گدھوں کی سر گزشت

زبیر حسن شیخ

آج شیفتہ چمن میں کچھ عجب رنگ میں نظر آئے۔ایک بچے نے کہانی سنانے کی فرمایش کی تو کچھ عجیب و غریب کہانی سنانے بیٹھ گئے ، بچہ تو خیر کیا کہانی سنتا، وہ تو کھیل تماشے والوں کی آواز سن کر بھاگ کھڑا ہوا۔لیکن چمن میں بیٹھے ہوئے دیگر حضرات اس کہانی کو سننے ہمہ تن گوش ھو ئے۔ شیفتہ فرما رہے تھے کہ ان کا گزر گدھوں کی ایک بستی سے ہوا تھا. ہم نے اشتیاق سے پوچھا جناب کیا واقعی یہ بستی بر صغیر میں کہیں موجود ہے یا کو ئی کنایہ ہے۔انہوں نے ہمارے سوال کو در خور اعتنا نہ جانا اور اپنی بات جاری رکھی۔ فرمایا، ان گدھوں کا سردار بستی والو ں سے کہہ رہا تھا کہ انسانوں کا اب گدھوں سے بھی زیادہ برا حال ہے۔ان کے پاس پیمبروں کی آمد کا سلسلہ کیا بند ہوا ہماری تو صرف پشت ہی بے برکت ہو ئی لیکن انسانیت کو اب پس پشت ڈال دیا گیا ہے ۔ انسانوں میں اب عجیب و غریب قسمیں پیدا ہونے لگی ہیں۔ایک گدھے نے پوچھا ۔۔۔ ہم میں اور ان میں فرق کیا ہے ؟

سردار نے کہا ۔۔۔۔۔۔۔۔ ویسے تو ہم میں اور ان میں ایک بات مشترک ہے کہ ہمارا اور انکا خالق ایک ہی ہے، لیکن چند خاص باتوں کا فرق ہے جسکی بنا پر یہ ہم سے افضل ہیں . اختیار تو ہمیں بھی دیا گیا ہے لیکن بے حد محدود، اختیار انہیں بھی محدود ہی دیا گیا ہے لیکن انکے بے اختیار ہونے کے اسباب بے شمار پیدا کیے گئے ہیں، جبکہ اسے عقل سلیم بھی دی گی ہے جو ہمیں نہیں دی گئی۔

اس گدھے نے پوچھا یہ عقل کیا چیز ہوتی ہے۔۔۔۔. ؟ سردار نے کہا تمھارے سمجھنے کے لئے اتنا کافی ہے کہ اسی عقل کے نہ ہونے کی وجہ سے ہم اسکے تابع ہیں بلکہ دنیا کی اکثر چیزیں بھی اسے بے اختیار ہونے سے روکنے کے لئے ہی یہ عقل دی گئی ہے۔گدھے نے پوچھا۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن اسے تو ہم اکثر اختیار کھوتے ہوئے پاتے ہیں۔

ایک نحیف و نزار گدھا بیچ میں بول پڑا۔ سردار تمہاری عقل ہم تمام گدھوں میں بہتر کیوں ہے جو تم ایسے سوالوں کے جوابات دے پا رہے ھو؟. سردار نے کہا، شاید میرے اجداد میں سے ضرور کو ئی ایسا ہوا ہو گا جسکی پشت پر کسی پیمبر نے سواری کی ہوگی اور یہ سب اسی سعادت کا حصہ ہے۔
نحیف و نزار گدھے نے پھر پوچھا….. سردار چند انسان ایسے بھی ہیں جنہیں ہم اختیار کھوتے نہیں پاتے اس کی کیا وجہ ہوگی ؟ سردار نے کہا …….. انہیں ضمیر نام کی کسی شہہ سے بھی نوازا گیا ہے اور وہ عقل کو قابو میں رکھنے کے لئے اسکا استعمال کرتے ہونگے۔حالانکہ ہم نے انہیں سے سنا ہے کہ کبھی کبھی ان کا ضمیر مردہ ہوجاتا ہے۔ اور پھر ان کے ساتھی انسان انہیں جانور کہنے لگتے ہیں ۔جبکہ یہ بہت غلط بات ہے اور ہم جانوروں کی تو ہین ہے، خاص کر ہم پالتو جانوروں کی۔ اس گدھے نے پوچھا وہ کیسے؟ سردار نے کہا۔مثلا، ہماری ساخت ہی ایسی بنائی گئی ہے کہ ہمیں پوشاک کی ضرورت نہیں رہتی اس لئے ہم جسمانی برہنگی سے مبرا ہیں اور چونکہ عقل سلیم نہیں دی گئی ہے اس لئے ذہنی برہنگی میں مبتلا ہونے سے بھی ہم مبرا ہیں، ہمیں غصہ آتا ہے تو زیادہ سے زیادہ ڈھینچوں ڈھینچوں کر احتجاج کر لیتے ہیں، بہت ہوا تو ایک لات رسید کردی، ہم خون خرابہ نہیں کرتے، نہ ہی اوروں کا نہ ہی اپنوں کا۔ ہمارے یہاں بھی سردار اور حاکم ہوتے ہیں اور رعایا بھی، اور انکے یہاں بھی ہوتی ہے، اور ان سب کاموں کو یہ سیاست کہتے ہیں۔جبکہ ہمارے پاس سرے سے ضمیر ہوتا ہی نہیں ہے کہ ہماری کسی کو تاہی سے وہ مردہ ہوجائے۔

