لوگ کہتے ہیں کہ ہند پاک فائنل فکس تھا

سید اجمل
حالیہ چمپینز ٹرافی کی فیورٹ قرار دی جانے والی ٹیم انڈیا اتنی آسانی سے پاکستان کے آگے گھٹنے ٹیک دے گی اس کا کسی نے یہاں تک کہ خود پاکستانی کھلاڑیوں اور کرکٹ ماہرین نے بھی تصورنہیں کیاہوگا۔ ہاں اگر اس کا علم خدا کے بعد کسی کو رہا ہوگا تو بقول فضا میں ہونے والی سرگوشیوںکے سٹے بازوں ،خود کھلاