روہنگیا مسلمانوں کے معاملہ پر میانمار حکومت عالمی دباؤ میں نہیں آئے گی: آنگ سان سوچی

یانگون: (یو این آئی) روہنگیا کمیونٹی کے لوگوں کے خلاف جاری پرتشدد کارروائی پر چوطرفہ تنقید کا سامنا کر نے والی میانمار کی اسٹیٹ کونسلر آنگ سان سو چی نے اس معاملے پر اپنی خاموشی توڑتے ہوئے آج قوم سے اپنے خطاب میں کہا کہ ان کا ملک تنقیدوں اور کسی بھی قسم کی باز پرس سے ڈرنے والا نہیں ہے اور کسی بھی صورت میں ملک کی سلامتی سے سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ روہنگیا بحران پر وہ عالمی دباؤ میں نہیں آئیں گی اور ان کی حکومت ملک کے استحکام اور قانون کی حکمرانی کے لئے پابند عہد ہے۔ سوچینے کہا کہ میانمار نے راخین میں امن قائم کرنے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن روہنگیا کمیونٹی لوگوں نے پولس چوکیوں اور بے گناہ لوگوں پر حملے کئے۔ میانمار دہشت گردی سے لڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بے گھر ہونے والے لوگوں کے لئے ہمیں دکھ ہے اور فوج کی کارروائی کے دوران اگر کسی طرح انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوئی ہے تو اس کی جانچ کرائی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ مجرم لوگوں کے خلاف سخت کارروائی بھی کی جائے گی۔ آنگ سان سوچی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت کے لئے اپنا دورہ منسوخ کردیا ہے، جہاں روہنگیا بحران پر بحث چل رہی ہے۔ انہوں نے قومی سطح پر نشر ہونے والے اپنے خطاب میں کہا کہ “میانمار حکومت کا ارادہ کسی بھی طرح تنقید سننے کا نہیں ہے اور نہ ہی ہم ذمہ داری سے ہاتھ کھینچ رہے ہیں۔ ہم اپنے ملک میں ہر طرح کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور غیر قانونی تشدد کی مذمت کرتے ہیں۔ سوچی نے کہا کہ “ہم پورے ملک میں امن و استحکام اور قانون کی حکمرانی بحال کرنے کے لئے پابند عہد ہیں”۔ ملک بھر سے بھگائے جا رہے روہنگیا مسلمانوں کے معاملے پر محترمہ سو کی نے کہا کہ 70 سال سے ملک کو امن و استحکام کی ضرورت تھی۔ انہوں نے کہا کہ راخین میں امن قائم کرنے کے لئے ایک کمیٹی بنائی گئی ہے جس کی قیادت کے لئے اقوام متحدہ کے سابق سکریٹری جنرل کوفی عنان کو مدعو کیا گیا ہے۔
جنوبی میانمار کے راخین میں گزشتہ 25 اگست کو اراکا ن روہنگیا سلویشن آرمی کے حملے میں 12 لوگوں کی موت کے بعد میانمار فوج کی پرتشدد جوابی کارروائی پر ، جو ابھی تک جارہی ہے، سوچی کا یہ پہلا خطاب تھاجس کو سننے کے لئے آج صبح کثیر تعداد میں لوگ رنگون اور دوسرے شہروں میں بڑی ٹی وی اسکرین کے سامنے ہمہ تن گوش نظر آئے۔ ایک طرف حقوق انسانی کی تنظیموں اور متعدد ممالک نے حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں کو روکنے اور مظلوم روہنگیا آبادی کی طرف سے آواز اٹھانے کے لئے اپنے عہدے کا استعمال کرنے میں ناکام رہنے پر آنگ سان سوکی شدید تنقید کی ہے، تو دوسری طرف چین نے قومی سلامتی کے تحفظ کے لئے میانمار حکومت کی کوششوں اور راخین میں پرتشدد واقعات کے خلاف فوجی کارروائی کی حمایت کی ہے۔
روہنگیا آبادی کےخلاف بڑے پیمانے پر فوج کی وحشیانہ کارروائی کے پیش نظر اقوام متحدہ کو اسے ‘منظم نسل کشی’ کا نام دینا پڑا ہے، کیونکہ اس کارروائی میں بڑے پیمانے میں قتل عام ہوا ہے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ گزشتہ ہفتہ ہندوستان نے راخین کی صورتحال سے آپسی مفاہمت سے نمٹنے اور شہری آبادی کے ساتھ ہی فوج کی بہبود پر توجہ دینے کو کہا تھا۔ ہندوستان میں بنگلہ دیش کے ہائی کمشنر سید معظم علی نے 9 ستمبر کو ہندوستان کے خارجہ سکریٹری ایس جے شنکر سے ملاقات کرکے روہنگیا پناہ گزینوں کے مسئلے پر اپنے ملک کے موقف کی وضاحت کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ کثیر تعداد میں پناہ گزینوں کے آنے سے بنگلہ دیش کے لئے مشکلات پیدا ہورہی ہیں۔ بنگلہ دیش میں روہنگیا آبادی کو پناہ دیا گیا ہے، لیکن اس میں بین الاقوامی برادری کی مدد کی ضرورت ہے۔ عالمی براردری کو آگے آنا چاہئے اور روہنگیا بحران کو حل کرنے کے لئے میانمار پر دباؤ ڈالنا چاہئے۔

Read all Latest world news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from world and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Aung san suu kyi breaks silence on rohingya crisis myanmar does not fear scrutiny in Urdu | In Category: دنیا World Urdu News

Leave a Reply