کہانی : تعلیم سے بڑھ کر کوئی دولت نہیں

ایک بادشاہ تھا ،جسے جانوروں اور پرندوں سے بہت پیار تھا۔ وہ جانوروں اور پرندوں سے ملنے کے لئے جنگل میں جاتاتھا۔ ہمیشہ کیطرح ایک دن بادشاہ جانوروں اور پرندوں کو دیکھنے کے لئے جنگل گیا۔ اچانک مطع ابر آلود ہو گیا اور تیز بارش ہونے لگی۔ بارش ہونے کی وجہ سے بادشاہ کو ٹھیک سے کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا جس کے سبب بادشاہ راستہ بھٹک گیا ، لیکن وہ راستہ ڈھونڈتے۔ ڈھونڈتے کسی طرح جنگل کے کنارے پہنچ ہی گیا۔ بھوک پیاس اورتھکان کی وجہ سے بادشاہ ایک بڑے پیڑ کے نیچے سستانے بیٹھ گیا، تبھی بادشاہ کو ادھر سے آتے تین بچے دکھائی دیئے۔

بادشاہ نے انہیں پیار سے اپنے پاس بلایا !بچوں یہاں آؤ ۔ میری بات سنو۔ تینوں بچے ہنستے ہوئے بادشاہ کے پاس آ گئے ، تب بادشاہ بولا ، مجھے بہت بھوک و پیاس لگی ہے کیا مجھے کھانااور پانی مل سکتا ہے؟بچے بولے قریب میں ہی ہمارا گھر ہے ہم ابھی جا کر آپ کے لئے کھانا اور پانی لے آتے ہیں۔ آپ بس تھوڑا سا انتظار کیجئے۔ تینوں بچے دوڑ کر گئے اور بادشاہ کے لئے کھانا لے آئے۔ بادشاہ بچوں کے سلوک سے بہت خوش ہوا اور بولا پیارے بچوں تم نے میری بھوک اور پیاس مٹائی ہے میں تم تینوں بچوں کو انعام دینا چاہتا ہوں۔ بتاؤ تم بچوں کو کیا چاہئے؟

تھوڑی دیر سوچنے کے بعد ایک بچہ بولا کیاآپ مجھے بڑا سا بنگلہ اور گاڑی دے سکتے ہیں؟ بادشاہ بولاہاں۔ ہاں کیوں نہیں! اگر تمہیں یہی چاہئے تو ضرور ملے گا۔ بچہ بادشاہ کی بات سن کر پھولے نہ سمایا۔ دوسرابچہ بھی اچھلتے ہوئے بولا ، میںبہت غریب ہوں، مجھے دولت چاہئے۔ جس سے میں اچھا اچھا کھا پی سکوں اور اچھے اچھے کپڑے پہن سکوں اور خوب ساری مستی کروں۔ بادشاہ مسکرا کر بولا ! ٹھیک ہے بیٹا میں تمہیں بہت سارا دھن دوںگا۔ یہ سن کر دوسرا بچہ خوشی سے جھوم اٹھا۔ بھلا تیسرا بچہ کیوں چپ رہتا وہ بھی بول پڑا ، کیاآپ میرا خواب بھی پورا کریں گے؟

مسکراتے ہوئے بادشاہ نے بولا کیوں نہیں ، بولا بیٹا تمہارا کیا خواب ہے۔ تمہیں بھی دھن دولت چاہئے؟ تیسرا بچہ بولا نہیں مجھے دھن دولت نہیںچاہئے ، میرا خواب ہے کہ میں پڑھ لکھ کر اسکالر بنوں۔ کیا آپ میرے لئے کچھ کر سکتے ہیں۔ تیسرے بچے کی بات سن کر بادشاہ بہت خوش ہوئے۔ بادشاہ نے اس کے پڑھنے ۔ لکھنے کی ضروری انتظام کر وادیا۔ وہ محنتی بچہ تھا ، وہ دن رات لگن سے پڑھتا اور کلاس میں اول نمبر حاصل کرتا۔ اس طرح وقت بیتتا گیا ، وہ پڑھ ۔ لکھ کر اسکالر بن گیا۔

بادشاہ نے اسے ریاست کا وزیر بنا دیا، ذہین ہونے کی وجہ سے سب اس کا احترام کرنے لگے، ادھر جس بچے نے بادشاہ سے بنگلہ اور گاڑی مانگی تھی ۔ اچانک باڑھ آنے سے اس کا سب کچھ پانی میں بہہ گیا۔ دوسرا بچہ بھی دھن ملنے کے بعد کوئی کام نہیں کرتا تھا۔ بس دن بھر فضول خرچ کر کے دھن کو اڑتا اور موج مستی کرتا تھالیکن رکھی دولت بھلا کب تک چلتی؟ ایک وقت آیا کہ اس کا ساری دھن دولت ختم ہو گئی۔ وہ پھر سے غریب ہو گیا ، دونوں بچے مایوس ہو کر اپنے دوست یعنی وزیر سے ملنے بادشاہ کے دربار میں حاضر ہوئے۔ وہ دکھی ہو کر اپنے دوست سے بولے ، ہم نے بادشاہ سے انعام مانگنے میں بہت بڑ ی بھول کی ۔ ہماری ساری دھن دولت ، بنگلہ ، گاڑی سب کچھ برباد ہو گئی۔ ہمارے پاس اب کچھ نہیں بچا ہے۔ دوست نے سمجھاتے ہوئے کہا ، کسی کے بھی پاس دھن دولت ہمیشہ نہیں رہتی ۔ دھن تو آتا جاتا رہتا ہے ، صرف تعلیم ہے جو ہمیشہ ہمارے پاس رہتی ہے۔ دھن۔ دولت سے نہیں بلکہ تعلیم سے ہی ہم دولت مند بنتے ہیں۔

دونوں بچوں کو اپنی غلطی پر بہت پچھتاوا ہوا ، انہوںنے طے کیا کہ ہم بھی محنت اور لگن سے پڑھائی کر یں گے اور اپنی زندگی کو خوشحال بنائیں گے۔

(ترجمہ سہیل احمد )

Title: education is the key to success | In Category: افسانے و کہانیاں  ( stories )

Leave a Reply