ویسٹ انڈیز میں ٹیم انڈیا سے زبردست امیدیں وابستہ

سید اجمل حسین
نوجوان وراٹ کوہلی کی قیادت میں نئے اور چند روز پرانے کھلاڑیوں پر مشتمل ٹیم انڈیا آج جمعرات سے چار ٹسٹ میچوں کی سریز کا آغاز کر رہی ہے۔ اگرچہ اس وقت جس طرح ویسٹ انڈیز کے سابق معروف ٹسٹ کرکٹرز خاص طور پر سر ووین رچرڈز، کورٹنے والش، ایمبروز اور برائن لارا ویسٹ انڈیز کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی اور انہیں جیتنے کے گر سکھا رہے ہیں اس سے محسوس تو یہی ہوتا ہے کہ وراٹ کوہلی کے لرکوں کے لیے یہ دورہ آسان نہیں ہوگا۔ لیکن ٹیم انڈیا کی بیٹنگ طاقت اور اسپن ہتھیار دیکھ کر یہ محسوس ہوتا ہے کہ ٹیم انڈیا کو اپنی ہی سرزمین پر ویسٹ انڈیز کو سریز ہرانے کی ہیٹ ٹرک کرنے کے بعد اسی کے گھر میں بھی سریز جیتنے کی ہیٹ ٹرک کرنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی۔
واضح رہے کہ گذشتہ15سال سے ٹیم انڈیا ویسٹ انڈیز سے ایک بھی ٹسٹ نہیں ہاری ہے۔ اس دوران دونوں ٹیموں کے مابین 15ٹسٹ میچز کھیلے گئے۔جن میں سے 8ٹسٹ ہندوستان نے جیتے اور 7ٹسٹ میچ ڈرا رہے ۔ایک نظر اگر دونوں ملکون کی کرکٹ تاریخ پر ڈالی جائے تو دونوں ملکوں کے کرکٹ تعلقات کے ابتدائی دور ہندوستان کے لیے کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں رہا ۔کیونکہ تقریباً40سال پہلے کا دور ایسا تھا کہ ہندوستان کے لیے ویسٹ انڈیز کو شکست دینا نہ صرف مشکل بلکہ ناممکن تھا۔1948سے1967تک 20سال کے دوران ہندوستان کو اپنے اس دور کے معروف اور عالمی معیار کے کھلاڑیوں کی خدمات حاصل ہونے کے باوجود ایک ٹسٹ میچ تو دور کی بات کوئی دوستانہ یا پریکٹس میچ تک جیتنا نصیب نہ ہو سکا تھا۔
حالانکہ اس وقت ہندوستان کو لالہ امرناتھ،وجے ہزارے، ہیمو ادھیکاری، سید مشتاق علی، وینو مانکڈ،غلام احمد، پولی امریگر،وجے مانجریکر، سبھاش گپتے، ناری کنٹریکٹر، چندو بورڈے ،ایم ایل جے سمہا، سلیم درانی،منصور علی خان پٹوڈی،دلیپ سرڈیسائی، روسی سورتی، چندو بورڈے اور باپو ندکارنی جیسے وہ بلے باز و بولرز دستیاب تھے جو آج کے دور میں موجودہ ویسٹ انڈیز کرکٹ ٹیم کے خلاف کھیل رہے ہوتے تو پانچ روز کے ٹسٹ میچ میں دو بار ویسٹ انڈیز کو ہراسکتے ۔لیکن 1971میں ہندوستانی کرکٹ کے افق پر سنیل گواسکر کے نام سے ایک ایسا ستارہ نمودار ہوا جس کی چمک دمک نے ویسٹ انڈیز کا ناقابل تسخیر ہونے کا غرور چکنا چور کر دیا۔
اس دورے کے دوران سنیل گواسکر نے چار سنچریوں بشمول ایک ڈبل سنچری کے ساتھ ساتھ ویسٹ انڈیز کو اسی کی سرزمین پر ہندوستان کو 20سالہ تاریخ میں نہ صرف پہلا اور سریز کا واحد ٹسٹ میچ اور سریز بھی جتوائی بلکہ اپنے ہم صوبہ اجیت واڈیکر کو ،جنہوں نے گواسکر کے ٹسٹ ڈیبو کی طرح کیپٹنسی ڈیبو کیا تھا، پہلی بار 20سال بعدویسٹ انڈیز کے خلاف کوئی سریز جیتنے والے کپتان کا اعزاز حاصل کرنے کا موقع بھی دیا۔ ہند ۔ویسٹ انڈیز کرکٹ تاریخ کے ابتدائی 20سال کے دوران ویسٹ انڈیز نے ہندوستان کا جو حشر کیا تھا ویسا ہی حشر آخری 20سالوں میں ہندوستان نے ویسٹ انڈیز کا کیا ہے۔ گوکہ حساب تو بیباق نہیں ہوسکا لیکن اس دوران اجیت واڈیکر کی طرح مہندر سنگھ دھونی کو بھی جہاں ایک جانب پہلی ہی کوشش میں ویسٹ انڈیز کومیچ اور سریز ہرانے کا اعزاز حاصل ہوا وہیں انہیں ہندوستان کا وہ واحد کپتان ہونے کا بھی اعزاز حاصل ہو گیا جس نے اپنی قیادت میں ویسٹ انڈیز کو اسی کے گھر میں گھس کر نہ صرف دو بار سریز ہرائی بلکہ ویسٹ انڈیز کے خلاف اپنی قیادت میں کھیلی گئی ہر سریز جیتی۔
اب سارا دارومدار ایک بار پھر نئے کپتان وراٹ کوہلی کی قیادت میں ویسٹ انڈیز کا دورہ کرنے والی ٹیم انڈیا پر ہے کہ وہ یہ سریز بھی جیت کر ہند ویسٹ انڈیز کرکٹ تاریخ کے اول 20 سال کے دوران ویسٹ انڈیز کی سرزمین پر 2ٹسٹ سریز ہارنے کے ریکارڈ کو آخری20 سال کے دوران اسی کی سرزمین پر اسے تین ٹسٹ سریز ہرانے کے ریکارڈ میں بدل کروراٹ کوہلی کو بھی واڈیکر اور دھونی کی طرح وہ اعزاز دلادے جو ان دونوں نے ویسٹ انڈیزکے خلاف پہلی بار قیادت کرتے ہوئے سریز جیتنے کا حاصل کیا تھا۔ مجموعی اعتبار سے دیکھا جائے تو ٹیم انڈیا نے جو کامیابی 1971کی سریز میں حاصل کی تھی وہ بیرون ملک کھیلی گئی اب تک کی تمام کرکٹ سریز میں سب سے بڑی اور قابل ذکر کامیابی قرار دی جا سکتی ہے۔
کیونکہ یہ وہ سریز تھی جس میں دلیپ سر ڈیسائی اور سنیل گواسکر دو ایسے ہیرو تھے جنہوں نے ویسٹ انڈیز کے خلاف کرکٹ تعلقات قائم ہونے کے بعد20سال بعد ویسٹ انڈیز کے خلاف ہندوستان کو پہلی فتح دلانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ اس 20سالہ کی مدت میں دونوں ملکوں کے درمیان24ٹسٹ میچ کھیلے گئے تھے جن میں سے ویسٹ انڈیز نے 12میچز جیتے تھے جبکہ 12میچ ڈرا ہو گئے۔یہ وہ دور تھا جب کالی آندھی کو ایسا زور تھا کہ کوئی خاص طور پر اسی کی سرزمین پر اس کے آگے ٹک نہیں پا رہا تھا۔ایسے حالات میں ٹیم انڈیا کی جیت کا تصور کرنا بھی محال تھا۔6مارچ1971کو ہندوستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان اس تاریخی سریز کا آغاز ہوا جس میںگواسکر اور سر ڈیسائی نئی تاریخ رقم کرنے والے تھے۔ٹاس ہارنے کے بعد ٹیم انڈیا نے پہلے بلے بازی کرتے ہوئے 36رنز پر تین وکٹ کھو دیے۔ تب بیٹنگ کے لیے سر ڈیسائی کریز پر آئے ۔
وہ ایک اینڈ سنبھالے رہے جبکہ دورے سرے پر وکٹیں دھڑا دھڑ گر رہی تھیں۔75رنز پر ہندوستان کے پانچ وکٹ گر چکے تھے۔لیکن سر ڈیسائی شکست تسلیم کرنے والے نہیں تھے۔ وہ گیند کو میدان کے ہر حصے کی سیر کراتے رہے اور فیلڈرز ان کے سامنے بے بسی سے رقص کرتے رہے۔چھٹے وکٹ کے لیے ایکناتھ سولکر اور سرڈسائی کے درمیان 137رنز کی۔ نویں وکٹ کے لیے بھی انہوں نے ایرا پلی پرسننا کے ساتھ122رنز کی پارٹنر شپ کی۔ اس دوران سر ڈیسائی نے ویہسٹ انڈیز کے خلاف ڈبل سنچری بنانے والے پہلے ہندوستانی کھلاڑی ہونے کا بھی اعزاز حاصل کر لیا۔ یوںہندوستان نے سریز کا آغاز ڈرا میچ سے کیا۔ 6مارچ کو دوسرا ٹسٹ میچ کوئنز پارک اوول میں کھیلا گیا ۔اس ٹسٹ میں ویسٹ انڈیز نے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کرتے ہوئے 214رنز بنائے۔ جواب میں پہلے ٹسٹ میچ میں ڈبل سنچری بنا کر میچ کا آغاز ڈرا سے کرانے والے دلیپ سر ڈیسائی نے پھر سنچری بنادی اور جس ڈبل سنچری کے باوجود ہندوستان پہلا ٹسٹ میچ نہیں جیت سکا تھا اس باردلیپ سرڈیسائی کی سنچری جیت کی بنیاد بن گئی۔
