سول سوسائٹی نے انسانی حقوق اور سیاسی آزادی کی نفی کا پردہ چاک کیا اور اکثر جمہوری اداروں میں فوج نے گھناؤنا کردار ادا کیا: ڈیموکریسی فورم سمینار میں مقررین کا خیال

لندن: (مرتضیٰ علی شاہ) لندن میں منعقدہ ایک حالیہ کانفرنس میں اس اصول پر بحث کی گئی کہ کیا فوجی زعما کے زیر اثر اقتصادی اور سیاسی اثرات کبھی بھی دنیا میں جمہوریت سے بہترہو سکتے ہیں۔ڈیموکریسی فورم نے لندن کے سینٹ جیمز کورٹ ہوٹل میں پوری دنیا میںطاقتور فوجی اداروں کے جمہوریت پر اثرات پر بحث کے لیے ماہرین کا ایک پینل کا اہتمام کیا۔
لارڈبروس نے کہا کہ یہ بات واضح ہے کہ دنیا بھر میں جمہوری اداروں کی معطلی میں بعض اوقات فوج نے گھناؤنا کردار ادا کیا۔ انہوں نے حقوق انسانی اور سیاسی سوسائٹی کے گروپوں کے کردار کی تعریف کی۔
ہمفرے باکسلے نے جمہوریت کے لیے مغربی اسپانسرڈ عبوری دور کا آغاز کیاجو ناکام رہا۔فوجی کمنٹیٹر ڈاکٹر حامد حسین نے ترک فوج کی شکست کا حوالہ دیااور فوج کے اس تصور کی وضاحت کی جس کے مطابق وہ خود کو ایک بیمار بچے کا علاج کرنے والا ڈاکٹرتصور کرتا ہے۔
سرے یونیورسٹی کے ڈاکٹر ڈیوڈ بریٹر نے فوجی حکومت سے جمہوریت کی طرف میانمارکی پیش رفت کو اوپر سے نیچے آنے سے تعبیر کیا۔ لیبر ایم پی ڈاکٹر روسینا ایلن خان نے میانمار کے موضوع پر خیالات کا اظہار کیا۔ جبکہ زیڈ احمد فاؤنڈیشن کے ڈاکٹر پرویز ہود بھائی نے ، جو زہرہ اور فرمان کرسچین کالج کے معروف پروفیسر ہیں،جنوبی ایشیا میں فوج کے کردار پر تبادلہ خیالات کیا۔انہوں نے فنانشیل ٹاسک فورس کی جانب سے پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کیے جانے سے مالیاتی حلقوں کی پریشانی کا ذکر کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاک فوج نے انتہاپسندوں کی طاقت کا خاتمہ کر کے ان کی کمر توڑدی ہے۔ سابق صحافی اور مصنف مائرہ مک ڈونالڈ نے پاک بھارت تعلقات پر تبصرہ کیا۔ ڈاکٹر عائشہ صدیقہ نے مصر کے حوالے سے کہا کہ مل بس کا غلط اندازہ لگایا گیا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس طرح کی سرگرمیاں فوجی اہلکاروں کی بہبود اور مسلح افواج کے مفاد کے تحت کی جاتی ہیں۔ اور اس سے فوجی ترقی میں بھی مدد ملتی ہے۔ڈاکٹر صدیقہ نے مصر میں فوج کے کردار ، ناصر کی جانب سے سوشلزم نافذ کرنے کے لیے ابتدائی طور پر طاقت کے استعمال ، معیشت کے تمام شعبوں میں فوج کی مداخلت کے بڑھتے رجحان اور کرپشن میں اضافہ پر بات کی۔

Title: economic and political power of the military its impact on | In Category: دنیا  ( world )

Leave a Reply