عراقی پارلیمنٹ میں زبردست ہنگامہ کے بعد کابینہ کے اراکین کے انتخاب کے لیے ووٹنگ منسوخ

بغداد: عراق کی پارلیمنٹ میں اس وقت مچھلی بازار کا سماں پیدا ہو گیا جب وزیر اعظم عدیل عبد المہدی کی کابینہ کے باقی اراکین کے لیے مجوزہ ووٹنگ پر ممبران پارلیمنٹ ایک دوسرے سے الجھ پڑے اور چیخ پکارکر کے آسمان سر پر اٹھا لیا۔

مبران پارلیمنٹ نے عبد المہدی کے تجویز کردہ امیدواروں کی زبردست مخالفت کی اور میزوں کو تھپتھپا کر ”ناجائز“ ناجائز“ کی گردان شروع کر دی۔

اس بائیکاٹ کے باعث، جس میں معروف عالم دین مقتدی الصدر اور ان کے حلیفوں کی قیادت والا گروپ پیش پیش تھا،پارلیمنٹ اور دو اہم وزارتیں مفلوج ہو گئی ہیںجس سے بغداد اور ملک کے جنوبی صوبوں میں عدم استحکام کی صورت حال پیدا ہو گئی ۔

ممبران پارلیمنٹ کے درمیان گرما گرمی نے عبد المہدی کو کابینہ کی تکمیل کے لیے ووٹنگ منسوخ کرنے اور اپنے امیدواروں کے ساتھ پارلیمنٹ کی عمارت سے نکلنے پر مجبور کر دیا۔

در اصل داخلہ اور دفاع کی وزارتیں تنازعہ کی اصل جڑ ہیں ۔اس پر دو بڑے شیعہ قیادت والے پارلیمانی بلاکوں ریفارم اور ایرانی حمایت یافتہ البینا کے درمیان ہفتوں پہلے تنازعہ ہو گیا تھا۔ ریفارم کی قیادت مقتدی الصد رکر ہے ہیں اور البینا کی قیادت بدر تنظیم کے سربراہ ہادی الامیری کر رہے ہیں۔

الصدر اور ان کے اتحادیوں نے البینا کے نامزد کردہ سابق قومی سلامتی مشیر فالی الفیاض کو ایران کا امیدوار کہہ کر مسترد کر دیا جبکہ صدام حسین کے اسپیشل اسکواڈرن کے ایک سابق کمانڈرفیصل فنار الجربہ کو الامیری کے سنی حلیفوں نے مسترد کر دیا۔

Read all Latest world news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from world and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Angry clashes force iraqi pm to cancel cabinet vote in Urdu | In Category: دنیا World Urdu News
What do you think? Write Your Comment