اس سنچری کی مدد سے ہندوستان نے ویسٹ انڈیز پر138رنز کی سبقت حاصل کر کے اس کی دوسری اننگز 261 رنزپر تمام کر دی۔ اور صرف تین وکٹ کے نقصان پر ٹارگٹ پورا کر کے پہلی بار کوئی ٹسٹ اور پھر سریز جیت کر ایک نئی تاریخ رقم کرنے کی راہ ہموار کر دی۔اس سریز کے دوسرے ہیرو سنیل منوہر گواسکر تھے جنہوں نے اسی ٹسٹ کے ساتھ جس میں ہندوستان نے سات وکٹ سے جیت حاصل کی تھی ٹسٹ کیریر کاآغاز کیا۔گواسکر نے پہلی اننگز میں65اور دوسری اننگز میں67رنز بنائے۔اس کے بعد اگرچہ باقی تینوں ٹسٹ میچ ڈرا پر ختم ہوئے لیکن تینوں میچوں میں گواسکر نے اپنے خوبصورت کھیل سے کرکٹ شیدائیوں کا دل جیت لیا۔گواسکر نے تیسرے ٹسٹ کی پہلی اننگزمیں116اور دوسری اننگز میں64رنز بنائے۔سر ڈیسائی اگر دوسرے ٹسٹ میں سنچری بنا کر فتح کے معمار ثابت ہوئے تھے تو چوتھے ٹسٹ میں سنیل گواسکر نے شاندار سنچری بنا کر ہندوستان کو ممکنہ شکست سے بچا لیا اور ٹسٹ ڈرا ہو گیا۔ اس میچ میں گواسکر نے دوسری اننگز میں 117رنز بنائے تھے۔پانچویں اور آخری ٹسٹ میں جب ویسٹ انڈیز کو میچ جیت کر لاج بچانا اور ہندوستان کو ڈرا کر کے نئی تاریخ رقم کرنا تھی تو ایک بار پھر گواسکر نے سنچری بنا کر ویسٹ انڈیز کے خیمہ میں سراسیمگی دوڑا دی۔انہوں نے 124رنز بنائے۔
لیکن جب ہندوستان کے اسکور360کے جواب میں ویسٹ انڈیز نے526رنز بنائے تو ایسا لگا کہ شاید ہندستان تاریخ رقم نہیں کر سکے گا۔کیونکہ ہندوستان پر دباؤ بڑھ گیا تھا۔لیکن دوسری اننگز میں سنیل گواسکر نے ڈبل سنچری بنا کر ویسٹ انڈیز کو 262رنز کا ٹارگٹ دیا۔ لیکن صرف 40اووروں کا ہی کھیل باقی تھا تا۔ہم ویسٹ انڈیز نے ساکھ بچانے کی خاطر تابڑ توڑ حملے کیے مگر وہ 8وکٹ پر 165رنز ہی بنا سکی۔ اگر دس بارہ اوور اور ہوتے تو شاید ہندوستان یہ سریز 2-0سے جیت چکا ہوتا۔لیکن پھر بھی ہندوستان نے ٹیم کے طور پر اور سر ڈیسائی اور سنیل گواسکر نے انفرادی طور پر کامیابی حاصل کر کے کرکٹ کی تاریخ میں ایک سنہری باب رقم کر دیا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ نوجوان کھلاڑیوں پر مشتمل ٹیم کیا تاریخ رقم کرتی ہے۔ جو بظاہر اس لیے آسان نظر آرہا ہے کیونکہ موجودہ ویسٹ انڈیز کرکٹ ٹیم ہند کے مقابلہ کافی کمزور دکھائی دے رہی ہے۔

Read all Latest sports news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from sports and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Will team india defeats west indies in this test series in Urdu | In Category: کھیل Sports Urdu News

Leave a Reply