ظہیر خان کو بولنگ کوچ مقرر کرنے سے کمبلے اور ٹیم انڈیا کو مزید تقویت ملے گی

(سید اجمل حسین)
ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے کوچ کے تقرر کے لیے کوئی معیار یا پیمانہ طے کرنے کے بجائے اس کا اختیار اپنے دور کے تین معروف اور میچ وننگ کھلاڑیوں سچن ٹنڈولکر، سوربھ گنولی اور وی وی ایس لکشمن پر مشتمل انٹرویو ٹیم نیز جیوری تشکیل دینے اور اسی دور کے دیوار کے نام سے پکارے جانے والے چوتھے کھلاڑی راہل دراوڑ کو انڈیا انڈر 19کا کوچ مقرر کرنے کا جو دانشمندانہ فیصلہ کیا تھا اس نے کم از کم کچھ ایسے کھلاڑیوں خاص طور پر ٹیم میں گروپ بازی پیدا کرنے کے لیے بدنام روی شاستری جیسے کھلاڑی کو سرے سے نظر انداز کر کے جو جراتمندانہ اقدام کیا وہ نہ صرف قابل ستائش ہے بلکہ ٹیم انڈیا کو بکھرنے سے بچالینے والا ہے۔
ورنہ جب سے روی شاستری ٹیم انڈیا کے ڈائریکٹر بنے تھے ٹیم انڈیا انتشار کا شکار نظر آرہی تھی اور جس طرح کسی دور میں ہندوستانی کرکٹ بورڈ پر حاوی ممبئی لابی کے روح رواں بن کر محمد اظہر الدین کی قیادت میں من مانی کرکے روی شاستری نے اپنے انٹرنیشنل کرکٹ کیریر کے آخری ایام میں اپنے ہوتے ہوئے کسی اور کو ٹسٹ میچوں میں افتتاحی بلے باز کے طور پر شامل نہ کرنے کے لیے در پردہ سازشیں کیں اس سے تازہ تازہ کپتان بنے محمد اظہر الدین کی بیٹنگ ترتیب نہ صرف بگڑ گئی تھی بلکہ دو چار چھوڑکر کے علاوہ کسی بھی میچ میں انہوں نے محمد اظہر الدین کو ایسی مضبوط بنیاد نہیں دی جس سے مڈل آرڈر کو حریف بولروں پر حاوی ہونے کا موقع ملتا۔اور جن میچوں میں انہوں نے سنچری یا ڈبل سنچری بنائی تو اس میں بھی خود غرضی جھلک رہی تھی۔کیونکہ وہ اننگز بھی ٹیم کے لیے کم ذاتی کامیابی یا آئندہ سریز کے لیے اپنی جگہ پختہ کرنے کے لیے ہی کھیلی گئی تھی۔ اور اس کے لیے بھی جتنے رنز بنائے اس سے دوگنی تگنی زائد گیندیں کھیلیں۔
اور جب ٹیم انڈیا کے ڈائریکٹر بنے تو مہندر سنگھ دھونی کی مقبولیت آنکھوں میں کھٹکنے لگی۔ چونکہ دھونی خود بھی اپنے کھیل اور قسمت کے سہارے کامیابیوں کی سیڑھیاں پھلانگ اور کرکٹ شیدائیوں کے دل میں جگہ بنارہے تھے اس لیے شاستری لاکھ کوششوں کے باوجود ان سے چھٹکارہ پانے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ لیکن شاستری کی محنت رنگ لائی اور گذشتہ دورہ آسٹریلیا میں وہ دھونی کو تو انٹرنیشنل کرکٹ کے افق سے غائب کرنے کی اپنی سازش کے ایک جزو کے طور پر ٹسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لینے پر مجبور کرنے میں کامیاب ہو گئے ۔لیکن ون ڈے انٹرنیشنلز اور ٹونٹی ٹونٹی میچوں سے بھی انہیں ریٹائر منٹ لینے پر مجبور کرنے سے پہلے ہی ”تین مورتی“ نے ان کا پتہ صاف کر کے ان کے اس خواب کو چکنا چور کر دیا۔لیکن اپنے کرکٹ کیریر کے دوران کسی کو اپنے اوپر فوقیت نہ لینے دینے کے عادی روی شاستری نے کوچ کی دوڑ میں بھی خود کو کوچ کے طور پر قبل از وقت تسلیم کر لیا تھا ۔
