امیرجماعت اسلامی بنگلہ دیش مطیع الرحمٰن نظامی کو پھانسی دے دی گئی

ڈھاکہ: بنگلہ دیش کی جماعت اسلامی کے امیر 73سالہ مولانا مطیع الرحمٰن نظامی کو 1971کی جنگ آزادی کے دوران مبینہ نسل کشی اور دیگر جرائم میں ڈھاکہ کی سینٹرل جیل میں بدھ کو صبح صادق سے تھوڑی دیر قبل پھانسی دے دی گئی۔
وزیر قانون انیس الحق نے کہا کہ جنگ آزادی کے دوران مبینہ طور پرنسل کشی، ریپ اور دانشوروں کی خونریزی کے جر م میں دی گئی سزائے موت کے خلاف ان کی اپیل سپریم کورٹ سے خارج ہونے کے بعد مولانا نظامی کو پھانسی پر چڑھا دیا گیا۔ 73سالہ نظامی کو حزب اختلاف کی رہنما خالدہ ضیا کے دور وزارت عظمیٰ میں ممبر پارلیمنٹ اور وزیر تھے، 2014میں موت کی سزا سنائی گئی تھی۔
جنگ آزادی میں شامل ایک بزرگ اکرم حسین نے کہا کہ ہم اس سزائے موت کے45سال سے منتظر تھے۔چونکہ اس سے پہلے اس قسم کے فیصلوں اور پھانسیوں کے بعد وسیع پیمانے پر تشدد پھوٹ پڑا تھا اور200سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے اس لیے حکومت نے حالات قابو میں رکھنے کے لیے پھانسی کے وقت اور اس کے بعد ڈھاکہ اور دیگر بڑے شہروں میں ہزاروں اضافی پولس اور باڈی گارڈزتعینات کر دیے گئے۔جماعت اسلامی نے نظامی کو ایک شہید بتاتے ہوئے کہا کہ انہین نصاف سے محروم رکھا گیا اور سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا۔

Read all Latest world news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from world and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Bangladesh ji leader hanged in dhaka in Urdu | In Category: دنیا World Urdu News

Leave a Reply