زمبابوے کے خلاف سریز کھیل کر ٹیم انڈیا کو کیا حاصل ہوا

سید اجمل حسین
حال ہی میں اختتام پذیر ہند زمبابوے سریز میں زمبابوے نے جس بے بسی اور آسانی سے ٹیم انڈیا کے آگے گھٹنے ٹیکے اس سے یہ ثابت نہیں ہو جاتا کہ ٹیم انڈیا نے بیرون ملک سریز جیتنے کافن سیکھ لیا ہے لیکن یہ ضرور ثابت ہوجاتا ہے زمبابوے کی موجودہ ٹیم اس قدر کمزور ہے کہ اگر ہندوستان سے کسی کلب ٹیم کو بھی بھیج دیا جاتا تو وہ وائٹ واش نہ سہی سریز ضرور جیت کر آجاتی۔
جتنی آسانی سے زمبابوے نے ہندوستان کو کلین سوئپ کا موقع دیا شاید یو اے ای اور افغانستان بھی نہ دیتے۔جس زمبابوے ٹیم کو مہندر سنگھ دھونی کی ٹیم شکست دے کر بیرون ملک سریز جیتنے پر پھولی نہیں سمارہی اس ٹیم کی طاقت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ دو سال پہلے شورش زدہ اور دسیوں سال سے جنگ میں گھرے افغانستان جیسے ملک کی کرکٹ ٹیم بھی زمبابوے کو اسی کی سرزمین پر ون ڈے اور ٹسٹ میچوں کی سریز ڈرا کر چکی ہے۔ ون ڈی میچز کی سریز میں اگر زمبابوے نے دو میچ جیتے تھے تو افغانستان نے بھی اتنے ہی میچ جیت کر حساب بیباق کر دیاتھا۔
جس سے ثابت ہو گیا تھا کہ زمبابوے کی ٹیم افغانستان سے بھی کہیں کمزور ٹیم ہے لیکن اس کے باوجود ٹیم انڈیا سے اس کی فتوحات کا کریڈٹ نہیں چھینا جا سکتا ´۔ خاص طور سے اس لیے بھی کہ ضرورت پڑنے پرشیکھر دھون، روہت شرما، اجنکیا رہانے، مرلی وجے اور سریش رینا کے متبادل کے طور پر لوکیش راہل، مندیپ سنگھ، فیض فضل، انباٹی رائیڈواور منیش پانڈے اور بولنگ صف میں جسپریت بومرہ اور بھونیشور کمار کی مدد کے لیے بلبیر سنگھ سرن، رشی دھون،اناڈ کٹ اور دنیش کلکرنی فاسٹ بولنگ کے شعبہ میں اور آف اسپنر آر اشون، لیفٹ آرم اسپنر رویندر جڈیجہ اور لیگ اسپنر امیت مشرا کے متبادل کے طور پر لیفٹ آرم اسپنر اکشر پٹیل اور لیگ بریک گگلی بولر یجویندر چہل دستیاب رہیں۔ اور متبادل سمجھے جانے والے ان سبھی بلے بازوں اور بولروں نے دورہ زمبابوے میں دونوں قسم (ون ڈے اور ٹی ٹونٹی)کی کرکٹ میں اس سے خوف زدہ ہوئے بغیر ہوئے کہ وہ غیرملک میں کھیل رہے ہیں جس خوبصورت کھیل اور میچ وننگ پرفارمنس کا مظاہرہ کیا اس سے سلیکٹروں کو ایک گونہ سکون حاصل ہوا ہوگا کہ انہیں ٹسٹ، ون ڈے اور ٹی ٹونٹی یعنی تینوں فارمیٹ کے لیے کھلاڑی دستیاب ہو گئے ہیں۔
اور باقاعدہ تین ٹیمیں تشکیل دی جاسکتی ہیں۔جس سے سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ کھلاڑیوں کی انجیوری کا خطرہ نہ کے برابر رہ جائے گا۔ کیونکہ تینوں فارمیٹ کے کھلاڑی خاص طور پر بولرز پر ایک ہی دورے میں تین مختلف قسم کی کرکٹ میں مختلف انداز سے بولنگ کر نے کا دباو¿ نہیں رہے گا ۔