کہانی : ادھوری تمنا

کنول نوید

پہلے پہلے کہا جاتا تھا جس نے باپ کے جوتے نہیں کھائے اس کی قسمت نہیں چمکی۔یہ بات اس قدر درست سمجھی جاتی تھی کہ ہر باپ اس فرض کو لازمی پورا کرتا تھا تاکہ اولاد کی قسمت ضرور چمکے۔ مگر جوں جوں معاشرہ میں تبدیلی رونما ہوئی ،بچوں کو جوتے کھانا پسند نہیں رہا۔خاموش رہنے والے بچے اپنی شخصیت میں کس قدرپیچیدگیاں سمیٹ پائے لفظوں میں بیان سے پرے تھا۔ بہت سے بچوں میں باپ سے متعلق خوف ان کے بڑھاپے میں بھی رہا۔ ایسے ہی بچے کی کہانی احمر کی ہے۔وہ تنہائی پسند بچہ تھا۔اس کا دل ہمیشہ باپ کی طرف سے ڈرا رہتا تھا۔یہاں تک کہ وہ چاہنے کے باوجود اپنے جذباتی مساہل کو حل نہ کر پایا۔

سعید صاحب کے بچے ان سے بہت ڈرتے تھے۔ یہاں تک کے تین شادی شدہ بیٹوں کے ساتھ سعید صاحب بڑے فخر سے رہتے تھے۔ مجال تھی کہ سعید صاحب کے سامنے کوئی اونچی ا?واز سے سانس بھی لیتا۔ اگر کسی معاملے میں میں ا±ٹھ کر کھڑے ہو جاتے تو سارے بیٹے ایسے کھڑے ہوتے جیسے کوئی طوفان ا?نے ہی والا ہے۔ تینوں بیٹے وقار ، منور اور احمر الگ گھروں میں رہنا چاہتے تھے مگر باپ کی سخت طبعیت کے باعث انہیں خاموش رہنا پڑتا۔

کچھ چیزیں بچپن میں اس قدر زندگی میں ملا دی جاتی ہیں جیسے دودھ میں پانی کہ چاہ کر بھی الگ نہیں ہو سکتا۔ تینوں لڑکوں نے چونکہ بچپن میں سعید صاحب سے اس قدر جوتے کھائے تھے کہ ان کی گردن اپنے باپ کی جانب ا±ٹھتی ہی نہ تھی۔ پھر وہ دن ا?یا جس دن تنیوں بیٹے سعید صاحب کی چارپائی کے پاس عاجزی سے کھڑے تھے۔ سعید صاحب بہت بیمار تھے۔انہوں نے اپنے بیٹوں کو اپنے پاس خاص مقصد سے بلایا تھا۔تینوں بیٹوں میں سے کسی کویاد نہیں تھا کہ ا? خری بار کب وہ سعید صاحب کے کمرے میں ا?ئے تھے۔ سعید صاحب کے ہوتے ہوئے اور ان کی غیر حاضری میں ان کا کمرہ بند ہی رہتا تھا۔ بستر مرگ پر باپ کو دیکھ کر تینوں بیٹے افسردگی سے نطریں جھکائے کھڑے تھے۔

