چین مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ثالث کا کردار ادا کر نے کی ادھیڑ بن میں

جموں:چین نے پہلی بار واضح طور پر کہا کہ وہ جنوب ایشیا میں ایک مستحکم طاقت اور جھگڑے میں ثالث کے طور پر اپنی ذمہ داری نبھانے کے حوالے سے ہندستان اور پاکستان کے درمیان کشمیر مسئلے کا تصفیہ کرنے کے لیے ثالث کا کردار ادا کرے گا۔ اس کا کہنا ہے کہ باہری دنیا سے اس کے اقتصادی مفادات وابستہ ہیں اور وہ اپنے مفادات کی حفاظت کے لئے اس معاملہ میں ثالثی کر سکتا ہے، اگرچہ یہ کتنا ہی مشکل کیوں نہ ہو۔ چین کے سرکاری اخبار گلوبل ٹائمز میں ایک مضمون میں کہا گیا ہے کہ چین نے دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرنے کے اصول پر عمل کیا ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے چین کی حکومت چینی صنعتکاروں کے بیرون ملک سرمایہ کاری کے تحفظ کی فریاد کو نظرانداز کر دے۔ اخبار نے کہا کہ ’ون بیلٹ ون روڈ‘ کے ساتھ مختلف ممالک میں چین کی بھاری سرمایہ کاری کے پیش نظر اب ہندستان اور پاکستان کے درمیان کشمیر مسئلہ سمیت تمام علاقائی تنازعات کے حل سے چینی مفادات وابستہ ہیں۔
چین کے پاس اس کے بڑھتے ہوئے اقتصادی اثرات کی وجہ سے تنازعات کے حل کے لیے ثالثی کی طاقت ہے۔ اس علاقے میں ہندستان جیسی بڑی طاقتوں کے ساتھ رویے میں بہت صابر اور سمجھدار ہونے کی ضرورت ہو گی۔ اخبار نے کہا کہ کشمیر مسئلے پر ہندستان اور پاکستان کے درمیان ثالثی چین کے لیے اپنے مفادات کی حفاظت کے لئے علاقائی معاملات میں مداخلت شاید سب سے مشکل چیلنجوں میں سے ایک ہوگا۔ واضح رہے کہ اخبار نے اس مضمون میں یہ اشارہ ایک بار بھی نہیں دیا کہ کشمیر مسئلے میں ثالثی کیلئے ہندستان کی منظوری کی اس کے لیے کوئی اہمیت ہے۔ مضمون سے ایسا لگتا ہے گویا چین نے کشمیر مسئلے میں ہر حال میں ثالثی یعنی مداخلت کرنے کی تیاری شروع کر دی ہے۔ واضح رہے کہ چین نے چین پاکستان اقتصادی راہداری میں، جو پاک مقبوضہ کشمیر بشمول گلگت سے گذرتی ہے ،54ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔چین گلگت بلتستان اور پاک مقبوضہ کشمیر کے دیگر علاقوں میں اپنے مزدوروں کے تحفظ کے لیے پہلے ہی اپنے فوجیوں کو تعینات کر چکا ہے۔

Title: chinese daily sees beijings role as mediator on kashmir | In Category: دنیا  ( world )

Leave a Reply