بنگلہ دیشی عدالت میں اسلام کی سرکاری مذہب کی حیثیت ختم کرنے کی درخواست خارج

ڈھاکہ:بنگلہ دیش کی ہائی کورٹ نے سیکولر کارکنوں کی وہ عذر داری خارج کر دی جس میں کہا گیا تھا کہ اسلام کی سرکاری مذہب کی حیثیت ختم کر دی جائے۔اس کیس میں سیکولر کارکنان کی نمائندگی کرنے والے سبروتو چودھری نے کہا کہ عدال کے فیصلے سے وہ بہت دکھی اور مایوس ہیں۔
عدالت اس رٹ پٹیشن کی سماعت کر رہی تھی جو 28سال پہلے دائر کی گئی تھی۔ جس میں اس آئینی ترمیم کو چیلنج کیا گیا تھا جس کی رو سے اسلام کو ملک کے سرکاری مذہب کی حیثیت دی گئی تھی۔اسلام کو ملک کا سرکاری مذہب بنانے کا قدم فوجی حکمراں جنرل ایچ ایم ارشاد کے دور میں اٹھایا گیا تھا اور آئین میں 8ویں ترمیم کرتے ہوئے 9جون1988کو اسلام کو بنگلہ دیش کا سرکاری مذہب بناد یا گیا تھا۔
اس ترمیم کو فوراً ہی ایک رٹ پٹیشن کے توسط سے چیلنج کیا گیا تھا۔۔عدالت نے اس عذر داری پر پہلی بار2011میں سماعت کی اور حکومت سے وضاحت مانگی کہ کیوںنہ آئی کی وہ 8ویں ترمیم کو، جس کی رو سے اسلام کو ملک کا با قاعدہ سرکاری مذہب قرار دیا گیا ہے،کالعدم قرار دے دیا جائے۔لیکن حکومت نے عدالت کے اس سوال کا کوئی جواب نہیں دیا۔اور15ویں آئینی ترمیم کر کے اسلام کی سرکاری مذہب کی حیثیت برقرا رکھی۔

Read all Latest world news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from world and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Bangladesh court rejects move to scrap islam as state faith in Urdu | In Category: دنیا World Urdu News

Leave a Reply