سعید صاحب کی انکھوں میں ا?نسو تھے۔ ان کے ا?نسو احمر نے کناروں سے بہتے ہوئے ترچھی نظر سے دیکھے تھے۔انہوں نے اپنے بیٹوں کو پاس بیٹھنے کو کہا تو تینوں میں سے کوئی بھی نہ بیٹھ پایا تھا۔تینوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ جیسے انکھوں انکھوں میں ایک دوسرے سے پہلے آپ ،پہلے آپ کہہ رہے ہوں۔ پھر وہی ہوا جو ہونا تھا۔گاڑی نکل گئی اور سعید صاحب نہ جانے زندگی کے کتنے راز اور درد اپنے ساتھ لیے دنیا سے رخصت ہو گئے۔ ایسے ماحول میں رہنے والے بیٹوں میں بھی اپنی کیفیات اورجذبات کو اندر ہی اندر رکھنے کی بیماری جڑیں پکڑ چکی تھی۔ تینوں ہی اپنے بچوں سے انتہائی سختی سے پیش ا?تے۔ مگر باپ کی موت کے بعد احمر کو اکثر اپنے باپ کا آخری جملہ ستانے لگا۔ وہ اکثر سوچتا ،کیوں ہم میں سے کوئی بھی ا?خری وقت میں والد صاحب کے بستر پر نہ بیٹھ سکا۔ والد صاحب کی انکھوں میں سے گِرنے والے آنسو موت کی تلخی کے باعث تھے یا ان کی وجہ ان کی ادھوری تمنا تھی۔جو احمر کے دل میں باپ کی موت کے ساتھ ہی پیدا ہوئی تھی۔ اپنے بچوں کو اپنے قریب لانا۔ مگر یہ کام اس قدر ا?سان نہ تھا۔ اس کا بیٹا آفتاب دس سال کا تھا۔ گھر کے ماحول کے باعث وہ جان چکا تھا کہ جیسے ہی والد ، چچا یا دادا جی گھر آئیں تو اپنے کمرے میں خاموشی سے چھپ کر بیٹھ جانا ہے۔ جب تک کہ یہ خوفناک لوگ گھر سے دور نہ ہو یا خود وہ دور نہ ہو جائے۔ گھر میں باقی بچے بھی اسی قسم کی جذباتی کیفیت سے دوچار تھے۔ کچھ عرصے میں تینوں بھائیوں نے اپنے گھر الگ الگ کر لیے اور سعید صاحب کی طرح گھر کے چیف بن گئے۔ مگر احمر کو اپنے باپ کی بے بسی ستا رہی تھی۔ وہ ان کی طرح مرنا نہیں چاہتا تھا۔ ایسا شخص جو موت کے وقت بھی اپنی ہی اولاد کا لمس محسوس نہ کر سکا۔ منور اور وقار، احمر کی طرح نہ سوچتے تھے۔ منور نے جب اپنے بیٹے کو فیل ہونے پر ب±ری طرح پٹائی لگائی تو احمر نے اسے روکنے کی کوشش کی۔ سعید صاحب کی وفات کو تین ماہ ہی ہوئے تھے ، احمر کو سمجھاتے ہوئے منور نے کہا۔ گھوڑے کو لگام نہیں لگا کر رکھیں گئے تو قابو سے نکل جائے گا۔ ا?فتاب نے بھی یہ پٹائی دیکھی تھی۔ احمر آفتاب کی انکھوں میں خوف محسوس کر سکتا تھا۔ اس واقعہ کے کچھ ہی ہفتہ بعد احمر نئے گھر میں چلا گیا۔وہ اکثر بچوں سے متعلق پڑھتا رہتا تھا۔وہ سمجھ چکا تھا کہ لگام گھوڑے کو لگائی جاتی ہے ،ایک انسان تو محبت کا بھوکا ہوتا ہے۔ اس نے سوچا وہ الگ گھر میں اپنے بچوں کو خوشگوار ماحول دے کر ان کی انکھوں میں بسے خوف کو دور کر دے گا۔
گھر بدلنے سے انسان اپنی ذات کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ ظاہر کو بدلنا،باطن کو بدلنے سے کہیں ذیادہ ا?سان ہوتا ہے۔احمر نے اپنے بچوں سے سختی کرنا بہت کم کر دیا۔ وہ اکثر سوچتا کہ وہ اپنی محبت کا اظہار اپنے بچوں سے کرئے مگر وہ چاہ کے بھی بچوں سے گھل مل نہیں پاتا۔ اس کے اندر شدید خواہش جنم لینے لگی تھی کہ وہ اپنے بیٹے آفتاب کو بتائے کہ وہ اس سے کتنا پیار کرتا ہے۔ وہ اسے بلاتا اس سے سکول سے متعلق پوچھتا تو بچہ کھڑے کھڑے جواب دیتا اور واپسی کے لیے متمنی نظروں سے دیکھنے لگتا۔ دس سالہ آفتاب نے اپنے باپ کو یہی کرتے دیکھا تھا۔ سعید صاحب کی موت بھی ان کے اثر کو ختم نہ کر سکی تھی۔ گھر کا ماحول ویسا ہی تھا جیسا انہوں نے بنایا تھا۔ آفتاب کے چچا اپنے بچوں کوغلطی پر ب±ری طرح مارتے تھے۔آفتاب کو اندازہ تھا کہ اگر وہ کچھ غلط کرئے گا تو اس کے ساتھ بھی یہی ہونا ہے۔ اگرچہ اس کے والد احمرفقط ڈانٹ سے کام لیتے تھے مگر آفتاب ان سے انتہائی خوفزدہ رہتا تھا۔