بہر حال اس دورہ زمبابوے میںٹیم انڈیا کے ٹاپ آرڈر بلے بازوں خاص طور پر لوکیش راہل اور آخری میچ میں لوکیش کے ساتھ اننگز کا آغاز کرنے کے لیے موقع دیے جانے والے فیض فضل اور ٹونٹی ٹونٹی میں مندیپ سنگھ اور منیش پانڈے نے جو خوبصورت اور میچ وننگ اننگز کھیلیں اس نے جہاں ایک طرف مہندر سنگھ دھنونی کی قیادت میں جیتے گئے میچوں اور سریز کی تعداد میں نہ صرف اضافہ ہوگیا بلکہ اس دورے قبل جتنی بھی بیرون ملک کھیلی گئی سریز ہاریں ان کا بھی ازالہ ہو گیا اور ان سریز شکستوں کی تلخ یادوں سے چھٹکارہ بھی مل گیا۔
لیکن اس کے باوجود جس طرح پہلے ٹونٹی ٹونٹی میچ میں جیت کے قریب پہنچ کر بھی ٹیم انڈیا میچ ہاری اس میں زمبابوے کے بولروں کو پھر بھی کریڈٹ نہیں جاتا کیونکہ زیادہ تر ہندوستانی بلے باز کیچنگ پریکٹس کا مظاہرہ کرتے نظر آئے۔لیکن اگلے میچ میں افتتاحی بلے بازوں نے کیچنگ پریکٹس کرانے کا موقع نہیں دیا ۔اور خود ہی جیت کی بنیاد رکھنے اور رنز کی دیوار چننے میں کامیاب رہے۔لیکن اس سریز میں کپتان مہندر سنگھ دھونی سے جس بات کی توقع کی جارہی تھی وہ انہوں نے قطعاً پوری نہیں کی۔ اول تو کرکٹ حلقوں میں یہ سمجھا جا رہا تھا کہ جس طرح مہندر سنگھ دھونی نے فنشر کا رول یوراج سنگھ اور محمد کیف سے اپنی جانب منتقل کیا اسی طرح وہ اس دورے کے دوران منیش پانڈے اور کیدار جاڈھو کو فنشر کے طور پر تیار کریں گے۔کیونکہ اب دھونی فنشر کا کردار ادا کرنے کے اہل نہیں رہے۔ورنہ کیا وجہ ہے کہ پہلے ٹونٹی ٹونٹی میچ کے آخری اوور میں جب میچ جیتنے کے لیے صرف8رنز کی ضرورت تھی اور مہندر سنگھ دھونی کریز پر تھے ٹیم انڈیا میچ نہ جیت سکی۔
نہ معلوم کیا سوچ کر دھونی نے آخری اوور کی پہلی ہی گیند پر سنگل لے کر اکشر پٹیل کو اسٹرائیک لینے کا موقع دیا۔ یہ ٹھیک ہے کہ وہ 8گیندوں پر 18رنز بنا چکے تھے اور دو چھکے بھی لگا چکے تھے لیکن وہ آخری اوور کے دباو¿ میں کھیلنے والے بلے باز نہیں تھے۔ یہ کام تو یوراج سنگھ اور محمد کیف کے بعد مہندر سنگھ دھونی ہی کر سکتے تھے لیکن ایسا نہیں ہوا۔اور اسٹرائیک پر آتے ہی اکشر پٹیل لمبی ہٹ مارنے کی کوشش میں لانگ آف پر لپک لیے گئے۔لیکن اس دوران جب دھونی اینڈ بدل کر اسٹرائیک پر آگئے تو پھر انہوں نے فنشر کا کردار ادا کرنے سے پرہیز کیا اور ایک رن لے کر ایک بولر کو دباو¿ والا اوور کھیلنے کا اس طرح موقع دیاگویا ہدف کا تعاقب نہیں بلکہ حریف کے لیے ہدف مقر ر کیا جارہا ہے۔اور سنگل سنگل نے ہی کہانی بگاڑ دی اور دھونی نے محض صرف دو رنز سے میچ ہار کر ثابت کر دیا کہ اب وہ فنشر نہیں رہے۔جس کی وجہ سے زمبابوے سے دونوں قسم کی سریز جیتنے کے باوجود ٹیم انڈیا کی پیٹھ نہیں تھپتھپائی جا سکتی۔

Read all Latest sports news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from sports and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: What team india gain from zimbabe tour in Urdu | In Category: کھیل Sports Urdu News

Leave a Reply