القاعدہ کمانڈر ابو الفراج المصری امریکی ڈرون حملے میں ہلاک

عمان:شام میں سرگرم تنظیم فتح الشام محاذ ’جفش‘ کا ایک اہم کمانڈراور جہادی رہنما ابو الفراج المصری جن کا اصل نام احمد سلمان مبروک عبدالرازق امریکی ڈرون حملے میں ادلب میں ہلاک ہوگیا۔یہ اطلاع مذکورہ گروپ اور جہادی ذرائع نے دی ہے۔ ابو محمد الشامی نامی ایک جہادی کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ شیخ ابو الفراج المصری اس وقت ہلاک ہوگئے جب وہ باغیوں کے قبضے والے شام کے شمال مغربی علاقے ادلب میں سفر کررہے تھے۔ ان کی گاڑی کو ڈرون کا نشانہ بنایا گیا ، جس میں وہ ہلاک ہوگئے۔
’اللہ ان کی شہادت کو قبول کرے، جو صلیبیوں کے حملے میں شہید ہوگئے۔‘ مصری کو شمال مغربی شامی شہر ادلب میں الشغور پل کے قریب ڈرون طیارے کے ذریعے میزائل داغ کر ہلاک کیا گیا۔ خیال رہے کہ فتح الشام محاذ ماضی میں القاعدہ کا حصہ سمجھی جاتی رہی ہے مگر چند ماہ پیشتر تنظیم نے القاعدہ سے اپنا ناطہ توڑ لیا تھا اور تنظیم کا نام بھی النصرہ محاذ سے تبدیل کر کے فتح الشام محاذ رکھ لیا تھا۔ دریں اثنا امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ شام میں القاعدہ کے ایک اہم کمانڈر کو فضائی حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ حکام اس حملے کے نتائج پر غور کررہے ہیں۔پینٹاگون کے نیول کیپٹن جیف ڈیویز نے بتایا کہ ہم شام میں القاعدہ تنظیم سے وابستہ ایک اہم جنگجو کمانڈر کو نشانہ بنائے جانے کی تصدیق کرسکتے ہیں مگر فی الحال اس کے نتائج کے بارے میں حتمی طورپر کچھ نہیں کہا جا سکتا ہے۔ ابو الفراج المصری کا تعلق مصر سے ہے اور اس کا اصل نام احمد سلمان مبروک عبدالرازق بتایا جاتا ہے۔
ابو فرج المصری البانیا سے واپسی پر مصر میں گرفتار ہوا اور اسے عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ سابق معزول صدر محمد مرسی نے صدارتی فرمان کے ذریعے قیدیوں کی معافی کے دوران المصری کی سزا بھی معاف کردی تھی۔ رہائی کے بعد اس نے القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے مصر میں انصار بیت المقدس نامی تنظیم تشکیل دی۔ یہ گروپ اس وقت مصری فوج کے خلاف نبرد آزما ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ رہائی کے بعد ابو المصری نے دیگر انتہا پسند ساتھیوں سے رابطہ کیا۔ اپنا اثرو رسوخ استعمال کرتے ہوئے اس نے توحید والجہاد، کتائب الفرقان، تنظیم رایات السودا کو متحد کرکے انہیں ’انصار بیت المقدس‘ کے پرچم تلے جمع کیا۔ اس گروپ سے وابستہ عناصر مصری فوج پر کئی قاتلانہ حملے کرچکے ہیں۔ تاہم ابو فرج المصری خود اس گروپ سے نکل کر شام چلا گیا جہاں اس نے النصرہ فرنٹ میں شمولیت اختیار کی تھی۔
.ذرائع کا کہنا ہے کہ ابو فرج المصری افغانستان میں بھی لڑائی میں شریک رہ چکا ہے۔ مصر کے سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ابو فرج المصری 1956میں پیدا ہوا۔ اس نے سنہ 1970 کے عشرے میں جہادی تنظیم قائم کی۔ اس کا نام مقتول صدر انور سادات کے قاتلوں میں بھی لیا جاتا رہا ہے۔ مصر میں جہاد الکبریٰ نامی کیس میں مبروک کو سات سال قید کیس سزا سنائی گئی تھی۔ رہائی کے بعد وہ افغانستان چلا گیا۔ 1998ء میں اس نے خود کو مصری حکام کے حوالے کردیا، جہاں ایک فوجی عدالت نے اس کے خلاف مقدمہ چلایا اور اسے 18 اپریل 1999کو اسے فوجی عدالت سے عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ قاہرہ یونیورسٹی سے زراعت کے شعبے میں گریجویشن کرنے والے ا ابو الفراج المصری ابتدا میں ایک سماجی کارکن کے طور پر مشہور ہوئے۔ مصرمیں سرگرم تنظیم الجہاد کے رہ نما محمد عبدالسلام ابو الفراج کے ساتھ بھی اس کے گہرے مراسم رہے۔ یہیں سے اس نے شدت پسندانہ راستہ اختیار کیا۔

Read all Latest world news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from world and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Al qaeda commander abu al faraj al masri killed in u s drone strike in Urdu | In Category: دنیا World Urdu News
What do you think? Write Your Comment