داعش اور اتحادی فضائی کارروائیاں افغانستان میں بے قصور مارے جانے والوں کی تعداد میں اضافہ کا اصل سبب

کابل:افغانستان میں 2016 میں دولت اسلامیہ فی العراق و الشام ( داعش ) کے حملوں اور فضائی کارروائیوں کے باعث عام شہریوں کی ہلاکتوں کی تعداد میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ 2009 کے بعدان فضائی حملوں سے سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔
اقوام متحدہ کے تفتیش کاروں نے کل ایک سالانہ جائزہ جاری کیا ہے اس میں کہا گیا ہے کہ 2016 میں مسلح تصادموں کی وارداتوں میں مجموعی طورپر3,498 عام شہری ہلاک اور7,920 دیگرزخمی ہوئے یعنی پچھلے سال کے مقابلے اس میں تین فی صد کا اضافہ ہوا ہے۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ ” نہ صرف یہ کہ زمینی لڑائی بہت بڑھ گئی۔ عوامی مقامات کو بھی میدان جنگ میں تبدیل کردیا گیا جبکہ انہیں نقصان نہیں پہنچایا جانا چاہئے تھا۔
مساجد میں خودکش حملے ہوئے۔ ضلع مراکز، بازار ، رہائشی علاقوں کو حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ اسکولوں اور ہسپتالوں کا فوجی مقاصد کے لئے استعمال کیا گیاجائزے میں کہا گیا ہے کہ عام شہریوں کی 61 فی صد ہلاکتیں سرکاری مخالف تنظیموں جیسے طالبان اور داعش کے ہاتھوں ہوئی ہیں۔ اقوام متحدہ نے کم از کم 4953 لوگوں کے ہلاک اور زخمی ہونے کے لئے طالبان کو موردالزام ٹھہرایا ہے۔
مگر ایک نئی بات یہ ہے کہ داعش کے ہاتھوں ہونے والی ہلاکتوں میں دس گنا اضافہ ہوا ہے جو اکثر شیعہ لوگوں کو نشانہ بناتے ہیں داعش کے لڑاکوں نے کم از کم 899 افراد کو ہلاک یا زخمی کیا ۔ 2009 میں جب اقوام متحدہ نے رپورٹنگ شروع کی ہے خود کش حملوں میں سب سے زیادہ تعداد میں عام شہری پچھلے سال مارے گئے ہیں۔ جتنے عام شہری مارے گئے ہیں ان کا 20 فی صد افغان سلامتی دستوں کے ہاتھوں ہلاک ہوا ہے جبکہ 2، 2 فی صد ہلاکتیں حکومت نواز ملیشیاؤں اور بین اقوامی فورسیز کی کارروائیوں میںہوئی ہیں۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ سرکاری فورسز کی جانب سے سب سے مہلک کارروائی آبادی والے علاقوں میں مارٹر جسے بھاری ہتھیاروں کا اندھا دھند استعمال ہے۔

Read all Latest world news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from world and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Afghan civilian casualties at record high in 2016 un in Urdu | In Category: دنیا World Urdu News

Leave a Reply