وقت گزر رہا تھا مگر احمر کی تمنا تھی کہ حسرت کی طرح اس کے وجود کو مٹھی میں لیے تھے۔ وہ اپنے بیٹے سے گلے لگنا چاہتا تھا۔ اسے کہنا چاہتا تھا کہ اس دنیا میں سب سے ذیادہ وہ اسی سے محبت کرتا ہے مگر ایسا کرنا اس کے لیے مونٹ ایورسٹ فتح کرنے جتنا مشکل تھا۔ انسان چیزیں سیکھ لیتا ہے اور سیکھی ہوئی چیزوں کو تبدیل کرنامشکل ہوتا ہے۔ رشتوں میں بھی ان دیکھی دیواریں بن جاتی ہیں۔ جب دیوار باطن میں ہو تو توڑنا اور بھی مشکل ہو جاتی ہے۔ وہ اکثر اپنے آپ سے باتیں کرتا رہتا۔

وہ اپنی کیفیت پر خود ہنستا۔ غصہ کا اظہار کرنا کتنا آسان ہے ،جبکہ کسی سے محبت کا اظہار کرنا کس قدر مشکل۔کسی کو یہ احساس دینا کہ وہ ہمارے لیے کس قدر پیش قیمتی ہے۔ احمر کو یاد تھا ، والد سے جس دن بہت ذیادہ مار پڑتی تو اس کی ماں بہت پیار سے گلے لگا کر احمر سے کہتی۔بیٹا مار تو غلطی کرنے پر پڑے گی ،ویسے سعید صاحب تم سے پیار بھی بہت کرتے ہیں۔ وہ دل ہی دل میں کہتا پیار۔۔۔ انہیں پتہ بھی ہے کہ پیار کیا ہوتا ہے۔ محبت اور خوف ایک جگہ نہیں رہ سکتے۔ کسی انسان سے یا تو خوف محسوس کیا جا سکتا ہے یا پھر محبت۔ یہ جاننے کے باوجود وہ آفتاب کی انکھوں میں نظر آنے والے اپنے لیے خوف کو ختم نہیں کر سکتا تھا۔

احمرکبھی بھی اپنے باپ سے پیار محسوس نہیں کر سکا تھالیکن ان کی موت پر آنسووں کی وجہ وہ سمجھ نہیں پایا تھا۔ وہ اس کی شخصیت پر گہرے اثرات رکھتے تھے۔ وہ کب بڑا ہو کر ان جیسا ہی ہو گیا ،اسے پتہ ہی نہ چلا۔ ایک رعب و دبدبہ بنا کر رکھنا۔اپنے آپ کو با اختیار اور اعلٰی ظاہر کرنا۔وہ کبھی کبھی تنہائی میں شدید گھبراہٹ محسوس کرتا۔ کبھی کبھی اسے محسوس ہوتا، شاہد سعید صاحب کو بھی ایک حسرت رہی ہو گی کہ اپنے بیٹوں کو بتا سکیں کہ وہ ان سے پیار کرتے ہیں ، شاہد ان کی ادھوری تمنا ا?نسو بن کر بہہ گئی اور وہ دنیا چھوڑ گئے۔

ان کے بیٹے ایک دوسرے کا منہ دیکھتے رہ گئے۔احمر اکثر سوچتا کاش وہ بیٹھ جاتا سعید صاحب کے پاس کاش۔ اس کا بستر پر بیٹھنا آفتاب دیکھ پاتا۔ پھر ایک عجیب خوف اس کے پورے جسم میں لہر کی طرح ا±ٹھتا کیا میں بھی ادھوری تمنا لیے دنیا سے چلا جاوں گا۔سعید صاحب کے آنسو وہ منظر اس کے وجود کو ہلا کر رکھ دیتے۔ چند الفاظ تھے کہ اس کے منہ سے ادا نہیں ہوتے۔ چار سال گزر چکے تھے وہ مسلسل کشمکش میں رہتا۔

