چین کے ساتھ حوالگی معاہدے کی توثیق کے لیے آسٹریلیائی پارلیمنٹ میں ووٹنگ منسوخ

سڈنی: آسٹریلیا نے چین کے ساتھ حوالگی معاہدہ کی، جس پر دس سال پہلے دستخط کیے جاچکے تھے، توثیق کے لیے پارلیمنٹ میں ہونے والی ووٹنگ کو منسوخ کر دیا ۔ اس معاہدے پر چین کے وزیر اعظم لی کیقیانگ کے حالیہ آسٹریلیا دورے کے دو دن کے بعد پارلیمنٹ میں ووٹنگ ہونی تھی لیکن اپوزیشن کی مخالفت کے سبب اسے منسوخ کر دیا گیا۔ معادہ کی توثیق نہ ہونے سے چین کی ان بدعنوان لوگوں کی، جو اپنے اثاثہ جات لے کر بیرون ملک جا بسے ہیں، پکڑ دھکڑ کی کوششوں کوزبردست دھچکا لگا ہے ۔
آسٹریلیا کے وزیر اعظم میلکم ٹرنبل کے ترجمان نے کہا کہ پارلیمنٹ کے ایوان بالا (سینیٹ) میں اپوزیشن کی اکثریت ہے اور حزب اختلاف کے رہنماؤں نے پہلے ہی واضح کر دیا تھا کہ وہ اس معاہدے کی حمایت نہیں کریں گے جس کے بعد سینیٹ میں ہونے والی ووٹنگ کو منسوخ کر دیا گیا۔ کیونکہ حزب اختلاف کا موقف تھا کہ حقوق انسانی کے حوالے سے چین کا ریکارڈ اچھا نہیں ہے اورچین کے خراب انسانی حقوق کے ریکارڈ کے باعث ہی آسٹریلیا میں اس معاہدے کی پارلیمانی توثیق کی سیاسی سطح پر مخالفت ہو رہی ہے۔
اس معاہدے کے ذریعے چین ملک میں بدعنوانی کرکے بیرون ملک فرار ہونے والے اپنے شہریوں کے خلاف گرفتاری جیسی کارروائی کر سکتا ہے۔ وزیر خارجہ جولی بشپ نے صحافیوں کو بتایا ”چین کے ساتھ یہ معاہدہ کرنا ہمارے قومی مفاد میں ہے۔ ہم اپنے چینی دوستوں سے مزید تفصیل سے بات کریں گے اور فیصلہ کریں گے کہ کیا کرنا ہے“۔ اگر آسٹریلیا میں یہ حوالگی معاہدہ لاگو ہوتا ہے تو وہ فرانس اور اسپین جیسے ممالک میں شامل ہو جائے گا جن کے ساتھ چین نے ایسے معاہدے کئے ہیں۔

Read all Latest world news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from world and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Australia cancels vote on extradition treaty with china in Urdu | In Category: دنیا World Urdu News

Leave a Reply