چرچ پر خود کش حملے کے بعد مصر میں ایمرجنسی نافذ کر کے ملک گیر پیمانے پر فوج تعینات کر دی گئی

قاہرہ: مصر میں ایسٹر سے پہلے کے اتوار کو قبطی عیسائیوں کو نشانہ بنا کر کئے گئے حملوں کے بعد صدر عبدالفتح السیسی نے ملک گیر پیمانے پر فوج تعینات کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے پورے ملک میں تین ماہ کیلئے ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان کر دیا۔ انہوں نے قومی ٹیلی ویژن پر ملک سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہتین مہینوں کی ایمرجنسی کے دوران تمام ضروری قدم اٹھائے جائیں گے۔
حملے کے بعد حکومت نے ملک میں تین روزہ قومی سوگ کا بھی اعلان کیا ہے۔ واضح رہے کہ اتوار ہوئے ان دھماکوں میں 45 لوگ مارے گئے۔ سرکاری میڈیا کے مطابق قبطی چرچ کے سربراہ پوپ ٹاواڈروس ٹو بھی یہاں کی مذہبی تقریب میں شریک ہوئے تھے تاہم وہ محفوظ ہیں۔ پوپ فرانسس اس ماہ کے بعد مصر جانے والے ہیں۔ انہوں نے ان حملوں کی مذمت کی ہے۔ ایمرجنسی کے نفاذ سے حکام کو یہ اختیار مل جائے گا کہ وہ بغیر وارنٹ کے کسی کے بھی گھر کی تلاشی لے سکیں گے۔ اس صدارتی فرمان کے نفاذ کے لیے پارلیمنٹ سے منظوری لینا ضروری ہے۔ دہشت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ فی العراق و الشام (داعش) کا کہنا ہے کہ طنطا اور سکندریہ میں ہونے والے دھماکے اس نے کیے ہیں۔
اس گروہ نے مصر میں حالیہ حملوں کے بعد مزید حملے کرنے کی دھمکی دی تھی۔ صدر السیسی نے قومی دفاعی کونسل کے اجلاس کے بعد سخت تقریر کی۔ انھوں نے خبردار کیا کہ جہادیوں کے خلاف ’طویل اور ہولناک جنگ‘ ہو گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں ایمرجنسی کا نفاذ تمام قانونی اور آئینی اقدامات کرنے کے بعد کیا جائے گا۔ خیال رہے کہ پارلیمنٹ میں اکثریت صدر کی حامی ہے۔ حالیہ برسوں میں قبطی مسیحیوں پر اس وقت سے جب سے کہ 2013 میں فوج نے منتخب صدر محمد مرسی کا تختہ پلٹ کر اسلام پسندوں کے خلاف کاروائیاں شروع کی ہیں حملے بڑھ گئے ہیں۔ خیال رہے کہ گذشتہ سال دسمبر میں قاہرہ میں ایک چرچ میں ہونے والے دھماکے میں 25 افراد ہلاک ہو گئے تھے جبکہ فروری میں داعش کے انتہا پسندوں نے قبطی مسیحی برادری، جو کہ مصر کی دس فیصد آبادی پر مشتمل ہے، کو خبردار کیا تھا کہ انھیں مزید حملوں کے ذریعے نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ حالیہ حملہ مسیحی کلینڈر کے مطابق اس مقدس دن کیا گیا ہے جب یسوع مسیح فتح کے ساتھ یروشلم میں داخل ہوئے تھے۔
داعش کا کہنا ہے کہ اس کے دو خودکش بمباروں نے یہ حملے کیے ہیں۔ ایک نے سینٹ جارج قبطی گرجا گھر کو طنطا کے شمال میں نشانہ بنایا۔ محکمہ صحت کے مطابق وہاں 27 افراد ہلاک ہوئے۔ اس کے کچھ ہی گھنٹوں کے بعد سینٹ مارک نامی قبطی گرجا گھر کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب پولیس نے خودکش حملہ آور کو اس میں داخل ہونے سے روکا۔ حکام کا کہنا ہے کہ حملہ آور نے چرچ کے باہر خود کو دھماکہ خیز مواد سے اڑالیا جس میں پولیس افسران سمیت 17 افراد ہلاک ہوئے۔

Read all Latest world news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from world and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Egypt facing state of emergency after palm sunday church bombings in Urdu | In Category: دنیا World Urdu News

Leave a Reply