ہم جنس پرستی مخالف عالم دین کو افطار و کھانے پر مدعو کرنے پر آسٹریلیائی وزیر اعظم کا اظہار افسوس

سڈنی:آسٹریلیا کے وزیر اعظم میکوم ٹرن بل نے کہا ہے کہ اگر انہیں آسٹریلیائی نیشنل امام کونسل کے صدر شیخ سعدی السلیمان کی ہم جنس پرستی کے خلاف وعظ کا پہلے ہی سے علم ہوتا تو وہ کبھی بھی افطار اور کھانے پر انہیں مدعو نہ کرتے۔واضح رہے کہ مسٹر ٹرنبل افطار کرنے والے پہلے آسٹریلیائی وزیر اعظم ہیں۔
انہوں نے جن75مہمانوں کو جن میں اکثریت مسلمانوں کی تھی، افطار اور رکھانے پر مدعو کیا تھا ان میں شیخ سعدی السلیمان بھی شامل تھے۔ایک آسٹریلیائی اخبار نے خبر شائع کی تھی کہ السلیمان نے 2013میں سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کیے گئے ایک خطبہ میں کہا تھا کہ ہم جنس پرستی ایک قبیح اور ایسا نہایت درجہ مکروہ فعل ہے جس سے معاشرہ پر بہت برے نتائج مرتب ہوں گے۔
ٹرن بل نے کہاکہ السلیمان کے بارے میں انہیں ڈنر کے دوران اس وقت علم ہوا جب ایک آسٹریلیائی صحافی نے وزیر اعظم کی میڈیا ٹیم سے رابطہ کیا۔السلیمان نے فوری طور پر اس پر ردعمل ظہار نہیں کیا لیکن 10نیٹ ورک ٹیلی ویژن کو دیے گئے اپنے انٹرویو میں وہ اپنے موقف پر اٹل رہے۔انہوں نے کہا انہوں نے جو کچھ بھی کہا وہ اسلامی احکام کے عین مطابق ہے، گناہ کبیرہ ہے اور قطعاً ناقابل قبول جرم ہے۔

Title: australian prime minister regrets inviting anti gay cleric | In Category: دنیا  ( world )

Leave a Reply