علم کے ساتھ سمجھ بھی ہوناضروری ہے

ایک قدآور بادشاہ کا ایک بیٹا تھا ۔ اس کا نام تھا شہزادہ عادل حسین تھا ۔عادل حسین بہت ہی سیدھا سادا تھا، بادشاہ چاہتا تھا کہ وہ ہوشیار اور چالاک ہو جائے اس لئے بادشاہ نے دور۔دراز سے دانشوروں کو بلایا اور ان سب دانشوروں نے شہزادہ عادل حسین کو مہینوں تک تعلیم دی۔ آہستہ آہستہ شہزادہ عادل سب کچھ سیکھ گیا ۔ اس نے سبھی طرح کے سوالوں کے جواب یاد کر لئے۔

ایک دن بادشاہ نے ایک ذہین اور مثالی شخص کو بلایا ، جو عادل کا امتحان لے سکے۔ وہ شخص نے عادل سے بہت سے سوال پوچھے؟ عادل نے سبھی سوالوں کا جواب ٹھیک طرح سے دیا۔ بادشاہ بہت خوش ہوا۔ ذہین اور مثالی شخص نے بادشاہ سے کہا ، بادشاہ سلامت شہزادہ عادل کو ماضی کی سبھی باتوں کا اچھا علم ہو گیا ہے ۔ ابھی تک جو کچھ ہو چکا ہے وہ شہزادہ عادل جان چکے ہیں، لیکن ایک ذہین شخص کو مستقبل کا علم ہونا بھی ضروری ہے۔

بادشاہ نے ایک دانشور نجومی کو شاہی دربار میں بلایا ، انہوں نے شہزادہ عادل حسین کو مستقبل کے بارے میں بتایا اور سکھایا۔ انہوں نے عادل کو سکھایا کہ کیسے دماغ کو ایک جگہ کر کے توجہ مرکوز کی جاتی ہے۔ کیسے ایک نامعلوم شے کے بارے میں پتہ لگایا جاتا ہے۔
اس طرح کئی مہینوں کے گزر جانے کے بعد جب نجومی نے سبھی باتیں شہزادہ عادل حسین کو سکھا دیں توبادشاہ نے اسی ذہین اور مثالی شخص کو پھر بلایا اور اس شخص سے کہا گیا کہ وہ عادل کا ایک بار پھر امتحان لیں۔

ذہین شخص نے اپنی مٹھی میں ایک شے رکھی۔ انہوں نے سبھی درباریوں کو ایک ایک کر کے اپنی مٹھی کھول کر د کھائی کہ اس میں کیا ہے؟ بادشاہ نے بھی دیکھا کہ اس ذہین شخص نے مٹھی میں کیا رکھا ہے۔

آخر میں ذہین شخص نے شہزادہ عادل کے پاس گئے اور بولے شہزادے اب آپ اپنے علم کا استعمال کر کے بتائیں کہ میری مٹھی میں کیا ہے؟
شہزادہ عادل نے ذہن کو توجہ مرکوز کر کے اور بہت سوچنے کے بعد بولا ’ آپ کی مٹھی میں جو چیز ہے وہ کٹھور ہے اور گول بھی ہے۔
ذہین شخص نے کہا ’ بالکل ٹھیک! سن کر بادشاہ بہت خوش ہوا ۔

شہزادہ پھر بولا ’ یہ شے سفید رنگ کی ہے اور ا سکے بیچو ں بیچ ایک چھید ہے۔ ذہین شخص خوش ہو کر بولے ٹھیک کہا شہزادے ، اب آپ اس شے کا نام بتائیں؟

شہزادہ عادل نے کہا ’ میں سمجھ گیا کہ یہ چیز کون سی ہے آپ کی مٹھی میں چکی کا پاٹ ہے۔

جیسے ہی درباریوں نے یہ سنا وہ اپنی ہنسی روک نہیں پا ئے۔ یہ جواب سن کر بادشاہ کو بڑی مایوسی ہوئی۔ اتنا بڑا چکی کا پاٹ کسی کی مٹھی میں بھلا کیسے آ سکتا تھا۔ شہزادے نے جو کچھ سیکھا تھا، اسے استعمال تو کیا لیکن اس کے ساتھ اپنے ذہن کا استعمال نہیں کیا۔

تب ذہین شخص نے اپنی مٹھی کھو ل کر شہزادے کو د کھائی اور ان کی مٹھی میں نکلا ایک سفید موتی۔ ذہین شخص نے بادشاہ سے کہا بادشاہ سلامت صرف تعلیم پانا یا سیکھنا ہی کافی نہیں ہے۔ اسے استعمال میں لانے کے لئے دماغ اور ذہن کا استعمال کرنا بھی بہت ضروری ہے۔ ایک ذہین شخص کے پاس علم کے ساتھ ساتھ سمجھ بھی ضروری ہے۔

(ترجمہ سہیل احمد)

Read all Latest stories in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from stories and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Correlation between knowledge and common sense in Urdu | In Category: افسانے و کہانیاں Stories Urdu

Leave a Reply