لیکن اپنے سے کہیں زیادہ جونیر انل کمبلے کے انتخاب پر وہ آگ بگولہ ہو گئے۔کیونکہ ان کے خیال میں انل کمبلے جو اس وقت کرکٹ کے افق پر نمودار ہوئے تھے جب روی شاستری کو انٹرنیشنل کرکٹ کھیلتے ہوئے 9سال بیت گئے تھے،کسی طور بھی کوچ کی دوڑ میں ان کے آس پاس بھی نہیں ہونے چاہئیں تھے۔لیکن جس طرح 1990میں پاکستان کے خلاف ٹیم انڈیا کی کراری شکست کے بعدسری کانت کی جگہ نئے کپتان کے طور پر ان سے کہیں زیادہ جونیر لیکن کرکٹ کے کھیل کے تئیں نہایت سنجیدہ و دیانتدار محمد اظہر الدین کو کپتان بنا کر انہیں یہ پیغام دیا گیا تھا کہ کرکٹ بورڈ کے کسی عہدیدار اور سلیکشن کمیٹی کو ان کی اکڑفوں،تکبرانہ انداز گفتگو اور دادا گیری قطعاًپسند نہیں ہے اسی طرح کا رویہ بورڈ کے نئے صدر اور کرکٹ کی زبردست سمجھ رکھنے والے ٹنڈولکر، گنگولی اور لکشمن پر مشتمل جیوری نے اختیار کیا اور ان سے کہیں جونیر انل کمبلے کو ان پر ترجیح دے کر قومی ٹیم کا کوچ بنایا مقرر کر دیا۔انل کمبلے سے کئی ایسے کھلاڑیوں خاص طور پر ابھرتے ہوئے مسلم کھلاڑیوں کو امیدیں وابستہ ہیں کہ وہ اس تین مورتی کے ساتھ مل کر ان سے انصاف کریں گے۔ کیونکہ چاروں خاص طور پر سوربھ گنگولی ہمیشہ ٹیلنٹ کی تلاش میں رہتے ہیں۔
محمد کیف، وسیم جعفر، ظہیر خان، عرفان خان پٹھان اورمناف پٹیل جیسے مسلم کھلاڑی اور یوراج سنگھ ، مہندر سنگھ دھونی ،وریندر سہواگ اور ہربھجن سنگھ کی کرکٹ زندگی کو سوربھ گنگولی نے ہی سنوارا اور سچن ٹنڈولکرو وی وی ایس لکشمن نے ان کھلاڑیوں میں اعتماد پیدا کرنے میں سوربھ گنگولی کا زبردست ساتھ دیا۔ اس لیے امید کی جارہی ہے کہ ٹیم انڈیا میں فوری طور پر اگر مسلم کھلاڑیوں کی تعداد میں اضافہ نہ ہوا تو بھی کم ازکم بولنگ کوچ کی ذمہ داری ضرور مسلم فاسٹ بولر ظہیر خان کے کندھوں پر ڈالی جاسکتی ہے۔اسے ظہیر خان کا حق نہ سمجھا جائے بلکہ یہ ہندوستانی کرکٹ بورڈ کی ذمہ داری ہے کہ وہ ٹیم انڈیا کے فاسٹ اٹیک کو میچ وننگ اٹیک میں بدلنے کے لیے ظہیر خان کی خدمات حاصل کرے۔ظہیر خان بلاشبہ ہندوستانی کرکٹ تاریخ کے ایسے واحد بہترین فاسٹ بولر رہے ہیں جس نے ہر فارمیٹ کی کرکٹ میں اپنی رفتار، سوئنگ اور یارکر بولنگ سے تہلکہ مچائے رکھا ۔
