ایران میں صدارتی انتخابات کی انتخابی مہم زور شور سے جاری

تہران:ایران میں رہبر معظم کے بعد دوسرانہایت بااختیار اور طاقتور حیثیت کے حامل صدر کے عہدے کے لیے ہونے والے بارہویں صدارتی انتخابات کی انتخابی مہم زوروں کے ساتھ جاری ہے۔پہلے مرحلہ میں19مئی کو ووٹ ڈالے جائیںگے۔اور اگر کوئی بھی امیدوار 50فیصد پلس 1کی معمولی اکثریت سے نہیں جیتا تو دوسرے مرحلہ کی ووٹنگ ہو گی۔لیکن رمضان کے پیش نظر انتخابی عمل ہر حال میں26مئی سے پہلے پہلے مکمل کر لیا جائے گا۔ تمام صدارتی امیدوار ملک کے مختلف شہروں میں عوامی جلسوں کے ذریعے اپنے اپنے ایجنڈوں اور وعدوں سے عوامی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ایران میں صدارتی انتخابات کی مہم زور و شور کے ساتھ جاری ہے۔ تمام شہروں کی سڑکوں اور چوراہوں پر صدارتی امیدواروں کی تصاویر اور پوسٹرز نمایاں طور پر نظر آ رہے ہیں۔
صدارتی انتخابات کے چھے نامزد امیدوار مختلف جلسوں اور پروگراموں میں اپنی ممکنہ حکومت کے ایجنڈے کی وضاحت کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور ہر امیدوار اپنے وعدوں کو عملی جامہ پہنانے پر تاکید کر رہا ہے۔ذرائع ابلاغ عامہ، عوامی حلقوں اور گھریلو سطح پر ہونے والی بحث و گفتگو میں امیدوار کے انتخاب سے متعلق تبادلہ خیال کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ اب تک کی صورت حال کے پیش نظر یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایران کے صدراتی انتخابات میں حتمی مقابلہ موجودہ صدر حسن روحانی اور صدارتی امیدوار سید ابراہیم رئیسی کے مابین ہوگا۔ جبکہ اس بات کا قوی امکان موجود ہے کہ باقی تمام امیدوار انتخابات سے ایک دن پہلے ان دونوں امیدواروں کے حق میں دستبردار ہو جائیں۔قدامت پسند موجودہ صدر حسن روحانی کی کارکردگی سے مطئن نہیں ہیں اور امریکہ کے ساتھ ہونے والے ناکام مذاکرات کی ذمہ داری بھی حسن روحانی پر عائد کی جا رہی ہے۔ دوسری جانب اصلاح پسندوں کا کہنا ہے کہ حسن روحانی کے دور اقتدار میں ایران نے داخلی اور بیرونی سطح پر اپنی پوزیشن مضبوط کی ہے۔

Title: a primer on irans presidential election | In Category: دنیا  ( world )
Tags: ,

Leave a Reply