انگلستان سے اس بری طرح ہارنا کہیں آسٹریلیاکی کوئی چال تو نہیں

سید اجمل حسین

جس سرزمین انگلستان کو پاکستان نے اپنی فتوحات سے میزبان ملک کے لیے بنجر بنا دیا تھا اسے آسٹریلیا ئی ٹیم نے کمزور باؤلنگ اٹیک یا کسی سوچی سمجھی اسکیم کے تحت میزبان ٹیم کے لیے ایسا زر خیز بنا دیا جس سے نہ صرف ہوم ٹیم کے وہ حوصلے جو پاکستان کے خلاف دو ٹیسٹ میچوں کی سریز برابر کرنے کے باوجود کافی پست ہو گئے تھے ،آسٹریلیا کے خلاف ون ڈے میچوں کی سریز میں 5-0سے کلین سوئپ کر کے اتنے بلند ہو گئے کہ اب انگلستان کو زیر کرنے کے لیے ٹیم انڈیا کو زبردست پاپڑ بیلنا پڑیں گے۔ در اصل آسٹریلیا کا اس دورے کے لیے ایک کمزور ٹیم بھیجنا اس امر کی غمازی کرتا ہے کہ وہ نئے دشمن کے حوصلے پست کرنے کے لیے اپنے دیرینہ دشمن سے خفیہ طور پر مصالحت کر لے تاکہ ٹیم انڈیا کا مورال اتنا ڈاؤن ہو جائے کہ جب وہ انگلستان میں اپنا پروگرام مکمل کر کے دسمبر میں اس کی سرزمین پر طبع آزمائی کے لیے رخت سفر باندھے تو وہ اس قدر ٹوٹ چکی ہو کہ آسٹریلیا اس کی مایسی خبر لے سکتے اور ایسا حشر کر سکے جو ماضی میں اب تک ٹیم انڈیا کا ماضی میں جو حشر کیا ہے وہ بھی ہیچ ثابت ہو سکے ۔کیونکہ اس وقت آسٹریلیا اور ہندوستان کے درمیان کوئی بھی سریز ایشز سریز سے کم مقبول نہیں ہے ۔کیونکہ اب ہندوستان کے خلاف ہر کرکٹ سریز آسٹریلیا کے لیے وقار کا مسئلہ ہے ۔

آسٹریلیا کو معلوم تھا کہ سزا بھگت رہے وارنر اور اسمتھ، ہینڈز کومب، خواجہ عثمان اور مشل مارش کی عدم دستیابی اور فاسٹ بولرز ہیزل ووڈ،شل اسٹارک ،کمینز اور لیگ اسپنر ایڈم زمپا ک اور ناتھن لیون کو ہندوستان کے خلاف سریز کے لیے تازہ دم رکھنے کے باعث آسٹریلیا کی دوسرے درجہ کی ٹیم انگلستان کے لیے اور بھی نرم چارہ ثابت ہوگی کیونکہ جب ان کھلاڑیوں سے آراستہ ہونے کے باوجود آسٹریلیا گذشتہ ہوم سریز بھی 4-1سے ہار گیا تھا تواس ٹیم کو تو وائٹ واش کرنا انگلستان کے لیے قطعاً مشکل نہ ہوگا اور اس سے انگلستان کو اور بھی تقویت پہنچے گی۔ کیونکہ آسٹریلیاسریز سے پہلے ہی بھانپ چکا تھا کہ سریز جیت کر بھی اس کی عالمی رینکنگ میں کوئی فائدہ نہیں پہنچنا اس لیے ہارنے میں بھی کوئی قباحت نہیں ہے اور اس کی ہار ہی کل ہندوستان کے خلاف جیت کا باعث بنے گی۔ اس لیے 100فیصد کرکٹ نہ کھیلنے سے بہتر ہے کہ دوسرے درجہ کی ٹیم بھیجی جائے ۔

