کیا اس بار بھی ورلڈ ٹی ٹونٹی ٹرافی میزبان ملک میں رکنے سے انکار کر دے گی؟

(سید اجمل حسین)
آئی سی سی ورلڈٹی 20اپنی پوری آب و تاب سے شروع ہو چکا ہے لیکن ہمیشہ کی طرح اس بار بھی سب کے ذہنوں میں یہی سوال گردش کر رہا ہے کہ کیا اس بار بھی اس ورلڈ ٹی 20 ٹرافی میزبان کرکٹ بورڈ کی زینت بننے سے انکار کر دے گی یا جن ملکوں کے کرکٹ بورڈ کے دفترکی ابھی تک وہ زینت نہیں بنی ہے ان میں سے کسی ملک کی سیر پر روانہ ہونا پسند کرے گی۔
اگرچہ پہلے ہی میچ میں میزبان ہندوستان کی شکست اور کبھی یہ ورلڈ کپ نہ جیتنے والی مہمان نیوزی لینڈ ٹیم کی جیت نے کافی حد تک اس سوال کا جواب دے بھی دیا ہے۔لیکن ابھی چونکہ ٹورنامنٹ اپنے ابتدائی مرحلہ میں ہے اس لیے کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا۔ لیکن پہلے ہی میچ میں ٹیم انڈیا کی شکست سے میزبان ٹیم کے امکانات کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ اگر اس ورلڈکپ کی تاریخ اور میزبان ملک سے اس کی بے وفائی پر ایک طائرانہ نظر ڈالی جائے تو اس بار پھر شاید ٹرافی کو میزبان ملک میں کئی روز کے قیام کے دوران ملک کی فضا اورکرکٹ بورڈ کا دفتر پسند نہیںآئے گا۔ جس کا پہلے میچ سے ہی آغاز ہو چکا ہے۔
پہلی باراس ٹورنامنٹ کی میزبانی کا شرف 2007میں جنوبی افریقہ کو حاصل رہا لیکن شان پولوک، مکھایا انٹینی،مورنے مورکل اور وانڈر ویتھ پر مشتمل اس وقت کے بہترین فاسٹ اٹیک اور گریم اسمتھ، ہرشل گبز، ڈی ولئیر اور مارک باو¿چر پر مشتمل بہترین بیٹنگ صف اور ہوم گراو¿نڈ و ہوم کراو¿ڈ کا فائدہ ہونے کے باوجود جنوبی افریقہ اس جگمگاتی ٹرافی کو ہندوستان کی سیر پر جانے سے نہ روک سکا۔
اس ٹورنامنٹ کی خاص بات یہ رہی کہ پانچ بار ٹیموں نے 200کا ہندسہ پار کیا۔لیکن جس ٹیم نے 200کا ہندسہ پار کیا وہ گذشتہ ورلڈ کپ تک کسی میچ میں اس اسکور سے آگے نہ بڑھ سکی جو 2007کے ٹورنامنٹ کی سیک اننگز میں اس نے بنایا تھا۔ سری لنکا نے کینیا کے خلاف6وکٹ پر260رنز بنائے جو ورلڈ کپ کی تاریخ میں اب تک کا سب سے بڑا اسکور ہے اور سری لنکا بھی ابھی تک اس سے زیادہ رنز نہیں بنا سکا۔ اسی طرح ہندوستان نے 218جنوبی افریقہ نے208ویسٹ انڈیز نے 205اور انگلستان نے 200رنز کی اننگز کھیلی تھی۔
اور ان ٹیموں کا اب تک کے تمام ٹی 20ٹورنامنٹوں میں یہی سب سے بڑا اسکور رہا ہے۔البتہ جنوبی افریقہ نے اگلے ہی ٹورنامنٹ میںاسکاٹ لینڈ کے خلاف پانچ وکٹ پر211رنز بنا کر ضرور اپنا ہی ریکارڈ توڑنے میں کامیابی حاصل کر لی تھی۔اسی ٹورنامنٹ میںکر س گیل نے اپنے بازوو¿ں کی طاقت کا بے مثال مظاہرہ کرتے ہوئے ٹی 20میں سنچری بنانے والے پہلے بلے باز، بریٹ لی نے ہیٹ ٹرک کر کے ٹی 20میں ہیٹ ٹرک کرنے والے پہلے بولر اور یوراج سنگھ نے کرس براڈ کی لگاتار گیندوں پر چھ چھکے لگا کر ایک اوور میں چھ چھکے لگانے والے پہلے کھلاڑی ہونے کا اعزاز حاصل کیا ۔ گیل نے جنوبی افریقہ کے خلاف پہلے ہی میچ میں صرف57گیندوں پر سات چوکوں اور دس چھکوں کی مدد سے117رنز بناکر سب کو ششدر کر دیا تھا۔ یوراج سنگھ نے کرس براڈ کی لگاتار گیندوں پر چھ چھکے اور بریٹ لی نے ٹی ٹونٹی میں پہلی ہیٹ ٹرک کر کے اس ٹورنامنٹ کو یادگار بنا دیا تھا۔لیکن ٹرافی نے جنوبی افریقہ میں نہ رکنے کا فیصلہ کر کے کسی میزبان ملک میں نہ ٹہرنے کی ایسی روایت ڈالی کہ 2009میں انگلستان نے میزبانی کی لیکن ٹرافی نے پاکستان کا رخ کیا۔
