کیاورلڈ کپ کے لیے ٹیم انڈیا کی یہی تیاری ہے

(سید اجمل حسین)

یہ بات اپنی جگہ بالکل درست کے اس وقت ٹیم انڈیا ایک سال کے دورانیہ میں بیرون ملک ون ڈے میچز کی4میں سے3 سریز ،ایشیا کپ اور ایک ہوم سریزجیت کر2019کا ورلڈ کپ 2019 جیتنے کی مضبوط دعویدار بن گئی تھی۔ کیونکہ اس دوران اس نے جنوبی افریقہ ،آسٹریلیا اورنیوزی لینڈ اور ہوم سریز میں ویسٹ انڈیز کو تو دو طرفہ سریز میں اور دوبئی میں کھیلے گئے ایشیا کپ میں پاکستان اور بنگلہ دیش کو کثیر فریقی ٹورنامنٹ میں شکست دے کر ہر لحاظ سے خود کو ورلڈ کپ جیتنے کے لائق ٹیم قرار دلوایا تھا لیکن ان کامیابیوں کے فوری بعد آسٹریلیا کے خلاف حالیہ ہوم سریز 2-3سے ہار کر اس نے کرکٹ حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے ۔کیونکہ اس کی بیٹنگ صف نے جس طرح جیمس کمنز ، ایوان رچرڈسن اور اسٹوئنس اورایڈم زمپا اورناتھن لیون پر مشتمل فاسٹ و اسپن کے ملے جلے اٹیک کے خلاف گھٹنے ٹیک کر آسٹریلیا کو سریز میں0-2سے پیچھے رہنے کے باوجودنہ صرف سریز میں واپس آنے اور پھر تسلسل سے تینوں میچ جیت کر سریز بھی جیتنے کی کھلی اجازت دی اس سے کرکٹ شوقینوں کاتشویش میں مبتلا ہونا اس لیے فطری ہے کیونکہ انگلستان میں فضا میں خنکی کے ساتھ ساتھ سوئنگ کے باعث وہاں حالات بڑے نامساعد ہوں گے۔اس روشنی میں اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ اگر انگلستان کی سوئنگنگ فضا میںٹیم انڈیا کو ہملٹن، ولنگٹن ،سڈنی اور ڈربن جیسی پچوں پر کھیلنا پڑا تب بھی وہ 100کے اندر آو¿ٹ ہوئے بغیر ایک بڑااسکور کرکے یا حریف ٹیم کی جانب سے دیے گئے کسی بڑے ہدف کا کامیاب تعاقب کر کے ٹرافی تک رسائی حاصل کر لے گی ۔

کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ ہندوستان کو جب بھی اس قسم کی پچوں اور سوئنگنگ فضا سے واسطہ پڑا توٹیم انڈیا معمولی اسکور پر ڈھیر ہو گئی یا پھر ہدف سے میلوں دور گھٹنے ٹیک گئی۔بارہا ایسا ہوا ہے کہ بیرون ملک ون ڈے میچز کی سریز کھیلتے ہوئے ہندوستانی بلے باز پوری سریز میں ایک اکائی کی شکل میں تسلسل سے عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر سکے۔صرف دو یا کبھی کبھار تین اور چار بلے باز ہی مل کر ٹیم کی اننگز سنبھالتے رہے۔ اور اسی اسکور کو ہندوستان اپنے فاسٹ اور اسپن بولنگ کے ملے جلے اٹیک سے جیت کی شکل میں بدلتا رہا۔لیکن یہ بولنگ اٹیک بھی ہمیشہ تو میچ وننگ اٹیک ہونے سے رہا اور آسٹریلیاکے خلاف حالیہ ون ڈے میچوں کی سریز میں ہندوستانی بولروں کی ناکامی اس امر کی گواہ ہے۔

ورلڈ کپ میںجس وقت بھی گورے بلے بازوں کو ٹیم انڈیا کے اسپن اٹیک کو قابو کرنے کا موقع مل گیا تو پھر ان کا بھی ایسا ہی حشر ہوسکتا ہے جیسا فاسٹ پچوں پر تمام ممالک کے اسپنرز کا ہوتا رہا ہے۔ ایسی صورت میں فاسٹ اٹیک بھی مفلوج سے ہو جائے گا۔اور اگر ولنگٹن ،ہملٹن اور سڈنی جیسی بیٹنگ ٹیم انڈیا کے تعاقب میں رہی توحالات اور بدتر ہو جائیں گے۔اور اس کے امکانات کچھ زیادہ ہی ہیں کیونکہ حالیہ دورہ آسٹریلیا و نیوزی لینڈ میں ہندوستان ٹارگٹ کے تعاقب میںاور ٹارگٹ دینے میںجس طرح ڈھیر ہوا اس سے سوالات کا جنم لینا فطری ہے۔نیو زی لینڈ میں چوتھے میچ میں جس طرح ہندوستان محض31اوور ہی کھیل سکا اور پوری ٹیم جس طرح 92رنز پر آو¿ٹ ہوئی وہ یہ سوال کرنے پرمجبور کر رہا ہے کہ آخرجس ٹیم میں وہ کھلاڑی شامل تھے جن کا ورلڈ کپ کھیلنا کافی حد تک یقینی ہے انہوں نے ایسی کون سی تیاری کی ہے جس کی بنا پر ان سے یہ توقع کی جاسکتی ہو کہ وہ ورلڈ کپ کے ہر میچ میں اسی طرح تسلسل سے عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے رہیں گے جیسی اپنے عروج کے دور میں ویسٹ انڈیزاورآسٹریلیا کی ٹیم کرتی رہی ہے۔

