سالسبری میں سابق روسی سراغرساں پر کیمیائی حملہ میں روس کانہیں ایران کا ہاتھ تھا؟

لندن: تنظیم برائے انسداد کیمیائی اسلحہ (او پی سی ڈڈبلیو)کے ایک سابق سربراہ نے ان دعوؤں کو خارج کر دیا ہے کہ سالسبری کیمیائی حملہ کے ، جس میں سابق روسی سراغرساں سرگئی اسکری پال او ان کی بیٹی جولیا اسکری پال بستر مرگ تک پہنچ گئے تھے، پس پشت روس نہیں تھا۔
سابق سربراہ ڈاکٹر رالف ٹریپ نے مزیدکہا کہ حال ہی میں پتہ چلا ہے کہ نوویچوک نام کے جس کیمیائی ہتھیار کا ان دونوں کے خلاف استعمال کیا گیا وہ کیمیائی اسلحہ روس کے پاس نہیں ایران کے پاس ہے۔
واضح رہے کہ برطانیہ کی جانب سے اس حملہ کا روس کو مورد الزام ٹہرائے جانے کے بعد امریکہ،یورپ اور کئی دیگر ممالک نے روسی سفارتکاروں کا اجتماعی اخراج شروع کر دیا تھا۔
تنظیم برائے انسداد کیمیائی اسلحہ کی سائنسی شوریٰ نے کہاکہ ابھی تک ایسی کوئی شہادت نہیں ملی ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ حملہ روس نے کیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان کے پاس ایسی اہم اطلاعا ت ہیں جس سے صاف پتہ چل جاتا ہے کہ 2016کے اواخر میں ایرانی سائنسدانوں نے بڑی سنجیدگی سے یہ تحقیق شروع کر دی تھی کہ کیا بازار میں دستیاب اجزاءسے نوویچوکس تیار کی جاسکتی ہے۔
ایران نے یہ ساری تحقیق او پی سی ڈڈبلیو کے تعاون سے کی تھی اور اس نے اس کے نتائج سے فوراًہی او پی سی ڈڈبلیو کو مطلع کر دیا تھا تاکہ اسے بھی کیمیائی اسلحہ کے زمرے میں شامل کر لیا جائے۔

Title: chemical weapons experts rebut claims that russia was behind skripal attack | In Category: دنیا  ( world )

Leave a Reply