رشید احمد صدیقی کی تخلیق چارپائی

رشید احمد صدیقی

چارپائی اورمذہب ہم ہندوستانیوں کا اوڑھنا بچھونا ہے۔ ہم اسی پر پیدا ہوتے ہیں اوریہیں سے مدرسہ،آفس،جیل خا نے کونسل یاآخرت کا راستہ لیتے ہیں۔ چارپائی ہماری گھٹی میں پڑی ہوئی ہے۔ ہم اس پردوا کھاتے ہیں۔ دعا اوربھیک بھی مانگتے ہیں۔ کبھی فکرسخن کرتے ہیں اور کبھی فکرقوم،اکثر فاقہ کرنے سے بھی باز نہیں آتے۔ ہم کوچارپائی پراتنا ہی اعتمادہے جتنابرطانیہ کوآئی سی ایس پر۔ شاعرکوقافیہ پریا طالب علم کوغل غپاڑے پر۔
چارپائی کی پیڑھی دورچل کر دیو جانس کلبی کے خم سے جاملتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ تمام دنیا سے منہ موڑ کر دیو جانس ایک خم میں جا بیٹھا تھا۔ ہندوستانی تمام دنیا کو چارپائی کے اندرسمیٹ لیتا ہے۔ ایک نے کثرت سے وحدت کی طرف رجوع کیا۔ دوسرے نے وحدت میں کثرت کو سمیٹا۔
ہندوستانی ترقی کرتے کرتے تعلیم یافتہ جانورہی کیوں نہ ہوجائے اس سے اس کی چارپائییت نہیں جدا کی جاسکتی۔اس وقت ہندستان کو دومعرکے درپیش ہیں۔ایک سوراج کا دوسراروشن خیال بیوی کا۔دراصل سوراج اورروشن خیال بیو ی د ونوں ایک ہی مرض کی دوعلامتیں ہیں۔ دونوں چارپائیت میں مبتلا ہیں۔سوراج تووہ ایساچاہتا ہے جس میں انگریز کو حکومت کرنے اورہندستانی کوگالی دینے کی آزادی ہو۔اور بیوی ایسی چاہتا ہے جو گریجویٹ ہو لیکن گالی نہ دے۔

اس طورپرہندوستانی شوہراورتعلیم یافتہ بیوی کے درمیان جو کھینچ تان ملتی ہے اس کاایک سبب یہ بھی ہے کہ شوہرچارپائی پر سے حکومت کرنا چاہتا ہے اوربیوی ڈرائنگ روم سے گھنٹی بجاتی ہے۔ روشن خیال بیوی شہرت کی آرزومند ہوتی ہے۔ دوسری طرف شوہر یہ چاہتا ہے کہ بیوی توصرف فردخاندان ہونے پرصبرکر ے اورخودفخرخاندان نہیں بلکہ فخرکائنات قراردیا جائے۔

موتی لال نہرورپورٹ سے پہلے ہندستانیوں پردومصیبتیں نازل تھیں۔ایک ملیریا کی دوسری مس میوالمعروف بہ مادر ہند کی۔ ملیریا کا انسدادکچھ توکونین سے کیا گیا بقیہ کا کثرت اموات سے۔ مس میوکے تدارک میں ہندومسلمان دونوں چارپائی پرسربہ زانواورچوراہوں پردست وگریباں ہیں۔نہرو رپورٹ اور مادر ہند دونوں میں ایک نسبت ہے ایک نے مسلمانوں کے سیاسی حقوق کواہمیت نہ دی۔ دوسری نے ہندووو¿ں کے معاشرتی رسوم و روایات کی توہین کی!

