منشی پریم چند کی تخلیق ’ دو بیل‘

آج اردو ادب کے معروف افسانہ نگار ، ڈرامہ نگار اور ناول نگار منشی پریم چند کی سالگر ہ ہے،وہ اردو نثرمیں جدید اور اصلاحی ناول اور افسانہ نگاری کے موجد کہلائے جاتے ہیں۔31 جولائی1880کو ضلع وار انسی مرٹھوا کے ”لمبی“ نامی گاؤں میں پیدا ہونے والے منشی پریم چند کا اصلی نام دھنپت رائے تھا جو ان کے والد صاھب نے رکھا لیکن ان کے چچا نے اپنے بھتجے کا نام پریم چند رکھا اور آگے چل کر وہ منشی پریم چند کے نام سے شہرت کی بلندیوں پر پہنچے۔
آپ نے ابتدائی تعلیم لائل پور ایک کے مولوی سے حاصل کی،جہاں منشی پریم چند اردو اور فارسی ذبان کے رموز سیکھے اور ادب سے شناسائی حاصل کی اور 1895میں گورکھپور سے مڈل کا امتحان پاس کیا اور بعد میں معلم کی حیثیت سے ملازمت اختیار کی اور 18 روپے ماہوار تنخواہ لیا کرتے تھے۔
بعد ازاں 1899میں بنارس میں اسسٹنٹ ٹیچر کی نوکری مل گئی اور 1900 میں بیرائچ کے گورنمنٹ اسکول میں بطور ٹیچر تقرر ہوا اور الہ آباد میں جا کرآپ نے پہلی مرتبہ سنجیدگی سے لکھنا شروع کیا۔1908میں جونیئرانگلش ٹیچر کا امتحان پاس کیا اور اسی سال الہ آباد یونیورسٹی سے اردو ہندی کا خصوصی امتحان پاس کیا اور1909میں ترقی پا کر سب انسپکٹر آف سکولز ہو گئے۔1919میں بی۔اے کیا اور فروری 1920 میں عدم تعاون کی تحریک کے سلسلے میں ملازمت سے علیحدہ ہوئے اور لکھنؤ میں پہلی مرتبہ انجمن ترقی پسند مصنفین کی صدارت کی۔ملاحظہ فرمائیں ان کا افسانہ دو بیل :۔

دو بیل
پریم چند

جانوروں میں گدھا سب سے بیوقوف سمجھا جاتا ہے۔جب ہم کسی شخص کو پرلے درجے کا احمق کہنا چاہتے ہیں تو اسے گدھا کہتے ہیں۔ گدھا واقعی بیوقوف ہے۔ یا اس کی سادہ لوحی اور انتہا درجہ کی قوت برداشت نے اسے یہ خطاب دلوایا ہے اس کا تصفیہ نہیں ہو سکتا۔ گائے شریف جانور ہے۔ مگر سینگ مارتی ہے۔ کتا بھی غریب جانور ہے لیکن کبھی کبھی اسے غصہ بھی آجاتا ہے۔ مگر گدھے کو کبھی غصہ نہیں آتا جتنا جی چاہے مارلو۔ چاہے جیسی خراب سڑی ہوئی گھاس سامنے ڈال دو۔ اس کے چہرے پر ناراضگی کے آثار کبھی نظر نہ آئیں گے۔ اپریل میں شاید کبھی کلیل کرلیتا ہو۔ پرہم نے اسے کبھی خوش ہوتے نہیں دیکھا۔ اس کے چہرے پر ایک مستقل مایوسی چھائی رہتی ہے سکھ دکھ، نفع نقصان سے کبھی اسے شاد ہوتے نہیں دیکھا۔ رشی منیوں کی جس قدر خوبیاں ہیں۔ سب اس میں بدرجہ اتم موجود ہیں لیکن آدمی اسے بیوقوف کہتا ہے۔ اعلا خصلتوں کی ایسی توہین ہم نے اور کہیں نہیں دیکھی۔ ممکن ہے دنیا میں سیدھے پن کے لیے جگہ نہ ہو۔

لیکن گدھے کا ایک بھائی اور بھی ہے۔ جو اس سے کچھ کم ہی گدھا ہے اور وہ ہے بیل جن معنوں میں ہم گدھے کا لفظ استعمال کرتے ہیں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں، جو بیل کو بیوقوفوں کا سردار کہنے کو تیار ہیں۔ مگر ہمارا خیال ایسانہیں بیل کبھی کبھی مارتا ہے۔ کبھی کبھی اڑیل بیل بھی دیکھنے میں آتے ہیں اور کبھی کئی طریقوں سے وہ اپنی ناپسندیدگی اور ناراضگی کا اظہار کردیتا ہے۔ لہٰذا اس کا درجہ گدھے سے نیچے ہے۔

