تصوف پرپہلی بین الاقوامی کانفرنس 17مارچ سے دہلی میں، وزیر اعظم مودی بھی خطاب کریں گے

نئی دہلی: آج ایسے دور میں جب کہ پوری دنیا بڑھتی خاص طور پر مسلم ممالک دہشت گردی اور تشدد سے سخت پریشان ہیں عالمی صوفی فورم نے اس دہشت گردی کا توڑ کرنے کے لیے اسلام کا پیغام امن اور رواداری پیش کرنے کی جانب اہم پیش رفت کرتے ہوئے پہلی عالمی صوفی کانفرنس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس میں وزیر اعظم نریندر مودی بھی اپنے خیالات کا اظہار کریں گے۔
اس چار روزہ کانفرنس میں،جو ایک غیر سیاسی و غیر منفعت ادارے آل انڈیا علماءو مشائخ بورڈ کے زیر اہتمام 17تا 20مارچ وگیان بھون میںہورہی ہے، پاکستان سمیت20ملکوں کے صوفیائے کرام ، ماہرین تعلیم۔ دانشوران، سماجی کارکنان اور کئی اہم دینی شخصیات شرکت کریںگی۔ آل انڈیا علماءو مشائخ بورڈ کے بانی صدر سید محمد اشرف کے دستخط سے جاری ایک پریس بیان میں کہا گیا ہے کہ بورڈ کے خیال میں وقت کا تقاضہ ہے کہ سیاسی مقاصد کے لیے دہشت پسند گروپوں کے ذریعہ اسلام کی انتہا پسندانہ و بنیاد پرستانہ تشریح پر سنجیدگی سے فکر کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم بنایا جائے۔
شام اور کئی دیگر ممالک میں جہادی طاقتیں جو خوف و دہشت پھیلا رہی ہیںاس سے اسلام کی تصویر بری طرح مسخ ہو رہی ہے۔سید اشرف نے مزید کہا کہ تاہم ہم سمجھتے ہیں کہ ہندوستانی مسلمان تصوف کی پیش بہا تاریخ کو فروغ دے کر دنیا بھر میں اسلام کے نام پر کیے جارہے اس تمام خون خرابے کا حقیقی متبادل پیش کر سکتے ہیں۔اس پر اصرار کرتے ہوئے کہ داعش جیسی انتہا پسند تنظیمیں قرآن پاک کی غلط تشریح کر رہی ہیںاور اسلامی پرچم لہرا رہی ہیںسید اشرف نے کہا کہ جبکہ اسلام میں نہ اس کی کوئی گنجائش ہے اور نہ ہی اسلام اس کی تصدیق کرتا ہے۔در اصل تصوف کی تعریف کچھ اس طرح بیان کی جاتی ہے اس کا دوسرا نام تزکیہ نفس کا، احسان و مہربانی و صلہ رحمی اور سب سے بڑھ کر انسانیت نوازی اور خدمت خلق ہے۔
تصوف کہتا ہے کہ جب پوری دنیا ایک کنبہ ہے اور اس کنبہ میں رہنے والوں کو پیدا کرنے والا ایک ہی ہے تو پھر یہ خون خرابہ کیوں۔جب ایک کنبہ کے افراد مختلف نظریات و خیالات رکھنے کے باوجود آپس میں بہن بھائی ہونے کے ناطے ضرور ت پڑنے پر ایک دوسرے کے دکھ درد کو اپنا دکھ درد اور غم کو اپنا غم سمجھتے ہیں تو پھر اس عالم آب و گل میں جب ہم سب ایک ہی خدا کے بندے ہیں کیوں شیعہ ،سنی، شافعی، وہابی، دیوبندی، بریلوی، تبلیغی،ہندو سکھ، عیسائی اور نہ جانے کن کن ناموں سے مختلف مسلکوں اور فرقوں کے الگ الگ خانوں میں بٹ کر ایک دوسرے کا خون بہانے پر تلے ہیں۔
چونکہ عالم اسلام میں مختلف اشکال انتہا پسندی سرایت کر گئی ہے اس لیے دنیا کے ہر حصہ کے معروف صوفیائے کرام، علما، ائمہ ،مشائخ و مفتیان کرام کو انتہا پسندانہ فکر و سوچ اور مذہبی انتہا پسندی کا قلع قمع کرنے کے لیے ایک مضبوط رائے عامہ کی ضرورت ہے ۔اتفاق سے صوفی سماج میں گھلتے ملے نہیںہوتے لیکن اس کے باوجود ان کے خیالات پیغام امن کو عام کرنے میں ممد و معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔اس کانفرنس میں بورڈ نے دانشوروں ، معروف صوفی شخصیات ،علماء، مشائخ اور پیامبر امن کو اس کانفرنس میں مدعو کیا ہے جو اپنے صوفیانہ خیالات کے اظہار کے ساتھ ساتھ پر مغز مقالے بھی پڑھیںگے جو پیغام امن دینے کے ساتھ ساتھ دنیا کو یہ باور کرائیں گے کہ داعش جیسی خونخوار دہشت پسند تنظیموں کا اسلام سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے۔
کانفرنس کے پہلے روز 17مارچ کو مہمانوںکا گل پوشی سے استقبال کیا جائے گا اور صدر آل انڈیا علماءو مشائخ بورڈ افتتاحی خطبہ دیں گے جس کے بعد غیر ملکی مہمانوں اور اہم شخصیات اظہا رخیال کریں گے۔ بعد ازاں ترک ثقافتی گروپ کے میولاوی سماع پروگرام اور روایتی قوالی پروگرام کے ساتھ پہلے روز کی کارروائی پایہ تکمیل کو پہنچے گی۔چار روزہ کانفرنس کے آخری روز اتوار کو دہلی کے تاریخی رام لیلا میدان میں جلسہ عام ہو گا۔ جہاں مسلمانوں کے ایک بڑے اجتماع سے چار صوفیائے کرام خطاب کریںگے۔ سامعین میں ملکی و غیر ملکی خانقاہوں کے اراکین سجادہ نشین ،علمائ، بین الاقوامی صوفی دانشور ان اور عام لوگ ہوں گے۔عصر کی نماز کے ساتھ ہی پروگرام ختم ہو جائے گا۔

Read all Latest sufism news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from sufism and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: First world sufi forum in delhi from 17th marchmodi to address in Urdu | In Category: تصوف Sufism Urdu News

Leave a Reply