امن معاہدے کو کولمبیا کی عوام نے مسترد کر دیا ہے

بگوٹا(رائٹر)کولمبیا کی حکومت اور بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے فارک باغیوں کے درمیان پچاس سال تک چلنے والی گوریلا جنگ کو ختم کرنے کے لئے حال ہی میں طے پانے والے تاریخی امن معاہدے کو کولمبیا کے عوام نے مسترد کر دیا ہے، جس سے ملک میں عدم استحکام کاخدشہ بڑھ گیا ہے۔
ریفرینڈم کے نتائج کافی چونکانے والے ہیں کیوں کہ صدر یوان مینویل سانتوس اور بین الاقوامی برادری کو امید تھی کہ کولمبیا کے عوام اس امن معاہدہ کے حق میں ووٹ دیں گے۔ ریفرینڈم میں مقابلہ کافی سخت رہا اور ریفرنڈم میں 50.24 فیصد افراد نے معاہدے کے خلاف ووٹ ڈالا۔جب کہ 49.78 فیصد لوگوں نے اس کے حق میں ووٹ دیا۔ حالانکہ اس ریفرینڈم میں صرف 37فیصد ووٹروں نے حصہ لیا۔
اس نتیجے سے مسٹر سانتوس کی امن مساعی کو بھی دھچکا لگا ہے جنہوں نے ملک میں گذشتہ 52 سال سے جاری خانہ جنگی کو ختم کرنے کے لئے فارک باغیوں کے ساتھ معاہدہ کیاتھا۔
مسٹر سانتوس نے کہا کہ حکومت حکومت او رباغیوں کے درمیان پہلے سے ہی نافذ جنگ بندی آئندہ بھی جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس امن معاہدہ کے خلاف ووٹ دینے والے لیڈروں سے مل کر مستقبل کا لائحہ عمل تیار کریں گے۔ یاد رہے کہ اس امن معاہدے کے بعد کولمبیا میں گذشتہ 52 برسوں سے جاری خانہ جنگی کا خاتمہ ممکن ہے اور امید کی جا رہی تھی کہ کولمبیا کے عوام اس معاہدے کا خیر مقدم کریں گے۔
اس معاہدے کے ساتھ ہی یورپی یونین نے فارک باغیوں کو شدت پسند تنظیموں کی فہرست سے خارج کر دیا تھا اور امن سمجھوتہ نافذ ہونے کے بعد یورپی یونین نے کولمبیا کی ترقی میں مدد دینے کا اعلان کیاتھا۔
گذشتہ ماہ فارک باغیوں کے لیڈر تمانشیو اور کولمبیا کے صدر یوان مینوئل سینٹوس نے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون کے علاوہ لاطینی امریکی ممالک کے رہنما بھی اس موقع پر موجود تھے۔
آئند اگست 2018 میں اپنے دوسرے اور آخری مدت کارمکمل کرنے والے سینتوس نے کہا کہ امن معاہدہ کے خلاف ہوئے ریفرینڈم کا مطلب ہے ملک خانہ جنگی کی طرف لوٹ سکتا ہے لیکن میں ہار نہیں مانوں گا۔ اپنی مد ت کار کے آخری دن تک میں ملک میں امن قائم کرنے کے لئے کام کرتا رہوں گا۔ ملک کے بچوں کے بہتر مستقبل کے لئے یہ ضروری ہے۔ فارک کے کمانڈر تمینسکو نے بھی ہوانا میں کہا کہ بہتر مستقبل کے لئے فارک بات چیت کے راستے آگے بڑھنا چاہتا ہے۔ کولمبیا میں جو لوگ امن میں یقین رکھتے ہیں انہیں ہم پر بھروسہ کرنا چاہئے۔ بیشتر رائے شماری میں کولمبیائی شہریوں نے اس معاہدے کی حمایت کرنے کے اشارے دئے تھے۔ مسٹر سینتوس نے اس امن معاہدہ کے لئے اپنا اقتدار داو پر لگادیا تھا۔ اپوزیشن کا ماننا تھا کہ فارک باغیوں کو کچلنا ہی اس جنگ کو ختم کرنے کا واحد حل ہے۔ کولمبیائی سرکاری اور فارک باغیوں کے درمیان جنگ میں کم از کم دو لاکھ بیس ہزار لوگ مارے گئے اور لاکھوں لوگوں کو اپنے گھروں سے بے گھر ہونا پڑا۔ اس معاہدہ کے قانون بننے سے قبل اس پر ایک ریفرینڈم کرایا جانا تھا۔

Read all Latest world news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from world and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Colombia referendum voters reject peace deal with farc guerrillas in Urdu | In Category: دنیا World Urdu News

Leave a Reply