جھوری کاچھی کے پاس دو بیل تھے۔ ایک کا نام تھا ہیرا اور دوسرے کا موتی۔ دونوں دیکھنے میں خوب صورت، کام میں چوکس، ڈیل ڈول میں اونچے۔ بہت دِنوں سے ایک ساتھ رہتے رہتے ، دونوں میں محبت ہوگئی تھی۔ جس وقت یہ دونوں بیل ہَل یا گاڑی میں جوتے جاتے اور گردنیں ہِلا ہِلا کر چلتے تو ہر ایک کی یہی کوشش ہوتی کہ زیادہ بوجھ میری ہی گردن پر رہے۔ ایک ساتھ ناند میں منھ ڈالتے۔ ایک منھ ہٹا لیتا تو دوسرا بھی ہٹا لیتا اور ایک ساتھ ہی بیٹھتے۔

ایک مرتبہ جھوری نے دونوں بیل چند دنوں کے لیے اپنی سسرال بھیجے۔ بیلوں کو کیا معلوم وہ کیوں بھیجے جارہے ہیں۔ سمجھے مالک نے ہمیں بیچ دیا۔ اگر اِن بے زبانوں کی زبان ہوتی تو جھوری سے پوچھتے :” تم نے ہم غریبوں کو کیوں نکال دیا؟ ہم نے کبھی دانے چارے کی شکایت نہیں کی۔ تم نے جو کچھ کھِلایا ، سر جھکا کر کھالیا، پھر تم نے ہمیں کیوں بیچ دیا۔ “

کسی وقت دونوں بیل نئے گاؤں جا پہنچے۔ دِن بھر کے بھوکے تھے ، دونوں کا دِل بھاری ہو رہا تھا۔ جسے انھوں نے اپناگھر سمجھا تھا ، وہ ان سے چھوٹ گیا تھا۔ جب گاؤں میں سوتا پڑگیا ، تو دونوں نے زور مار کر رسّے تڑالیے اور گھر کی طرف چلے۔ جھوری نے صبح اٹھ کر دیکھا تو دونوں بیل چرنی پر کھڑے تھے۔ دونوں کے گھٹنوں تک پاؤں کیچڑ میں بھرے ہوئے تھے۔ دونوں کی آنکھوں میں محبت کی ناراضگی جھلک رہی تھی۔ جھوری ان کو دیکھ کر محبت سے باؤلا ہوگیااور دوڑ کر ان کے گلے سے لپٹ گیا۔ گھر اور گاؤں کے لڑکے جمع ہوگئے اور تالیاں بجا بجا کر ان کا خیر مقدم کرنے لگے۔ کوئی اپنے گھر سے روٹیاں لایا ، کوئی گڑ اور کوئی بھوسی۔

جھوری کی بیوی نے بیلوں کو دروازے پر دیکھا تو جل اٹھی، بولی :” کیسے نمک حرام بیل ہیں۔ ایک دن بھی وہاں کام نہ کیا، بھاگ کھڑے ہوئے۔ “
جھوری اپنے بیلوں پر یہ اِلزام برداشت نہ کرسکا ، بولا: ” نمک حرام کیوں ہیں ؟ چارہ نہ دیا ہوگا، تو کیا کرتے۔ “
عورت نے تنک کر کہا :”بس تمھیں بیلوں کو کھِلانا جانتے ہو، اور تو سبھی پانی پِلا پِلا کر رکھتے ہیں۔ “
دوسرے دِن جھوری کا سالا جس کا نام گیا تھا ، جھوری کے گھر آیا اور بیلوں کو دوبارہ لے گیا۔ اب کے اس نے گاڑی میں جوتا۔ شام کو گھر پہنچ کر گیا نے دونوں کو موٹی رسّیوں سے باندھا اور پھر وہی خشک بھوسا ڈال دیا۔

ہیرا اور موتی اِس برتاؤ کے عادی نہ تھے۔ جھوری انھیں پھول کی چھڑی سے بھی نہ مارتا تھا ، یہاں مار پڑی ، اِس پر خشک بھوسا، ناند کی طرف آنکھ بھی نہ اٹھائی۔ دوسرے دِن گیانے بیلوں کو ہل میں جوتا ، مگر انھوں نے پاں نہ اٹھایا۔ ایک مرتبہ جب اس ظالِم نے ہیرا کی ناک پر ڈنڈا جمایا ، تو موتی غصّے کے مارے آپے سے باہر ہوگیا ، ہل لے کے بھاگا۔ گلے میں بڑی بڑی رسیّاں نہ ہوتیں تو وہ دونوں نکل گئے ہوتے۔ موتی تو بس اِینّٹھ کر رہ گیا۔ گیا آپہنچا اور دونوں کو پکڑ کر لے چلا۔ آج دونوں کے سامنے پھر وہی خشک بھوسا لایا گیا۔ دونوں چپ چاپ کھڑے رہے۔ اس وقت ایک چھوٹی سی لڑکی دو روٹیاں لیے نکلی اور دونوں کے منھ میں ایک ایک روٹی دے کر چلی گئی۔ یہ لڑکی گیا کی تھی۔ اس کی ماں مرچکی تھی۔ سوتیلی ماں اسے مارتی رہتی تھی۔ ان بیلوں سے اسے ہمدردی ہوگئی۔