اس نے آفتاب پر کبھی ہاتھ نہیں ا±ٹھایا تھا مگر اس کی عرین اور ا?فتاب اس کے ا?فس سے ا?تے ہی کمرے میں چھپ جاتے۔ ان کی آواز دھیمی ہو جاتی۔ اگر کسی وجہ سے وہ انہیں اپنے پاس بلاتا تو وہ اکثر بستر کے پاس کھڑے کھڑے اس کی بات سنتے۔ پہلے پہلے اسے ان باتوں کا احساس نہ تھا مگر باپ کی موت اور اس آخری منظر نے احمر کو بے چین کر دیا تھا۔ دنیا میں کوئی ایک ایسا انسان بھی نہیں تھا، جس سے وہ اپنی دلی کیفیت بیان کرتا۔وہ جانتا تھا کہ درخت کے پاس کھڑے رہ کر پھل گِرنے کا انتظار بے وقوفی ہے۔پھل کو خود درخت سے توڑنےکے لیے ہمت اور کوشش خود ہی کرنا ہوتی ہے۔ اس نے کافی دن سوچنے کے بعد بچوں کو چھٹیوں پر مری لے جانے کا سوچا جہاں وہ ان کے ساتھ ایک ہی کمرے میں رہے اور ان سے اظہار محبت کر سکے۔ مگر وہ مری میں لے جانے کے باوجود اپنے اور بچوں کے درمیان خوف کی دیوار کو کم نہ کر سکا۔ جس قدر ہچکچاہٹ بچے محسوس کرتے وہ ان سے بھی ذیادہ ایسی ہچکچاہٹ کا شکار تھا۔ اپنے جذبات واحساسات کے سمندر کو وہ اپنے وجود میں قید نہیں کر پایا۔ آخر کار اس نے ایک ڈائری میں خلیل جبران کی ایک نظم کے بعد خطوط لکھنے شروع کیے۔ نظم کچھ یوں تھی۔

تمہارے بچے تمہارے نہیں ہیں۔
وہ زندگی کی خودتمنائی کے بیٹے اور بیٹیاں ہیں۔
وہ تمہارے ذریعے آئے لیکن تم میں سے نہیں۔
اور اگرچہ وہ تمہارے ساتھ ہیں لیکن تم سے تعلق نہیں رکھتے۔
تم انہیں اپنی محبت دو لیکن خیالات نہیں۔
کیونکہ ان کے پاس اپنے خیالات ہیں۔

تم ان کے جسموں کو گھر دو لیکن روحوں کو نہیں۔
کیونکہ ان کی روحیں آئندہ کے گھر میں مکین ہیں۔
جہاں تم نہیں جا سکتےاپنے خوابوں میں بھی نہیں۔
تم ان جیسا بننے کی جدو جہد کرو۔
لیکن انہیں اپنے جیسا بنانے کی کوشش نہ کرو۔
کیونکہ زندگی پیچھے کو جاتی ہے نہ گزشتہ کل میں اٹکی ہوئی ہے۔
تم وہ کمانے ہو،جن سے تمہارے بچےزندہ تیروں کے طور پر آگے کو پھینکے گئے ہیں۔
کمان دار لا متنائیت کی راہ پر نشان ڈھونڈتا ہے اور وہ (خدا)اپنی طاقت سے تمہیں جھکاتا ہے۔
تا کہ اس کے تیر تیزی سے اور ذیادہ دور جائیں۔
کمان دار کے ہاتھ میں اپنا جھکاو باعث مسرت بناو۔

کیونکہ وہ اڑنے والے تیر کی طرح سے مستحکم رہنے والی کمان سے بھی محبت رکھتا ہے۔
میں نے جب سے یہ نظم سمجھی ہے ،میں جان چکا ہوں کہ بچے کوئی جانور نہیں کہ انہیں ہم اپنی مرضی سے ہانکیں ،انہیں خوف سے ہم سرکس کے لیے تو تیار کر سکتے ہیں مگر زندگی کے سفر کو خوشگوار بنانا ،خوف سے ممکن نہیں۔ میں اپنے بچوں کی انکھوں میں اپنے لیے خوف نہیں محبت دیکھنا چاہتا ہوں۔محبت وہ جذبہ ہے جو احترام کو جنم دیتا ہے۔

وہ تاریخ لکھ کر سب سے اوپر لکھتا میرے بچوں کے لیے جو دنیا کی پیش قیمت نعمت ہیں۔ پھر وہ اپنی محبت کا دل کھول کر اظہار کرتا۔ انہیں بتاتا کہ وہ ان کی کس حرکت کو سب سے ذیادہ پسند کرتا ہے۔انسان کو دنیا کا ہر معرکہ سر کر سکتا ہے،اس کے لیے اپنے وجود کے اندر نہ نظر ا?نے والی پختہ دیواروں کو توڑنا کبھی کبھی ناممکن ہوتا ہے۔

