امریکہ جنوبی بحیرہ چین کے متنازعہ جزیروں کی تاریخ دوبارہ پڑھے:چینی خارجہ ترجمان کی تلقین

بیجنگ:چین نے امریکہ کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسے جنوبی بحیرہ چین کے متنازعہ جزیروں کے سلسلے میں تاریخ کی اپنی معلومات کو دہرا لینا چاہیے کیونکہ دوسری عالمی جنگ کے دوران ہوئے معاہدوں میں چین کو یہ حق دیا گیا تھا کہ جاپان نے جن علاقوں پر قبضہ کیا تھا ان پر چین کا اختیار ہوگا۔ قابل ذکرہے کہ متنازعہ جزیروں پر نئے امریکی انتظامیہ کے تبصرے سے چین بر افروختہ ہے۔ امریکہ کے وزیرخارجہ ریکس ٹلرسن نے پارلیمنٹ میں حال ہی میں کہا تھا کہ چین کا ان جزیروں پر کوئی حق نہیں ہونا چاہیے۔
اس کے علاوہ وائٹ ہاؤس نے جنگی نوعیت سے نہایت اہم اس آبی علاقے میں ”بین الاقوامی علاقوں“کی حفاظت کرنے کا عزم بھی ظاہر کیا ہے۔ گزشتہ ہفتے امریکی وزیر دفاع جم میٹس نے مشورہ دیا تھا کہ جنوبی بحیرہ چین کے معاملے میں سفارتی موضوعات کو ترجیح دی جانی چاہئے۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان وانگ یی نے آسٹریلیا کے دارالحکومت کینبرا میں کل کہا،”میری امریکی دوستوں کو صلاح ہے کہ دوسری عالمی جنگ کے سلسلے میں اپنی معلومات کو دہرا لیں۔“ انہوں نے کہا کہ 1943 کے قاہرہ منشور اور 1945 پورٹس ڈیم معاہدے میں صاف کہا گیا ہے کہ جاپان نے جن چینی علاقوں پر قبضہ کیا تھا وہ اسے چین کو لوٹانے ہوں گے۔اس میں نانسا جزیرہ بھی شامل ہے۔
وانگ نے کہا کہ 1946میں اس وقت کی چینی حکومت نے امریکہ کی مدد سے قانونی التزامات کے مطابق نانسا جزیروں کوجاپان سے واپس لیا تھا اور وہ چین کے خود مختار علاقے تھے۔اس کے کچھ وقت بعد چین کے کچھ پڑوسی ملکوں نے نانسا جزیروں اور ریف علاقوں پر غیرقانونی طریقے سے قبضہ کرلیا اور اسی کی وجہ سے یہ نام نہاد جنوبی بحیرہ چین تنازعہ پیدا ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تاریخی حقائق اور بین الاقوامی قانون کے مطابق چین متعلقہ فریقوں کے ساتھ براہ راست بات چیت کےلئے پرعزم ہے تاکہ اس مسئلہکا پر امن طریقے سے حل نکالا جاسکے تاہم یہ بھی کہا کہ چین کے رخ میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔ قابل ذکر ہے کہ جنوبی بحیرہ چین کے زیادہ تر حصوں پر چین اپنا دعویٰ کرتا ہے جبکہ پڑوسی ملک تائیوان،ملائیشیا،ویتنام ،فلپائن اور برونائی اس علاقے کے کچھ حصوں پر اپنا دعویٰ کررہے ہیں جو نہ صرف اسٹریٹجک نقطہ نظر سے کافی اہم ہےبلکہ وافر ماہی خزانے ،تیل اور گیس ذخائر کے لحاظ سے بھی نہایت اہم ہے۔

Title: china tells u s to brush up on south china sea history | In Category: دنیا  ( world )

Leave a Reply