مادرہندکے بارے میں چارپائی نشینوں کی یہ رائے ہے کہ اس کتاب کے شائع ہونے سے ان کو ہندوستانیوں سے زیادہ مس میو کے بارے میں رائے قائم کرنے کا موقع ملا۔ ان کا یہ بھی خیال ہے کہ اگرسارے ہندوستان سے شمارواعداداورمواداکٹھا کرنے کے بجائے موصوفہ نے صرف ہم ہندوستانیوں کی چارپائی کا جائزہ لیا ہوتا تو ان کی تصنیف اس سے زیادہ دلچسپ ہوتی جتنی کہ اب ہے۔
چارپائی ہندوستانیوں کی آخری جائے پناہ ہے۔ فتح ہو یا شکست وہ رخ کرے گا ہمیشہ چارپائی کی طرف۔
پھروہ چارپائی پرلیٹ جائےگا۔گائے گا،گالی دے گا یا مناجات بدرگاہ قاضی الحاجات پڑھنا شروع کردے گا۔
فن جنگ یا فن صحافت کی رو سے آج کل اس طرح کے وظائف ضروری اور نفع بخش خیال کئے جاتے ہیں۔ جس طرح ہر مالدار شریف یا خوش نصیب نہیں ہوتا اس طرح ہر چارپائی نہیں ہوتی۔ کہنے کوتو پلنگ پلنگڑی۔ چوکھٹ مسہری۔سب پراس لفظ کا اطلاق ہوتا ہے لیکن سیاسی لیڈروں کے سیاسی اورمولویوں کے مذہبی تصورکے مانند چارپائی کا صحیح مفہوم اکثرمتعین نہیں ہوتا۔

چارپائی کی مثال ریاست کے ملازم سے دے سکتے ہیں۔یہ ہرکام کے لیے ناموزوں ہوتا ہے اس لیے ہرکام پر لگا دیا جاتا ہے۔ایک ریاست میں کوئی صاحب “ولایت پاس”ہوکرآئے۔ریاست میں کوئی اسامی نہ تھی جو ان کو دی جاسکتی۔ آدمی سوجھ بوجھ کے تھے راجہ صاحب کے کانوں تک یہ بات پہنچادی کہ کوئی جگہ نہ ملی تو وہ لاٹ صاحب سے طے کر آئے ہیں۔راجہ صاحب ہی کی جگہ پراکتفاکریں گے۔ ریاست میں ہلچل مچ گئی۔ اتفاق سے ریاست کے سول سرجن رخصت پر گئے ہوئے تھے۔ یہ ان کی جگہ پر تعینات کر دیئے گئے۔ کچھ دنوں بعد سول سرجن صاحب واپس آئے تو انجینئر صاحب پر فالج گرا۔ ان کی جگہ ان کو دے دی گئی۔ آخری بار یہ خبر سنی گئی کہ وہ ریاست کے ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہو گئے تھے اور اپنے ولی عہد کو ریاست کے ولی عہد کا مصاحب بنوادینے کی فکر میں تھے۔

یہی حالت چارپائی کی ہے فرق صرف یہ ہے کہ ان ملازم صاحب سے کہیں زیادہ کارآمد ہوتی ہے! فرض کیجئے آپ بیمارہیں سفرآخرت کا سامان میسر ہو یا نہ ہو اگر چارپائی آپ کے پاس ہے تو دنیا میں آپ کو کسی اور چیز کی حاجت نہیں۔ دوا کی پڑیہ تکئے کے نیچے۔جوشاندہ کی دیگچی سرہانے رکھی ہوئی۔ بڑی بیوی طبیب چھوٹی بیوی خدمت گزار۔ چارپائی سے ملا ہوا بول و براز کا برتن۔ چارپائی کے نیچے میلے کپڑے، مچھر، بھنگے گھر یا محلے کے دو ایک بچے جن میں ایک آدھ زکام خسرے میں مبتلا! اچھے ہوگئے تو بیوی نے چارپائی کھڑی کر کے غسل کرادیاورنہ آپ کے دشمن اسی چارپائی پرلب گورلائے گئے۔ہندوستانی گھرانوں میں چارپائی کوڈرائنگ روم،سو نے کا کمرہ،غسل خانہ، قلعہ، خانقاہ، خیمہ، دواخانہ، صندوق، کتاب گھر،شفاخانہ،سب کی حیثیت کبھی کبھی بہ یک وقت ورنہ وقت وقت پر حاصل رہتی ہے۔کوئی مہمان آیا۔ چار پائی نکالی گئی۔ اس پرایک نئی دری بچھادی گئی جس کے تہہ کے نشان ایسے معلوم ہوں گے جیسے کسی چھوٹی سی آراضی کو مینڈوں اورنالیوں سے بہت سے ملکوں میں بانٹ دیا گیا ہے اور مہمان صاحب مع اچکن، ٹوپی، بیگ بغچی کے بیٹھ گئے۔ اور تھوڑی دیر کے لیے یہ معلوم کرنا دشوار ہو گیا کہ مہمان بیوقوف ہے یا میزبان بدنصیب! چارپائی ہی پر ان کا منہ ہاتھ دھلوایا اور کھانا کھلایا جائے گا اور اسی چارپائی پر یہ سورہیں گے۔ سوجا نے کے بعدان پرسے مچھر مکھی اس طرح اڑائی جائے گی جیسے کوئی پھیری والا اپنے خو انچے پر سے جھاڑو نما مورچھل سے مکھیاں اڑا رہا ہو۔