غیر ملکی ٹیموں میں ،جو عام طور پر ہندوستانی اسپن اٹیک سے ہی خوفزدہ رہا کرتی تھیں اور فاسٹ اٹیک کو حلوہ سمجھتی تھیں ظہیر خان کی فاسٹ بولنگ سے بھی خوفزدہ رہنے لگیں ۔ اور600انٹرنیشنل وکٹیں اس کا کھلا ثبوت ہیں۔ آسٹریلیا، انگلستان اور جنوبی افریقہ کی سبزہ زار پچ ہو یابرصغیر کی دھول اڑاتی یاگنجی اور سپاٹ ہو ظہیر خان کی شاطرانہ اور حالات و وقت کے تقاضہ کے عین مطابق بولنگ ہر پچ کو بولنگ کے لیے سازگار پچ بنا دیا کرتی تھی۔ظہیر خان کا کچھ افتتاحی بلے بازوں خاص طور پر جنوبی افریقہ کے ورلڈ کلاس افتتاحی بلے باز گریم اسمتھ پر اس قدر خوف طاری رہا کرتا تھا کہ ایک ٹسٹ میچ میں ٹیم انڈیا کو ئی بھی بولر خواہ فاسٹ ہو یا اسپنر اگر اسمتھ کو بولنگ کر رہا ہے تو سلپ فیلڈرز مل کر ایک ہی آواز نکال کرتے تھے”ویل بولڈ زاک،ویل بولڈ زاک“ یہاں تک کہ اگر ہربھجن اور انل کمبلے بھی بولنگ کر رہے ہوتے تھے تو سلپ فیلڈر اسمتھ کو مزید خوفزدہ کرنے کے لیے ہر گیند پر”ویل بولڈ ظہیر، ویل بولڈ ظہیر“ چیخا کرتے تھے۔
اس لیے ان کا انٹرنیشنل کیریراورہر قسم کے حالات میں دونوں طرف سوئنگ کرانے کے ساتھ ساتھ نئی گیند تک سے ریورس سوئنگ کرانے کی زبردست صلاحیت ان کی خدمات لینے پر مجبور کر رہا ہے۔یہی نہیں ہر چھوٹے بڑے کھلاڑی کے ساتھ دوستانہ رویہ اور اگر وہ فاسٹ بولر ہے تو اس کی گرومنگ کرناجیسا کہ ایشانت شرما، عرفان پٹھان،پروین کمار اور حال ہی میں نئی فاسٹ سنسنی محمد شامی کی جس دوستانہ اور مشفقانہ انداز سے رہنمائی کی اس کے یہ فاسٹ بولر خود معترف ہیں سونے پر سہاگہ کے مانند ہے۔ علاوہ ازیں زبان کا کوئی مسئلہ نہیں رہے گا۔ کیونکہ ضروری نہیں کہ ہر کھلاڑی انگریزی سمجھ سکتا ہو۔
کوچ کا کام محض ہدایت دینا ہی نہیں ہے بلکہ کھلاڑیوں میں تحریک پیدا کرنا اور جیت کی امنگیں جگانا اور ان کی خامیوں کی نشاندہی کرکے انہیں دور کرنے کے راہیں اور طریقے بتانا ہوتا ہے اور ا سکے لیے نرم گوئی کے ساتھ ہم لساں ہونا نہایت ضروری ہے۔اور ظہیر خان اس معیار پر بھی پورے اترتے ہیں۔اگر انل کمبلے نے اپنے معاون عملہ میں ظہیر خان کو بولنگ کوچ کے طور پر شامل کرنے کی سفارش کی تو چیف کوچ کا جراتمندی سے انتخاب کرنے والی یہ ”تین مورتی“اس سفارش کو ہر گز ردی کی ٹوکری میں نہیں ڈالے گی۔

Read all Latest sports news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from sports and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Zahir khan deserve to become bowling coach for team india in Urdu | In Category: کھیل Sports Urdu News

Leave a Reply