تمام آسٹریلیا ئی کھلاڑی اور بورڈ جانتا ہے کہ اس کے ہم وطن ہر حال میںاپنی سرزمین پر ہندوستان کی ایسی درگت بنتے دیکھنا چاہتے ہیں جس سے انہیں گذشتہ دورہ ہند کے دوران 4ٹیسٹ میچوں کی سریز میں2-1سے ملی شکست کی تلخ یادوں سے چھٹکارہ مل جائے۔لیکن آسٹریلیاکا یہ داؤ بیکار بھی بھی جا سکتا ہے۔کیونکہ ادھر کچھ عرصہ سے انگلستان میں سوئنگ بولنگ کا زور ٹوٹتا جا رہا ہے۔ کیونکہ ٹونٹی ٹونٹی قسم کی کرکٹ نے کرکٹ کے موجد اور ٹیسٹ کرکٹ کو ہی اصل کرکٹ ماننے والے انگریزوں کوبھی اپنے سحر میں جکڑ لیا ہے ۔جس کی وجہ سے اسٹیڈیم میںکچھ اس قسم کے کیمیکلز کا چھڑکاؤ کیا جا نے لگا ہے جس سے فضامیں اس مادے کی کمی ہوجاتی ہے جو ہوا میں گیند کو سوئنگ نہیں ہونے دیتی۔اور بلے بازوں کو لمبی ہٹیں لگانے میں کوئی دقت پیش نہیں آتی۔

یہی وجہ ہے کہ انگلستان نے نوٹنگھم میںصرف6وکٹ کے نقصان پر481رنز بنا ڈالے۔ یہ بات دیگر ہے کہ آخری ون ڈے انٹنیشنل میں جو مانچسٹر میں کھیلا اس مٰں اسپنرز کا ہی نہیں فاسٹ بولرون کا بھی جادو سر چڑھ کر بولا اور 19وکٹ کے عوض 413رنز ی بن سکے جو کہ اس سے قبل کھیلے گئے میچوں میں انگلستان کی ایک اننگز کا ہی اسکور ہوتا تھا اور اس کے لیے بھی چار چھ وکٹ ہی گرتے تھے۔ لیکن بیٹنگ پچ ہو یا اسپن رخی پچ ہو ٹیم انڈیا کو اس کا فائدہ مل سکتا ہے ۔کیونکہ اس وقت ٹیم انڈیا کو ہر قسم کے اسپنرز اور فاسٹ بولروں کی کئی کئی جوڑیاں دستیاب ہیں۔ اور عالم یہ ہے کہ سلیکشن کمیٹی کنفیوز ہو جاتی ہے کہ کس کا انتخاب کیا جائے اور کسے نظر انداز کیا جائے۔

اورا گر انگلستان کو اسی کی سر زمین پر ہندوستانی اسپنروں نے اپنی انگلیوں کے اشاروں پر نچایا اور اس کے بلے بازوں نے انگریز بولروں کی خبرلیتے ہوئے ہر ون ڈے میچ اور ٹیسٹ میچ کو ٹونٹی ٹونٹی میچ میں بدل دیا تب آسٹریلیا کیا کرے گا۔ اس کا تو سارا منصوبہ ہی ٹائیں ٹائیں فش ہو جائے گا۔اور انگلستان کے خلاف شاندار جیت کے ساتھ جب وہ آسٹریلیا پہنچے گی تو پہلے ہی سے ٹوٹی پھوٹی آسٹریلیاکپتان اسمتھ اور ڈیوڈ وارنر کی خدمات سے یقیناً محروم رہے گی ۔اور ایسے حالات میں ٹیم انڈیا کو غلطی سے بھی کم آنکنا آسٹریلیاکے لیے بڑا بھاری پڑ سکتا ہے۔اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ ابھی ٹیم انڈیا کا دورہ آسٹریلیا 6ماہ دور ہے اس لیے اس دورانیہ کو آسڑیلیا ہندستانی اسپنروں کا توڑ اور بلے بازوں کی کمزوریوں کو تلاش کرنے کے لیے استعمال کرے۔

Read all Latest sports news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from sports and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Why australia lost odi series in england in Urdu | In Category: کھیل Sports Urdu News

Leave a Reply