چارپائی پرسوکھنے کےلئے اناج پھیلایا جائےگا۔ جس پرتمام دن چڑیاں حملے کرتی دانے چگتی اور گالیاں سنتی رہیں گی۔ کوئی تقریب ہوئی تو بڑے پیمانے پر چارپائی پر آلو چھیلے جائیں گے۔ ملازمت میں پنشن کے قریب ہوتے ہیں توجوکچھ رخصت جمع ہوئی رہتی ہے اس کو لے کر ملازمت سے سبکدوش ہوجاتے ہیں۔ اس طرح چارپائی پنشن کے قریب پہنچتی ہے تو اس کو کسی کال کوٹھری میں داخل کردیتے ہیں اور اس پر سال بھر کی پیاز کا ذخیرہ جمع کردیا جاتا تھا۔ ایک دفعہ دیہات کے ایک میزبان نے پیاز ہٹا کراس خاکسارکوایسی ہی ایک پنشن یافتہ چارپائی پر اسی کال کوٹھری میں سلادیا تھااورپیازکوچارپائی کے نیچے اکٹھا کردیا گیا تھا۔ اس رات کو مجھ پر آسمان کے اتنے ہی طبق روشن ہوگئے تھے جتنی ساری پیازوں میں چھلکے تھے اوریقیناًچودہ سے زیادہ تھے۔

فراق اور وصال، بیماری و تندرستی، تصنیف و تالیف، سرقہ اور شاعری سب سے چارپائی ہی پرنپٹتے ہیں۔بچے بوڑھے اورمریض اس کو بطور پاخانہ، غسل خانہ کام میں لاتے ہیں۔کبھی ادوان کشادہ کردی گئی۔ کبھی بنا ہوا حصہ کاٹ دیا گیا اور کام بن گیا۔ پختہ فرش پر گھسیٹئے تومعلوم ہو کوئی ملٹری ٹینک مہم پرجارہا ہے یا بجلی کا تڑ اقا ہورہاہے کھٹملوں سے نجات پانے کے لیے جو ترکیبیں کی جاتی ہیں اور جس جس آسن میں چارپائی نظر آتی ہے یا جو سلوک اس کے ساتھ روا رکھا جاتاہے ان پرغورکر لیجئے تو ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے ہندوستانی بیوی کا تخیل ہندوستانیوں نے چارپائی ہی سے لیا ہے!

دوچارپائیاں اس طور پر کھڑی کر دیں کہ ان کے پائے آمنے سامنے ہوگئے ان پرایک دری یا چادرڈال دی۔ کمرہ تیارہوگیا۔ گھر میں بچوں کو اس طرح کا حجرہ بنانے کا بڑا شوق ہوتا ہے۔ یہاں وہ ان تمام باتوں کی مشق کرتے ہیں جو ماں باپ کو کرتے دیکھتے ہیں۔ایٹن اور ہیرو انگلستان کے دو مشہور پبلک اسکول ہیں۔ ان کے کھیل کے میدان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ واٹرلو کی تاریخی جنگ یہیں جیتی گئی تھی۔ میرا کچھ ایسا خیال ہے کہ ہندوستان کی ساری مہم ہم ہندوستانی چارپائی کے اسی گھروندے میں سر کر چکے ہوتے ہیں۔

برسات کی سڑی گرمی پڑ رہی ہو کسی گھریلو تقریب میں آپ دیکھیں گے کہ محلہ نہیں سارے قصبہ کی عورتیں خواہ وہ کسی سائز،عمر، مزاج یا مصرف کی ہوں رونق افروز ہیں۔ اور یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ ہرعورت کی گودمیں دوایک بچے اورزبان پر پانچ سات کلمات خیر ضرور ہوں گے۔ کتنی زیادہ عورتیں کتنی کم جگہ میں آجاتی ہیں اس کا اندازہ کوئی نہیں کرسکتا جب تک کہ چارپائی کے بعد کسی یکہ اور تانگہ پر ان کو سفر کرتے نہ دیکھ چکا ہو۔ یہ اللہ کی مصلحت اور ایجاد کرنے والے کی پیش بینی ہے کہ ہانکنے والے اور گھوڑے دونوں کی پشت سواریوں کی طرف ہوتی ہے۔ اگرکہیں یہ سواریوں کو دیکھتے ہوتے تو یقیناً غش کھا کر گر پڑتے۔

