امریکی و برطانوی فوج کے انخلا کے بعد ایک سال میں 15ہزار افغان ہلاک

لندن: ایک سروے کے مطابق جب سے امریکی و برطانوی فوج افغانستان کے عوام کی سلامتی کی ذمہ داری افغان سلامتی دستوں پر چھوڑ کر ملک سے گئی ہے افغانستان میں خانہ جنگی نے بھیانک شکل اختیار کر لی ۔ اور صرف ایک سال کے دوران وہاں دہشت گردانہ حملوں میں تقریباً15ہزار افراد ہلاک ہو گئے۔ اگرچہ شام کی خانہ جنگی نہایت خونریز کہی جاتی ہے جہاں خانہ جنگی کے دوران 55ہزار افراد ہلاک ہوئے تاہم افغانستان کو 2015میں دنیا کے کسی بھی جنگ زدہ علاقہ میں سب سے زیادہ جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
برطانیہ اور امریکہ نے2013میں افغانستان سے اپنے کم و بیش تمام فوجی دستے واپس بلا لیے تھے اور افغانستان میں سیکورٹی کی ذمہ داری نئی فوجی و پولس فورس کو سونپ دی تھی۔2013میں طالبان کی دہشت گردی میں 3500افراد ہلاک ہوئے تھے۔جبکہ 2015میں یہ تعداد تقریباً5گنا ہو گئی۔
انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار اسٹریٹجک اسٹڈیز (آئی آئی ایس ایس ) کے سروے کے مطابق برطانوی اور امریکی فوجوں کے انخلا کے بعد طالبان افغانستان میں دندناتے پھر رہے ہیں اور انہوں نے مزید کئی علاقوں پر اپنا تسلط قائم کر لیا اور اب صورت حال یہ ہے کہ 2001میں اقتدار سے بے دخلی کے وقت ان کے زیر تسلط جتنا رقبہ تھا اب اس سے کہیں زیادہ ان کے زیر کنٹرول آگیا ہے۔آئی آئی ایس ایس کے طابق یہ صورت حال مغربی فوج کے انخلا کے باعث پیدا ہوئی ہے۔

Read all Latest world news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from world and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Death toll rises in afghanistan since departure of western combat troops in Urdu | In Category: دنیا World Urdu News

Leave a Reply