاہتا ہے،بندوں کوبندوں کی غلامی سے نکال کرصرف اللہ کی غلامی کادرس دیتاہے ۔ مغرب کی مروّجہ خرابیوں کی اسلامی ریاست میںکوئی جگہ نہیں اور یہ سب کچھ مغرب ،امریکا اور اسرائیل کو پسند نہیں ہے۔
اسرائیل کے قیام کے بعد مصری افواج نے شاہ فاروق کے دور میں اسرائیل کے خلاف شاندار کامیابیاں حاصل کی تھیں۔ شاہ فاروق مرحوم کو اس قدر بدنام کیا گیا کہ ان کے تعلق سے کوئی اچھی بات کہتے ہوئے ڈرلگتا ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ عہد حاضر کے کئی مسلمان شاہوں اور امیروں سے زیادہ اسلام کا درد رکھتے تھے۔ ان کی حکومت کے دور میں ہی اخوان پرمظالم کا سلسلہ شروع ہوا تھا ،شاہ کی حکومت ختم کرکے اسلام دشمن نہ سہی اسلام بیزار آمر مسلط کردئیے گئے۔ انور سادات، حسنی مبارک نے مغربی دنیا اور اسرائیل کو وہ سب کچھ دیا جو وہ چاہتے تھے لیکن محمد مرسی نے انکارکردیا، اس لئے مصر میں اپنی کٹھ پتلیوں، عرب ممالک خاص طور پر متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کی مدد اور تعاون سے امریکا اور اسرائیل نے مرسی کی حکومت ختم کرکے وہ سب کچھ حاصل کرلیا جو کھویا تھا لیکن سازشیوں کا مقصد صرف یہ نہیں تھا کہ مرسی کو اقتدار سے ہٹادیا جائے اصل مقصد تو اخوان کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہے جو نہ صرف امریکا و اسرائیل کے لئے خطرناک ہے بلکہ اپنے نظریہ اسلامی انقلاب سے عرب دنیا کی شاہی حکومتوں بادشاہوں اور امیروں کو بھی خطرہ ہے۔ اخوان کی تحریک اتنی مضبوط ہے کہ اپنے تمام قائدین کی گرفتاری، اندھا دھند فائرنگ سے شہادتوں، اخوان کے ٹی وی چینلز، اخبارات اور ویب سائٹس بند کئے جانے کے باوجود تحریک جاری ہے۔ ہزاروں لاکھوں مظاہرین اخوان کی اب بھی حمایت کررہے ہیں۔
خود اخوان پر یا اس کی حلیف جماعتوں اور اس کے دوسرے بازووں خاص طور پر سیاسی بازو پرپابندی لگے بھی تو کوئی فرق نہیں پڑے گا وہ ایسے مظالم ایسی پابندیوں کے عادی ہیں اخوان حسن البنا اور سید قطب شہید کی شہادت کے باوجود باقی رہی تو اب بھی انشا اللہ تعالیٰ کچھ نہ ہوگا۔ صرف وقتی طور پر تحریکی کام رک جائے گا ۔ بنگلہ دیش ہو یا مصر یہاں کی حکومتوں کے لئے کسی اسلامی تحریک کو ختم کرنا ممکن نہیں ہے۔ جنرل سیسی اور حسینہ واجد نے ترکی کے مصطفی کمال کی اسلام دشمن تحریک سے سبق نہیں لیا ہے۔ مصطفی کمال کی موت کے تقریباساٹھ سترسال بعد ان کی اسلام دشمنی اپنی موت آپ مرگئی۔ یہی انجام مصر کے موجودہ حکمرانوں کی مہم کا ہوگا۔سیدقطب ؒ کافرمان ہے کہ ”سرکش حکمران دنیامیں کسی چیزسے نہیں ڈرتے جس قدروہ قوم کی بیداری سے ڈرتے ہیں“۔جنرل سیسی نے خود کو کبھی اسلام کا علمبردار نہیں کہا لیکن ان کے مدد گار بلکہ ان کے سرپرست عرب حکمراں جو خود کو اسلام کا خادم و علمبردار کہتے ہیں اسلامی تحریک کو کچلنے میں سب سے آگے نظر آتے ہیں تو ان مسلمانوں کو دیکھ کر یہود بھی ضرور شرما رہے ہوں گے۔
طویل سیاہ رات کوفجرکے انوارسے ختم کردینے والے پروردگار!امت پرمسلط ظلم وقہراورذلت کی سیاہ رات کواپنے نورانی اجالوں سے بدل دے آمین۔
رابطے کے لیے:bittertruth313@gmail.com

Read all Latest world news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from world and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Egypt what president sisi really thinks in Urdu | In Category: دنیا World Urdu News

Leave a Reply