کیونکہ اس وقت ٹیم انڈیا کی کچھ ایسی ہی پوزیشن ہے اور وہ بھی عروج پر ہے۔کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ جس ٹیم میں روہت شرما، شکھر دھون ،دنیش کارتک ،کیدار جادھواور انباٹی رائیڈوجیسے بلے باز ہوں 50کے ہندسے تک پہنچنے سے پہلے ہی اس کے سات بلے باز پویلین لوٹ جائیں گے۔اگر یہ پچ بیٹنگ کے لیے سازگار نہ ہوتی تو نیوزی لینڈکے بلے باز 93رنز کے ہدف کو محض88گیندوں پر ہی پورا نہ کر لیتے۔جبکہ اسی پچ پر ٹیم انڈیا کے بلے بازوں نے 184گیندوں پر بدقت 92رنز بنائے اور وکٹ بھی سارے گنوا دیے ۔جبکہ نیوزی لینڈ نے یہی اسکور بنانے میں صرف دو وکٹ کھوئے۔ایسی ہی صورت حال ٹونٹی ٹونٹی میچز کی سریز کے پہلے ہی میچ میں رہی۔ آئی پی ایل کھیلنے کے باعث جس طرح ٹیم انڈیا 20اووروں کے میچ کھیلنے میں مہارت رکھنے کے باوجود 20اوور بھی نہ کھیل سکی اورہدف سے میلوں دور ڈھیرہو گئی۔اس نے بھی کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔جبکہ اس میچ میں تو تین وکٹ کیپر بلے بازمہندر سنگھ دھونی، دنیش کارک اور رشبھ پنت اور3 آل راو¿نڈر وجے شنکر،ہاردیک پانڈیا، کرونال پانڈیا بھی کھیل رہے تھے ۔پھر بھی آدھے اووروں میں ہی 6بلے بازوں کاآو¿ٹ ہوجانا باعث تشویش ہے۔

یہی نہیں بارہا ایسا بھی ہوا ہے کہ اسی ٹیم کے جسے ورلڈ کپ کا مضبوط دعویدار بنا کر پیش کیاجارہاہے پانچ چھ اور کبھی کبھی سات بلے باز دہائی کے ہندسہ میں پہنچے بغیر ہی پویلین سدھار گئے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ان بلے بازوں پر ایسا کون ساخوف طاری تھا کہ وہ کریز پر رکنا ہی پسند نہیں کر رہے تھے۔بلکہ ایسا لگ رہا تھا کہ وہ کرکٹ پچ پر نہیں بلکہ کسی گرم توے پر ہوں۔کوئی بلے باز دباو¿ جھیلنے یا دباو¿ میں بیٹنگ کرنے کے جوہر نہیں دکھا سکا۔ یہ صحیح ہے کہ نیوزی لینڈ کے بولروں نے حالات کا بھرپور فائدہ اٹھایا لیکن ہندوستانی بلے باز جن صلاحیتوں کے مالک ہیں وہ اگروہ اپنے اوسان بحال رکھتے اور ہڑبڑاہٹ میں شاٹ نہ کھیلتے تو نہ ون ڈے میچ میں یہ درگت بنتی اور نہ ٹونٹی ٹونٹی میچ میں ایسی بدتر صورت حال کا سامنا کرنا ہوتا۔بہر حال ہندوستانی بلے باز وں کو ج جن کی اس سے پہلے کمزوری فاسٹ بولنگ تھی وہ تو دور ہو گئی لیکن اب سوئنگ بولنگ کے خلاف جو کمزوری ابھر کر سامنے آئی ہے اس سے نمٹنا ضروری ہے کیونکہ انگلستان میں گیند اسپیڈ سے بھی آئے گی اور سوئنگ بھی خوب ہوگی۔

Read all Latest sports news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from sports and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: World cup and team indias chances in Urdu | In Category: کھیل Sports Urdu News
What do you think? Write Your Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.