سعودی عرب پر مقدمے کا بل ، امریکی کانگریس نے صدر براک اوباما کا ویٹو مسترد کردیا

واشنگٹن: (رائٹر) امریکی کانگریس نے 11 ستمبر 2001 کے دہشت گردانہ حملوں کے معاملہ پر سعودی عرب کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی اجازت سے متعلق بل پر صدر براک اوباما کا ویٹو مسترد کردیا ہے۔ اس ویٹو کے خارج ہونے سے دہشت گردی کے معاونوں کے خلاف انصاف بل اب قانون بن گیا ہے۔کل کانگریس کے دونوں ایوانوں نے واضح اکثریت سے پہلی مرتبہ صدر اوباما کے کسی ویٹو کو مسترد کیا ہے۔
اسے 11 ستمبر 2001 کے دہشت گردانہ حملوں میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کے لئے ایک اہم فتح قرار دیا جارہا ہے۔ اب تک امریکی عدالتوں میں انصاف حاصل کرنے کی ان کی کوششیں ناکام ہوتی رہی ہیں جس کا سبب سعودی عرب کو حاصل قانونی استثنٰی ہے۔دہشت گردی کے سرپرستوں سے انصاف کے حصول کا بل‘ نامی اس قانون سازی کے تحت ان بیرونی کرداروں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی اجازت دی گئی ہے جو امریکی سرزمین پر دہشت گردانہ حملوں کی سرپرستی میں ملوث خیال کئے گئے۔ حالانکہ بل میں کسی ملک کا نام نہیں لیا گیا ہے لیکن اسے عام طور سے سعودی عرب خیال کیا جا تا ہے۔ چونکہ حملہ آور طیاروں کے 19 میں سے 15 اغوا کار سعودی عرب سے تعلق رکھتے تھے اس لئے اس میں سعودی عرب کو ملوث سمجھا جاتا ہے۔
سعودی عرب حکومت اس کی سختی سے تردید کرتی رہی ہے کہ اس کا ان حملوں سے کسی بھی طرح کا کوئی تعلق ہے۔ ڈیوڈ کرینک سینئر رچرڈ بلومنتھل نے کہا کہ یہ لواحقین اپنے بہادروں سے تو کبھی نہیں مل پائیں گے لیکن انہیں ایک دن عدالت سے انصاف کے حصول کا حق ضرور حاصل ہوگیا ہے۔ وہ ہرجانہ طلب کرسکتے ہیں۔ تاہم دوسری طرف سی ا?ئی اے سربراہ جان برنین نے ایک بیان میں خبردار کیا تھا۔ اس سے امریکہ کی قومی سلامتی کو شدید نتائج کا سامنا ہوسکتا ہے۔ اوباما نے اس بل کو ویٹو کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ امریکہ کے مفاد میں نہیں ہے۔ اس طرح کا قانون بننے سے بیرون ملک امریکیوں کے خلاف مقدمات دائر کئے جاسکتے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کے ترجمان جوش ارنیسٹ نے کہا ہم سمجھتے ہیں کہ یہ درست بل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی دوسرے ملک کے مقابلے میں امریکہ دنیا بھر کے بہت سے ملکوں میں موجود ہے، اسی لئے ہمارے اقتدار اعلی کے متاثر ہونے کی صورت میں کسی دوسرے ملک کی بنسبت امریکہ کو زیادہ خدشات لاحق ہوسکتے ہیں۔ اگر ایک طرف امریکی دوسرے ملکوں کے خلاف مقدمے کریں گے تو دوسرے ملکوں کے لوگ بھی امریکی حکومت کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرسکیں گے۔
دوسری طرف سعودی حکام نے بھی کہہ دیا ہے کہ ایسے اقدام کی صورت میں اس سے پہلے کہ امریکی عدالتیں انہیں ضبط کریں،وہ امریکہ میں موجود ساڑھے سات ارب ڈالر مالیت کے خزانہ کے زر ضمانت اور دیگر اثاثہ جات انہیں نکال لے گی۔ بعض ماہرین معاشیات کا خیال ہے کہ ایسی صورت میں ملکی معیشت کو نقصان ہوگا۔ اس سے غیر ملکی تعلقات بھی متاثر ہوں گے۔

Read all Latest world news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from world and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Congress rejects obama veto of 911 bill in Urdu | In Category: دنیا World Urdu News

Leave a Reply