آفتاب سترہ سال کا ہو چکا تھا۔ جبکہ عرین چودہ سال کی تھی کہ احمر کا کار ایکسڈینٹ ہو گیا۔ وہ ہوسپٹل میں تھا ، ا?فتاب جب کالج سے آیا تو اسے امی نے بتایا کچھ منٹ پہلے ہی فون ا?یا تھا۔منور اور وقار ہوسپٹل میں تھے ، وہ جانے کے لیے تیار ہو ہی رہا تھا کہ چچا کا فون آیا انہوں نے آفتاب کو احمر کا میڈیکل کارڈ لانے کو کہا،جو بل کی ادائیگی میں مدد کے لیے احمر کو اس کے آفس والوں نے دیا ہوا تھا۔ آفتاب نے امی سے پوچھا تووہ کمرے میں ڈھونڈنے لگی۔ آفتاب اور عرین بھی میدیکل کارڈ ڈھونڈنے لگے تو آفتاب کو بیڈ کے نیچے کے دراز میں ایک خوبصورت سا ڈبہ نظر آیا جو چوکلیٹ کا تھا۔ اس نے حیرت سے اسے کھولا اس میں اسے ایک ڈائری نظر آئی۔ اس نے یونہی ڈائری کو ٹٹولا کہ شاہد میڈیکل کارڈ اس میں ہو۔تو اسے ڈائری میں لکھا ہوئی نظر آیا۔ میرےبچوں کے نام ، اسے تجسس محسوس ہوا کہ پاپا نے اس میں کیا لکھا ہے۔ اس کو شدید حیرت ہوئی،جب اسے پتہ چلا کہ یہ ڈائری خطوں کا مجموعہ تھی۔ آفتاب خط پڑھتا جاتا اور روتا جاتا۔ امی اور عرین اس کے پاس آئیں ،انہوں نے بھی ڈائری میں لکھے خط دیکھے تو حیرت سے دیکھتی رہ گئی۔ وہ شخص جو انتہائی سنجیدہ اور تنہائی پسند نظر آتا تھا ،رشتوں میں محبت کا کس قدر متنمنی تھا۔وہ آج سمجھ پائے تھے۔ وہ تینوں ہی رو رہے تھے۔

ایک ایک خط ایک باپ کی لامتنائی محبت کا سمندر تھا۔ جس میں اس نے ان لمحوں کو قید کرنے کی کوشش کی تھی ،جن کو وہ حقیقت میں نہ جی پایا تھا۔ اس نے ایک خط میں لکھا میرے بیٹے آفتاب تمہیں کیا معلوم کے جب تم اپنی کامیابی کا دبے لفظوں میں مجھے بتانے کی کوشش کر رہے ہوتے ہو تو میرا جی چاہتا ہے کہ میں تمہیں اپنے گلے سے لگا کر کہوں تم ہی میرا فخر ہو۔ آفتاب اپنے آنسووں کو صاف بھی نہ کر پایا تھا کہ اس کے تایا کا فون آیا ، آفتاب بیٹا تم آ کیوں نہیں رہے۔ ہمیں ہوسپٹل کی تمام فارمیلٹیز پوری کرنا ہیں۔ اس نے روتے ہوئے کہا ،جی تایا جان آ رہا ہوں۔
وہ خطو ں میں سے پہلا خط پڑنے لگا جہاں خلیل جبران کی نظم کے بعد کچھ باتیں اور پھر پہلا خط لکھا گیا تھا جو کچھ سال پہلے کا تھا۔ وہ پڑھنے لگا۔