ایک نو جوان گدھے نے سوال داغا…..سردار انسان کو اچھی اچھی پوشاک پہننے کی بھلا کیا حاجت ہوسکتی ہے جبکہ وہ ہم جانوروں سے بہ درجہ خوبصورت ہے۔سردار نے کہا… ہم میں اور ان میں ایک اور بڑا فرق ہے۔ جو شاید سب سے بڑا فرق ہے ، اور وہ یہ کہ ہم سب کا پیدا کرنے والا جو مالک ہے وہ انسان کو روز پانچ وقت شرف ملاقات دیتا ہے، اور بھلے خود سامنے موجود نہیں ہوتا لیکن ان کو اپنی موجودگی کا احساس کراتا ہے۔ ایسے انسانوں کو مسلمان کہتے ہیں۔ان میں چند ایسے بھی ہوتے ہیں جو مختلف حیلے بہانوں سے لمحہ لمحہ اسکی موجودگی کو محسوس کرتے رہتے ہیں…انکا سوچنا، کھانا پینا، بولنا سننا سب کچھ اسی احساس کے تحت انجام پاتا ہے….ان میں چند ایسے بھی ہوتے ہیں جو دنیا میں مالک کے دیدار کی توقع کرتے ہیں…..یہ سب مالک کے عشق میں مبتلا رہتے ہیں، نیکیاں کرتے رہتے ہیں… اور ایسے انسانوں کو مالک سے بخشش اور انعام کی امید رہتی ہے۔

شیفتہ نے فرمایا جب اس سردار گدھے کی یہ بات ہم سنی تو بے اختیارانہ زبان پر آیا کہ
کہاں کا عشق، کیسی نیکیاں، اللہ میری توبہ
ہمیں تو بس تری رحمت سے ہی مغفور ہونا ہے
جنھیں دعو یٰ ہو شوق دید کا وہ ہم نہیں یارب
ہمیں تو بس تجلی میں جل کر طور ہونا ہے

بقراط نے کہا حضور ، گدھوں میں احساس خودداری اور عزت نفس نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی.
فرمایا، اسکی بابت بھی گدھوں کو بولتے ہم نے سنا تھا… اور کہانی آگے بڑھا دی۔ لوگ پھر ہمہ تن گوش ہوگئے
ایک نو جوان گدھے نے کہا ہم لوگ حق خود داری سے دستبردار ہوگئے ہیں
اس لئے ظلم سہتے رہے، یہاں تک کے دھوبی بھی ہمیں دھنتے رہتے ہیں
ہم میں کبھی یکجہتی نہیں پا ئی گئی، ہم اپنے ہی مظلوم بھائیوں کو چلتے چلتے لات رسید کردیتے ہیں.

دوسرے نے کہا….کبھی کبھی تو سردار کو بھی، اور ان کو بھی جو انسانوں سے سیکھ کر کچھ نیک باتیں ہمیں بتاتے رہتے ہیں۔سردار نے کہا..
ہم بھی کیو ں نہ زعفران کی افادیت پر غور فکر کریں، اور کیوں بس سونگھنے پر اکتفا کریں
کب تک ناک منہ چڑھاتے رہیں
ڈھینچوں ڈھینچوں کا الاپ کرتے رہیں،
ایک اور گدھا بول پڑا
امن میں عافیت ہے، ہمارا کام گدھا مزدوری ہے
اتنا سوچنا سمجھنا نہیں ہے، ہم جانور ہیں، اور وہ بھی گدھے
ہمیں عقل سلیم سے عاری رکھا گیا ہے

سردار گدھا کہنے لگا، ایسے تمام اختیارات انسان کو دئے گئے ہیں
اسے عقل سلیم بھی دی گئی ہے کہ وہ اپنا بھلا برا خود سمجھے
اسے ضمیر جیسی چیز سے نوازا گیا ہے تاکہ عدل قائم کرے
اسے ایمان سے نوازا گیا ہے تا کہ مالک کو ہم سے بہتر سمجھے
اسکی اصلاح کے لئے پیمبروں کو بھیجا گیا ہے تا کہ اسے انکار کی گنجایش نہ ہو
اسکے لئے دنیا مسخر کر دی گئی ہے تاکہ دنیا کو سنوارے اور نیکیاں کرے
اسکے اندر جذبہ خوف پیدا کیا گیا ہے تا کہ ظلم و گنا ہ سے دور رہے
ہمیں ان سب باتوں سے کیا لینا ہم تو گدھے ہیں
لیکن خبردار کبھی انسانوں کی نیکیوں پر ڈھینچوں ڈھینچوں نہ کرنا

کہانی کے اختتام پر آتے آتے شیفتہ نے مسکرا کر بقراط کو دیکھا اور فرمایا، کہانی کے کسی موڑ پر اکثر حضرات اس بچہ کی طرح کھیل تماشے کی طرف بھاگ کھڑے ہوئے. فرمایا، بہر حال کہانی کا اختتام یہ ہے کہ سردار کی باتیں سارے گدھے غور سے سن رہے تھے او ر ایسا محسوس ھورہا تھا انہیں انسان بننے کی کتنی چاہ ہے۔

zubair.ezeesoft@gmail.com

Read all Latest stories news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from stories and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: a tale of the ass in Urdu | In Category: افسانے و کہانیاں  ( stories ) Urdu News
Tags: , ,

Leave a Reply