دونوں دِن بھر جوتے جاتے۔ الٹے ڈنڈے کھاتے ، شام کو تھان پر باندھ دیے جاتے اور رات کو وہی لڑکی انھیں ایک ایک روٹی دے جاتی۔
ایک بار رات کو جب لڑکی روٹی دے کر چلی گئی تو دونوں رسیّاں چبانے لگے ، لیکن موٹی رسّی منھ میں نہ آتی تھی۔ بے چارے زور لگا کر رہ جاتے۔ اتنے میں گھر کا دروازہ کھلا اور وہی لڑکی نکلی۔ دونوں سرجھکا کر اس کا ہاتھ چاٹنے لگے۔ اس نے اِن کی پیشانی سہلائی اور بولی :”کھول دیتی ہوں ، بھا گ جاؤ ، نہیں تو یہ لوگ تمھیں مار ڈالیں گے۔ آج گھر میں مشورہ ہو رہا ہے کہ تمھاری ناک میں ناتھ ڈال دی جائے۔ “ اس نے رسّے کھول دیے اور پھر خود ہی چلاّئی :” او دادا ! او دادا ! دونوں پھوپھا والے بیل بھاگے جارہے ہیں۔دوڑو دوڑو!“

گیا گھبرا کر باہر نکلا ، اس نے بیلوں کا پیچھا کیا وہ اور تیزہوگئے۔ گیا نے جب ان کو ہاتھ سے نکلتے دیکھا تو گاؤں کے کچھ اور آدمیوں کو ساتھ لینے کے لیے لوٹا۔ پھر کیا تھا دونوں بیلوں کو بھاگنے کا موقع مِل گیا۔ سیدھے دوڑے چلے گئے۔ راستے کا خیال بھی نہ رہا ، بہت دور نکل گئے ، تب دونوں ایک کھیت کے کِنارے کھڑے ہو کر سوچنے لگے کہ اب کیا کرنا چاہیے ؟ دونوں بھوک سے بے حال ہو رہے تھے۔ کھیت میں مٹر کھڑی تھی ، چرنے لگے۔ جب پیٹ بھر گیا تو دونوں اچھلنے کودنے لگے۔ دیکھتے کیا ہیں کہ ایک موٹا تازہ سانڈ جھومتا چلا آرہا ہے۔ دونوں دوست جان ہتھیلیوں پر لے کر آگے بڑھے۔ جوں ہی ہیرا جھپٹا ، موتی نے پیچھے سے ہَلّہ بول دیا۔ سانڈ اس کی طرف مڑا تو ہیرا نے ڈھکیلنا شروع کردیا۔ سانڈ غصّے سے پیچھے مڑا تو ہیرا نے دوسرے پہلو میں سینگ رکھ دیے۔ بے چارہ زخمی ہو کر بھاگا دونوں نے دور تک تعاقب کیا۔ جب سانڈ بے دم ہو کر گِر پڑا ، تب جاکر دونوں نے اس کا پیچھا چھوڑا۔

دونوں فتح کے نشے میں جھومتے چلے جارہے تھے۔ پھرمٹر کے کھیت میں گھس گئے۔ ابھی دو چار ہی منھ مارے تھے کہ دو آدمی لاٹھی لے کر آگئے اور دونوں بیلوں کو گھیر لیا۔ دوسرے دن دونوں دوست کانجی ہاؤس میں بند تھے۔