چارپائی ایک اچھے بکس کا بھی کام دیتی ہے۔ تکیہ کے نیچے ہر قسم کی گولیاں جن کے استعمال سے آپ کے سوا کوئی اور واقف نہیں ہوتا۔ ایک آدھ روپیہ،چنددھیلے پیسے،اسٹیشنری، کتابیں، رسالے، جاڑے کے کپڑے، تھوڑا بہت ناشتا، نقش سلیمانی، فہرست دواخانہ، سمن، جعلی دستاویز کے کچھ مسودے۔ یہ سب چارپائی پر لیٹے لیٹے ان میں سے ہر ایک کواجالاہویااندھیرااس صحت کے ساتھ آنکھ بندکرکے نکال لیتے اور پھررکھ دیتے جیسے حکیم نابینا صاحب مرحوم اپنے لمبے چوڑے بکس میں سے ہرمرض کی دوائیں نکال لیتے اورپھررکھ دیتے۔
حکومت بھی چارپائی ہی پر سے ہوتی ہے۔ خاندان کے کرتا دھرتا چارپائی ہی پر براجمان ہوتے ہیں۔ وہیں سے ہرطرح کے احکام جاری ہوتے رہتے ہیں اور ہرگناہ گار کو سزا بھی وہیں سے دی جاتی ہے۔آلات سزا میں ہاتھ پاو¿ں۔ زبان کے علاوہ ڈنڈا، جوتا، تاملوٹ بھی ہیں جنہیں اکثر پھینک کر مارتے ہیں۔ یہ اس لیے کہ توقف کرنے میں غصہ کا تاو¿ مدھم نہ پڑجائے اور ان آلات کو مجرم پر استعمال کرنے کے بجائے اپنے اوپر استعمال کرنے کی ضرورت نہ محسوس ہونے لگے۔

چارپائی ہی کھانے کا کمرہ بھی ہوتی ہے۔ باورچی خانہ سے کھانا چلااوراس کے ساتھ پانچ سات چھوٹے بڑے بچے اتنی ہی مرغیاں، دو ایک کتے، بلی اور بے شمار مکھیاں آپہنچیں۔ سب اپنے قرینے سے بیٹھ گئیں۔ صاحب خانہ صدردسترخوان ہیں۔ایک بچہ زیادہ کھانے پر مارکھاتا ہے دوسرا بدتمیزی سے کھانے پر تیسرا کم کھانے پر چوتھا زیادہ کھانے پر اور بقیہ اس پر کہ ان کو مکھیاں کھائے جاتی ہیں۔دوسری طرف بیوی مکھی اڑاتی جاتی ہے اور شوہر کی بدزبانی سنتی اور بدتمیزی سہتی جاتی ہے۔ کھانا ختم ہوا۔ شوہر شاعر ہوئے تو ہاتھ دھوکر فکرسخن میں چارپائی ہی پرلیٹ گئے کہیں دفترمیں ملازم ہوئے تو اس طرح جان لے کر بھاگے جیسے گھر میں آگ لگی ہے اور کوئی مذہبی آدمی ہوئے تو اللہ کی یادمیں قیلولہ کرنے لگے بیوی بچے بدن دبانے اور دعائیں سننے لگے۔

کوئی چیزخواہ کسی قسم کی ہوکہیں گم ہوئی ہو ہندوستانی اس کی تلاش کی ابتدا چارپائی سے کرتا ہے اس میں ہاتھی ،سوئی ،بیوی بچے، موزے، مرغی چور کسی کی تخصیص نہیں۔ رات میں کھٹکا ہوا اس نے چارپائی کے نیچے نظرڈالی۔خطرہ بڑھا توچارپائی کے نیچے پناہ لی۔زندگی کی شاید ہی کوئی ایسی سرگرمی ہوجوچارپائی یااس کے آس پاس نہ انجام پائی ہو۔

