افغان صدر اشرف غنی نے وزیر دفاع و فوجی سربراہ کا استعفیٰ منظور کر لیا

کابل: افغانستان کے صدر اشرف غنی نے شمالی شہر مزار شریف کے ایک فوجی اڈے پر طالبان حملے کے بعد وزیر دفاع اور فوج کے سربراہ کا استعفی آج منظور کر لیا۔افغان صدر دفتر کے ذرائع کے مطابق افغانستان کے وزیرِ دفاع اور ملک کی برّی فوج کے سربراہ نے طالبان کے حملے میں درجنوں فوجیوں کی ہلاکت کے واقعے کے بعد استعفیٰٰ دے دیا تھا۔واضح رہے کہ مزار شریف میں گزشتہ ہفتے ایک فوجی اڈے پر طالبان کے حملے میں 140 سے زائد فوجی ہلاک ہوگئے تھے ، جبکہ متعدد دیگر زخمی ہو گئے تھے۔ مزار شریف کے فوجی اڈے پر طالبان کے حملے میں ہلاکتوں کی حتمی تعداد اب بھی واضح نہیں ، بعض عینی شاہدین نے رائٹر کو بتایا ہے کہ انھوں نے 165 لاشیں گنی ہیں۔یہ 2001 میں طالبان کو اقتدار سے الگ کیے جانے کے بعد سے ان کی جانب سے کیا جانے والا سب سے زیادہ ہلاکت خیز حملہ تھا۔صدارتی محل نے اپنے ٹوئٹر اکاو¿نٹ پر ایک پوسٹ میں بتایا کہ وزیر دفاع عبداللہ حبیبی اور فوج کے سربراہ قدم شاہ شہیم نے فوری طور پر استعفی دے د یئے ہیں اور صدر نے ان کا استعفیٰ قبول کر لیا ہے۔مسٹر اشرف غنی کے ترجمان شاہ حسین مرتظوی نے رائٹر کو بتایا کہ جمعہ کو مزار شریف شہر میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے کی روشنی میں اخلاقی ذمہ دای قبول کرتے ہوئے استعفیٰ دیا ہے۔دریں اثنا چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ کے دفتر کے ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر اشرف غنی نے طارق شاہ بہرامی کو وزراتِ دفاع کا نگراں وزیر جبکہ شریف یفتلی کو نیا فوجی سربراہ تعینات کیا ہے۔

Read all Latest world news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from world and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Afghan defence minister army chief of staff resign over military base attack in Urdu | In Category: دنیا World Urdu News

Leave a Reply