ان کی زندگی میں پہلا موقع تھا کہ کھانے کو تِنکا بھی نہ ملا۔ وہاں کئی بھینسیں تھیں ، کئی بکریاں ، کئی گھوڑے ، کئی گدھے ، مگر چارہ کسی کے سامنے نہ تھا۔ سب زمین پر مردے کی طرح پڑے تھے۔ رات کو جب کھانا نہ ملا تو ہیرا بولا :” مجھے تو معلوم ہوتا ہے کہ جان نکل رہی ہے۔ “ موتی نے کہا :” اتنی جلدی ہمّت نہ ہارو،بھائی یہاں سے بھاگنے کا کوئی طریقہ سوچو۔“ ” باڑے کی دیوار کچّی تھی۔ ہیرا نے اپنے نکیلے سینگ دیوار میں گاڑ کر سوراخ کیا اور پھر دوڑ دوڑ کر دیوار سے ٹکرّیں ماریں۔ ٹکرّوں کی آواز سن کر کانجی ہاؤس کا چوکیدار لالٹین لے کر نکلا۔ اس نے جو یہ رنگ دیکھا تو دونوں کو کئی ڈنڈے رسید کیے اور موٹی رسّی سے باندھ دیا ہیرا اور موتی نے پھر بھی ہمّت نہ ہاری۔ پھر اسی طرح دیوار میں سینگ لگا کر زور کرنے لگے۔ آخر دیوار کا کچھ حِصّہ گر گیا۔ دیوار کا گرنا تھا کہ جانور اٹھ کھڑے ہوئے۔ گھوڑے ، بھیڑ، بکریاں ، بھینسیں سب بھاگ نکلے۔ ہیرا، موتی رہ گئے صبح ہوتے ہوتے منشیوں ، چوکیداروں اور دوسرے ملازمین میں کھَلبَلی مچ گئی۔ اس کے بعد ان کی خوب مرمّت ہوئی۔ اب اور موٹی رسّی سے باندھ دیا گیا۔

ایک ہفتے تک دونوں بیل وہاں بندھے پڑے رہے۔ خدا جانے کانجی ہاؤس کے آدمی کتنے بے درد تھے ، کسی نے بے چاروں کو ایک تنکا بھی نہ دیا۔ ایک مرتبہ پانی دکھا دیتے تھے۔ یہ ان کی خوراک تھی۔ دونوں کمزور ہوگئے۔ ہڈّیاں نکل آئیں۔

ایک دِن باڑے کے سامنے ڈگڈگی بجنے لگی اور دوپہرہوتے ہوتے چالیس پچاس آدمی جمع ہوگئے۔ تب دونوں بیل نکالے گئے۔ لوگ آکران کی صورت دیکھتے اور چلے جاتے اِن کمزور بیلوں کو کون خریدتا ! اتنے میں ایک آدمی آیا ، جس کی آنکھیں سرخ تھیں ، وہ منشی جی سے باتیں کرنے لگا۔ اس کی شکل دیکھ کر دونوں بیل کانپ اٹھے۔ نیلام ہو جانے کے بعد دونوں بیل اس آدمی کے ساتھ چلے۔

اچانک انھیں ایسا معلوم ہوا کہ یہ رستہ دیکھا ہوا ہے۔ ہاں ! اِدھر ہی سے تو گیا ان کو اپنے گاؤں لے گیا تھا ، وہی کھیت ، وہی باغ ، وہی گاؤں، اب ان کی رفتار تیز ہونے لگی۔ ساری تکان ، ساری کمزوری ، ساری مایوسی رفع ہوگئی۔ ارے ! یہ تو اپنا کھیت آگیا۔ یہ اپنا کنواں ہے ، جہاں ہر روز پانی پیا کرتے تھے۔

دونوں مست ہو کر کلی لیں کرتے ہوئے گھر کی طرف دوڑے اوراپنے تھان پر جاکر کھڑے ہوگئے۔ وہ آدمی بھی پیچھے پیچھے دوڑاآیا۔ جھور ی دروازے پر بیٹھا کھانا کھا رہا تھا ، بیلوں کو دیکھتے ہی دوڑا اور انھیں پیار کرنے لگا۔ بیلوں کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔

اس آدمی نے آکر بیلوں کی رسیاں پکڑ لیں۔ جھوری نے کہا :” یہ بیل میرے ہیں۔“ ”تمہارے کیسے ہیں۔ میں نے نیلام میں لیے ہیں۔ “ وہ آدمی زبردستی بیلوں کو لے جانے کے لیے آگے بڑھا۔ اسی وقت موتی نے سینگ چلایا ، وہ آدمی پیچھے ہٹا۔ موتی نے تعاقب کیا اور اسے کھدیڑتا ہوا گاؤں کے باہر تک لے گیا۔ گاؤں والے یہ تماشا دیکھتے تھے اورہنستے تھے۔ جب وہ آدمی ہار کر چلا گیا تو موتی اکڑتا ہوا لوٹ آیا۔

ذراسی دیر میں ناند میں کھلی ، بھوسا ، چوکر ، دانا سب بھردیا گیا۔ دونوں بیل کھانے لگے۔ جھوری کھڑا ان کی طرف دیکھتا رہا اور خوش ہوتا رہا، بیسیوں لڑکے تماشا دیکھ رہے تھے۔ سارا گاؤں مسکراتا ہوا معلوم ہوتا تھا۔
اسی وقت مالکن نے آکر دونوں بیلوں کے ماتھے چوم لیے۔

Read all Latest stories in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from stories and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Munshi premchand birth anniversary his stories do bail in Urdu | In Category: افسانے و کہانیاں Stories Urdu

Leave a Reply