یہ ٹورنامنٹ ہالینڈ کے ہاتھوں انگلستان کی اور سری لنکا کے خلاف آسٹریلیا جیسی مضبوط ٹیموں کی شکست، ایک بار پھر گیل طوفان اور شاہد آفریدی کی سیمی فائنل اور فائنل میں ہاف سنچریوں کے باعث یاد رکھا جائے گا۔کیونکہ یہ شاہد آفریدی کا شاندار آل راو¿نڈ کھیل ہی تھا جس نے اس جگمگاتی ٹرافی کو پاکستان کرکٹ بورڈ کی زینت بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔اور میزبان انگلستان منھ دیکھتا رہ گیا۔
2010کا ٹورنامنٹ بھی میزبان ویسٹ انڈیز کے لیے بڑا مایوس کن رہا۔ اگر بر اعظم افریقہ میں ٹرافی کے لیے فیصلہ کن معرکہ دو ایشیائی ٹیموں میں رہا اور اس کے بعد براعظم یورپ(انگلستان) میں بھی فائنل مقابلہ ایشیائی ٹیموں کے ہی درمیان رہا تو تیسرے ورلڈ کپ کی آخری لڑائی جو سیاہ فوموں کے ملک ویسٹ انڈیز میں ہورہی تھی دو گورے ملکوں انگلستان اور آسٹریلیا کے درمیان لڑی گئی جبکہ میزبان ویسٹ انڈیز جنوبی افریقہ اور انگلستان کی طرح اپنا سا منھ لے کر رہ گیا کیونکہ اس کی نظروں کے سامنے یہ ٹرافی اسے منھ چڑاتے ہوئے انگلستان روانہ ہو گئی۔
2012میں بھی میزبان ملک کو خفت اٹھانا پڑی۔اس بار میزبانی کا شرف سری لنکا کو حاصل رہا لیکن اپنی ہی سرزمین پر اس ٹرافی پر قبضہ کر کے ٹی 20کی تاریخ میں دوسری بار یہ ٹرافی جیت نئی تاریخ رقم کرنے کا اس کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا۔ اور ٹرافی اسی ملک ویسٹ انڈیز روانہ ہو گئی جہاں اس نے گذشتہ ٹورنامنٹ میں قیام کرنے سے انکار کر دیا تھا۔آخری ٹی ٹونٹی ٹورنامنٹ2014میں بنگلہ دیش میں ہوا۔ اور وہی ٹرافی جس نے گذشتہ بار ہی سری لنکا میں قیام کرنے سے انکار کر دیا تھا اس بار بخوشی سری لنکا روانہ ہو گئی۔
اگرچہ اس ٹورنامنٹ میں امیت مشرا، عمران طاہر اور اشون نے زبردست دھوم مچائی تھی لیکن سری لنکا کے اسپنر رنگانا ہرات نے 3.3اووروں میں تین میڈن کے ساتھ صرف 3رنزکے عوض5وکٹ لے کر ان تینوں اسپنروں کی پرفارمنس کو ماند کر دیا۔ چونکہ ٹرافی نے ایک بار پھر میزبان ملک کو مستقل میزبانی کا شرف حاصل نہ کرنے دیا اس لیے اس روشنی میں رواں ٹی 20ورلڈ کپ کے بارے میںبھی قیاس آرائیاں شروع ہو گئی ہیں کہ ٹیم انڈیا کی حالیہ کامیابیوں اور نازک موقعوں پر اس کے کسی نہ کسی کھلاڑی کی میچ وننگ پرفارمنس کے باوجود یہ ٹرافی ہندوستان میں قیام کرنا شاید پسند نہ کرے اور اس بار آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقہ میں سے کسی ایک کا انتخاب نہ کر لے۔

Read all Latest sports news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from sports and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Will this time host country get succed to win t 20 world championship in Urdu | In Category: کھیل Sports Urdu News

Leave a Reply