جس کا عنوان کچھ یوں تھا۔میرے بچوں کے نام جو دنیا کی پیش قیمت نعمت ہیں۔
پھر روتے ہوئے آفتاب نے یوں پڑھا۔ میں بہت کوشش کے باوجود بھی تم سے محبت کا اظہار نہیں کر پایا۔ باپ کبھی بھی ماں سے کم پیار نہیں کرتا مگر وہ مردانہ خول کو توڑ نہیں پاتا ، کچھ توڑ بھی لیتے ہوں گئے لیکن میرے لیے یہ ممکن نہیں ہوا۔ بہت کوشش کی تمہارے ساتھ دوستوں کی طرح پیش آوں۔ اپنی محبت کا اظہار کروں ، مگر میں سعید صاحب کی طرح احمر صاحب ہی بنا رہ گیا۔ میرا جی چاہتا تھا کہ میں جب ا?فس سے ا?وں تو میرے بچے بھاگ کر مجھ سے لپٹ جائے۔وہ لمحہ میرے لیے قیامت سے کم نہیں ہوتا تھا جب تم لوگ چھپ کر کمرے میں بیٹھ جاتے۔ میں جب کمرے میں آتا تو ایسے کھڑے ہو جاتے جیسے کوئی غلطی کرتے پکڑا گیا ہے۔ مگر میں جو کہہ نہیں پایا وہ لکھ رہا ہوں تا کہ میرا دل جذبات کی شدت سے لبا لب بھر چکا ہے۔ اگر اب اظہار نہیں کیا تو شاہد پھٹ جائے۔ اس لیے کاغذوں کا سہارا لے رہا ہوں۔ میں اپنے باپ کی طرح ادھوری تمنا لیے اس دنیا سے جانا نہیں چاہتا اس لیے میری تمنا ہے کہ تم کبھی خود ہی یہ خط دیکھ لو اور مجھ سےلپٹ کر کہہ دو کے میری محبت کو محسوس کر سکتے ہوں۔ میری بیٹی عرین تمہیں کیا معلوم کہ تمہاری مسکان ہی میری زندگی ہے۔ تم جو مجھے دیکھ کر ہنسا روک جاتی ہو مجھے بہت ب±را لگتا ہے مگر میں کہہ نہیں پاتا۔ شاہد کو تالا بچبن میں میرے جذبات کے دروازے پر لگا دیا گیا ہے۔ جس کی چابی میرے والدصاحب ساتھ لے گئے ہیں۔ میرے جذبات تو قید ہیں مگر تم لوگوں کے کیوں قید ہو گئے۔ میرے بچوں رب تمہاری کوئی تمنا ادھوری نہ چھوڑے۔

آفتاب اور عرین حیرت سے ایک دوسرے کی طرف دیکھ رہے تھے۔ آفتاب نے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا۔ سچ میں ہم نے کیوں محبت میں پہل نہیں کی۔ پاپا تو ہمیشہ شفقت سے ہی پیش آتے تھے۔ عرین نے افسردگی سے کہا ، شاہد ہمارے ذہن بھی دادا جان کے خوف میں جکڑے ہوئے تھے ، سوچو ہم پر اس قدر اثر ہے تو پھر پاپا پر دادا جان کا اثر کس حد تک ہو گا۔ آفتاب نے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا۔ میں تو جاتے ہی پاپا سے لپٹ جاوں گا۔ عرین بھی ہوسپٹل جانے کے لیے تیار تھی۔ آفتاب کی امی کو میڈیکل کارڈ مل چکا تھا۔

آفتاب اور عرین ہوسپٹل پہنچے تو منور اور وقار ان کے منتظر تھے۔ آفتاب نے کارڈ تایا جان کو دیا اور خود اس وارڈ کی طرف چل پڑا جہاں احمر کو رکھا گیا تھا۔ وہ دل ہی دل میں سوچ رہا تھا کہ پاپا سے لپٹ کر کہے گا ،وہ بھی ان سے بہت پیار کرتا ہے ،عرین کا بھی یہی حال تھا کہ ڈاکٹر نے انہیں روک لیا۔ آفتاب نے کہا ، میں مریض کا بیٹا ہوں۔ مجھے اندر جانے دیں۔ وقار نے آفتاب سے افسردگی سے کہا۔احمر کو جب ہوسپٹل لایا گیا توپندرہ منٹ کے بعد ہی وہ ہم سب کو چھوڑ گیا تھا۔ ہمیں سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ تمہیں کیسے بتائیں بیٹا۔ آفتاب نے دونوں ہاتھ اپنے سر پر رکھ لیے اورگھٹنوں پر بیٹھ کر رونے لگا عرین کا بھی ب±را حال تھا۔آفتاب روتے ہوئے کہہ رہا تھا۔ میرے پاپا کی تمنا بھی ادھوری رہ گئی۔ میرے اللہ۔

Read all Latest stories news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from stories and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Story unfulfilled wish in Urdu | In Category: افسانے و کہانیاں Stories Urdu News

Leave a Reply