ہر زندہ و بے جان شے پردہ چاہتی ہے

امتیازعلی فہیم

بچپن میں جب امی بھائی کو دہی یا نہاری وغیرہ لینے بھیجتی تھیں تو ساتھ اسٹیل کا چھوٹا ڈول دیا کرتی تھیںکہتی تھیں کہ ایک تو شاپنگ بیگ کے جراثیم نہیں لگتے ۔دوسرا کھانے پینے کی چیزیں اسطرح نمائش کرکے نہیں لاتے پردہ رکھتے ہیں۔روٹی لینے بھیجتیں تو ساتھ دسترخوان دیا کرتی تھیںوجہ پھر وہی کہ اخبار یا کاغذ کے جراثیم نہ لگیں اور پردہ بھی رہے۔

وہ کہتی تھیں یوں شاپر میں روٹی لانے سے روٹی کی بے ادبی ہوتی ہے ۔ اور روٹی کا پردہ بھی نہیں رہتا۔گھر کا سودا سلف لانے کے لئے کپڑے کے تھیلے سئیے جاتے تھے تاکہ سودا سلف عزت سے گھر لایا جا سکے ۔محلہ داروں کے گھر حتیٰ کہ ایک ہی گھر کے مختلف پورشنز میں رہنے افراد ایک دوسرے کو کھانا بھیجتے تھے تو خوان کو خوان پوش سے ڈھک دیا کرتے تھے۔اب نام لو تو پہلے خوان پوش کا ہی مطلب سمجھانا پڑے گا۔یہی پردہ شیشے پر بھی ڈالا جاتا تھا۔امی کا کہنا یہ تھا کہ آتے جاتے آئینہ پر نظر نہیں پڑنی چاہیے اس سے خود پسندی پیدا ہوتی ہے۔

کہیں سے آتے یا جاتے تھے تو پاپا گلی میں شور نہیں مچانے دیتے تھے خاص طور پر رات کو گاڑی سے اترنے سے پہلے ہی تاکید کر دی جاتی تھی کہ گاڑی کا دروازہ بالکل آرام سے بند کرنا۔اس میں دو لاجکس بیان کی جاتی تھیں کہ ایک تو کسی کی نیند خراب نہ ہو دوسرا ہر طرح کی نظر سے محفوظ رہیں۔کیونکہ فیملی اکھٹا باہر نکلتی یے تو سو طرح کی نظر پڑتی یے۔

آج یہ بات کرو تو سب ہنستے ہیں ہم پر۔مزید ذکر کروں تو جب نانی کے گھر جاتے تھے تو انکے دروازے پر پردہ ڈلا ہوا ہوتا تھامیں نانی سے کہتی کہ اس سے اچھے بھلے دروازے کی شو خراب ہوتی یے تو وہ کہتی تھیں اس سے گھر کا پردہ ہو جاتا یے ورنہ دروازہ کھولتے ہی باہر والے کی صحن میں بیٹھے افراد پر نظر پڑ جاتی ہے حتیٰ کہ نانی کا ٹی وی بھی دروازے والا تھا اور وہ ٹی وی بند کرتے ہی دروازے بند کرنے کا حکم دیتی تھیِں کہ اسکو بھی ڈھک کر رکھواب یہ پردہ کیا تھا۔یہ وضع داری کا پردہ تھا،مروت کا پردہ تھا،یہ پردہ وہ تھا جو بے حیا ہونے سے بچاتا تھا۔رزق کی اہمیت بڑھاتا تھا۔

رزق کی عزت کرنا سکھاتا تھااور اب یہ پردہ کہاںہے۔اب یہ ہم سب کی عقلوں پر پڑ گیا یے۔ہمیں برا ئی برائی نہیں لگتی۔بے حیا ئی آہستہ آہستہ ہمارے گھروں میں جگہ بنا رہی ہے۔ہم اپنے باپ سے انتہائی بے تکلف تھے تب بھی ایک پردہ تھا۔کیونکہ امی کہتی تھیںباپ بیٹی میں،بہن بھا ئی میں بھی پردہ ہوتا ہے تو قائم رہنا چاہیے۔آج کسی کو کہو تو وہ طعنہ ہی مار دیتا ہے کہ جی آپ کے ابو آپکو پیار ہی نہیں کرتے ہونگے۔بہرحال اپنی ذات تک تو میں پوری کوشش کرتی ہوں کہ امی کی گئی نصیحت کو اپنے گھر میں ہمیشہ لاگو کر سکوں۔

اسکے باوجود میں کپڑے کے تھیلہ میں سودا نہیں منگوا سکتی کہ یہ میرے بچوں کو منظور نہیںاور زمانے کے ساتھ چلنا بھی ضروری یے تو اپنی بہت سے قیمتی روایات ہم لوگ اب کھو چکے ہیں۔افسوس۔دعا یہی ہے کہ رشتوں کے جو بھرم اور پردے ہمارے مذہب نے بنائے ہیں۔ہم خود بھی ان پر عمل کر سکیں اور اپنی اولادوں کو بھی عمل کرنا سکھا سکیں۔

Read all Latest stories in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from stories and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: A lot of things supposed to be in pardah in Urdu | In Category: افسانے و کہانیاں Stories Urdu

Leave a Reply