چارپائی ہندوستان کی آب و ہواتمدن و معاشرت ضرورت اورایجاد کا سب سے بھر پور نمونہ ہے۔ ہندوستان اور ہندوستانیوں کے ما نند ڈھیلی ڈھالی شکستہ حالی بے سروسامان لیکن ہندوستانیوں کی طرح غالب اور حکمران کے لیے ہرقسم کا سامان راحت فراہم کرنے کےلئے آمادہ۔کوچ اورصوفے کے دلدادہ اور ڈرائنگ روم کے اسیراس راحت وعافیت کا کیا اندازہ لگا سکتے ہیں جو چارپائی پر میسر آتی ہے! شعرانے انسان کی خوشی اورخوشحالی کے لیے کچھ باتیں منتخب کرلی ہیں مثلاً سچے دوست، شرافت فراغت اورگوشہ چمن ہندوستان جیسے غریب ملک کے لیے عیش وفراغت کی فہرست اس سے مختصر ہونی چاہیے۔ میرے نزدیک توصرف ایک چارپائی ان تمام لوازم کوپوراکرسکتی ہے۔
بانوں کی ٹوٹی ہوئی چارپائی جسے مکّے کے کھیت میں بطور مچان باندھ دیا گیا ہے۔ ہرطرف جھومتے لہلہاتے کھیت ہیں۔ بارش نے گردوپیش کوشگفتہ وشاداب کردیا ہے۔دور دور جھیلیں جھمکتی، جھلکتی نظرآتی ہیں جن میں طرح طرح کے آبی جانوراپنی اپنی بولیوں سے برسات کی عملداری اور مزیداری کا اعلان کرتے ہیں۔

مچان پر بیٹھا ہوا کسان کھیت کی رکھوالی کر رہا ہے اس کے یہاں نہ آسائش ہے۔نہ آرائش نہ عشق و عاشقی، نہ علم وفضل نہ دولت واقتدار لیکن یہ سب چارپائی پر بیٹھے ہوئے اسی کسان کی محنت کا کرشمہ ہیں۔پھرایک دن آئے گا جب اس کی پیداوار کو چور مہاجن یا زمیندار لوٹ لیں گے اور اسی چارپائی پر اس کو سانپ ڈس لے گا اور قصہ پاک ہوجائے گا۔

برسات ہی کا موسم ہے۔ گاو¿ں میں آموں کا باغ کبھی دھوپ کبھی چھاو¿ں، کوئل کوکتی ہے ہوا لہکتی ہے۔ گاو¿ں میں لڑکے لڑکیاں دھوم مچا رہی ہیں۔ کہیں کوئی پکا ہوا آم ڈال سے ٹوٹ کر گرتا ہے۔ سب کے سب جھپٹتے ہیں۔ جس کومل گیا وہ ہیروبن گیا۔ جس کو نہ ملا اس پر سب نے ٹھٹھے لگائے۔یہی لڑکے لڑکیاں جواس وقت کسی طرح قابل التفات نظر نہیں آتیں کسے معلوم آگے چل کر زمانہ اور زندگی کی کن نیرنگیوں کو ا±جاگر کریں گے کتنے فاقے کریں گے کتنے فاتح بنیں گے کتنے ناموراورنیک نام کتنے گمنام ونافرجام اوریہ خاکسارایک کھری چارپائی پراس باغ میں آرام فرما رہا ہے۔ چارپائی باغبان کی ہے۔ باغ کسی اور کا ہے۔ لڑکے لڑکیاں گاو¿ں کی ہیں۔ میرے حصہ کا صرف آم ہے۔ ایسے میں جو کچھ دماغ میں نہ آئے تھوڑا ہے۔ یا جو تھوڑا دماغ میں ہے وہ بھی نکل جائے تو کیا تعجب!

پھرعام تصورمیں ایسی کائنات تعمیرکرنے لگتاہوں جوصرف میرے لیے ہے جو میرے ہی اشارے پر بنتی بگڑتی ہے مجھے خالق کا درجہ حاصل ہے۔ اپنے مخلوق ہونے کا وہم بھی نہیں گزرتا۔ نہ اس کا خیال کہ زمانہ کسے کہتے ہیں نہ اس کی پرواکہ زندگی کیا ہے۔دوسروں کو ان کا اسیر دیکھ کر چونک پڑتا ہوں۔ پھر یہ محسوس کرکے کہ میں ان لوگوں سے اورخود زمانہ اورزندگی سے علیحدہ بھی ہوں۔اونگھنے لگتا ہوں۔ ممکن ہے اونگھنے میں پہلے سے مبتلا ہوں۔

Read all Latest stories news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from stories and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Charpai mazahiya by rasheed ahmad siddiqi in Urdu | In Category: افسانے و کہانیاں Stories Urdu News

Leave a Reply