صورت اچھی نہیں تو کیا ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دانیہ بٹ

سحراپنے کمرے میں گھس گئی، بستہ میز پر رکھا اور آئینے کے سامنے جا کھڑی ہوئی۔ اسے اپنا عکس نظر آنے لگا۔ وہی چوٹ کا نشان، موٹی سی ناک کالا رنگ ، بڑے سے کان…. اف اللہ! میں اتنی بد صورت کیوں ہوں؟اس نے دو بارہ آئینے میں دیکھا تو اس کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔
آج اسکول میں اس کی سہیلیوں نے اس کا خوب مذاق اڑایا تھا مس نرجس کے کہنے پر سبق سنانے کے لئے کھڑی ہوئی لیکن ابھی تھوڑا ساہی پڑھا تھاکہ مس نر جس میڈم کے بلانے پر باہر چلی گئی مس کے جاتے ہیں سب نے مذاق اڑانا شروع کر دیا۔سحر سوچنے لگی اور پھر یہی سوچتے ہوئے سوگئی۔

اب اٹھ بھی جاؤ اس کی بڑی بہن عنبر نے اسے جھنجھوڑا اور وہ آنکھیں ملتے ہوئے اٹھ بیٹھی۔ تم نے یونیفارم بھی نہیں بدلا، کھانا بھی نہیں کھا یا، اب تمہیں بڑے ابا جان بلا رہے ہیں۔ عنبرکہتی ہوئی باہر نکل گئی۔ السلام علیکم بڑے ابا جان ! ان کو سلام کر تی ہوئی ان کے بستر پر بیٹھ گئی۔

وعلیکم السلام بیٹی کیسی ہو؟ ٹھیک ہوں بڑے ابا جان! آپ کو کوئی کام تھا، مجھے آ پ نے بلا یا؟نہیں کوئی کام نہیں ہے مگر یہ بتاؤاتنی اداس کیوں نظر آ رہی ہو اور تم آج میرے پاس کیوں نہیں آئیں ؟ انہوں نے پوچھا۔ بڑے ابا جان ! در اصل وہ میں…. اس کی سمجھ میں نہ آیا کہ کیا کہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ا سکول میں کوئی بات ہوئی ہے، کیا ہوا بھئی پھر کسی سے جھگڑا ہو گیا؟ انہوں نے پیار سے پوچھا۔ بس اب میں ا سکول نہیں جاؤں گی ، سب میرا مذاق اڑاتے ہیں۔ اس نے رونا شروع کردیا۔ ارے بھئی اس میں رونے کی کیا بات ہے ، بڑے ابا نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔

میں بد صورت ہوں؟ کا لی ہوں سب مجھ سے نفرت کرتے ہیں بڑے ابا جان! کیا میں بہت بری ہوں؟ روتے ہوئے آخر میں اس نے سر اٹھا کر معصومانہ انداز میں پوچھا۔ بیٹی! تم بہت پیاری اور اچھی بچی ہو۔ بڑے ابا جان نے اس کے ماتھے پر بکھرے ہوئے بال سمیٹ کر اوپر کئے۔

پھر میری شکل اتنی بری ہے؟ اس نے ادا سی سے پوچھا۔ نہیں بیٹی! اللہ تعالی نے ہر انسان کو بہت محبت کے ساتھ بنایا ہے، انسان اچھا برا نہیں ہوتا بلکہ اس کے کام اچھے اور برے ہوتے ہیں ، جن کی شکلیں اچھی اور رنگ بھی گورا ہوتا ہے مگر ان کے کام اچھے نہیں ہوتے مگر دل اندر سے سیاہ ہوتا ہے۔

ایک اور بات بتا ؤں؟ انہوں نے اس کے گالوں پر پھیلے آنسو صا ف کئے اوردوبارہ کہنے لگے۔ جب اللہ کسی انسان میں کوئی خامی پیدا کرتا ہے تو بہت سی خوبیوں سے بھی نوازتا ہے۔ اب تم اپنے آپ کو دیکھو تمہاری آواز بہت خوبصورت ہے ،تمہیں چاہئے کہ قرات اور نعت وغیرہ کے مقابلوں میں حصہ لو تم نے مجھے اپنی لکھی ہوئی کچھ کہانیاں دکھائی تھیں، و ہ دیکھ کر مجھے اندازہ ہوا کہ تم میں کہانیاں لکھنے کی صلاحیت بھی ہے تمہیں گھر کے کام سیکھنے کا بہت شوق ہے تم ہمیشہ صاف ستھری رہتی ہو تم ذہین ہو اور بھی بہت سی خوبیاں ہیں تم سانولی رنگت پہ نہ جاؤ۔
بڑے ابا نے اس کی صلاحیتوں کے بارے میں اسے تفصیل سے بتایا۔ وہ تو ٹھیک ہے بڑے ابا جان ! مگر جب میں کلاس میں کچھ پڑھنے کے لئے کھڑی ہوتی ہوں تو سب میرامذاق اڑانے لگتے ہیں، میں قرات اور نعت کیسے پڑھ سکتی ہوں؟وہ الجھتے ہوئے بولی۔

دیکھوسحر اب یہ کام تو تمہیں خود کرنا ہے کہ اپنے اند رخود اعتمادی پیدا کرو، تمہا را مذاق اڑاتا ہے تو اڑانے دو، جو کسی دوسرے کا مذاق اڑاتے ہیں انہیں خود اس بات کا احساس نہیں ہوتا کہ یہ سب چیز یں اللہ کی بنائی ہوئی ہیں ، تم ایسے بچوں سے خوف نہ کھایا کرو ، بلکہ انہیں بھی سمجھایا کرو،ایک بات اور وہ یہ کہ شکر کیا کرو اللہ نے تم کو معذور نہیں بنایا ، تمہیں کسی کامحتاج نہیں کیا۔

بڑے ابا جان ! میں آپ کی باتوں پرعمل کرنے کی کوشش کروں گی۔ وہ اٹھنے لگی۔ بڑے ابا جان تصورات ہی میں اپنی پیاری بھتیجی کو اعلیٰ مقام پر دیکھ رہے تھے اور اس خواب کے پوراہونے کی دعا ما نگ رہے تھے۔

Title: moral storysoorat nahi seerat | In Category: افسانے و کہانیاں  ( stories )

Leave a Reply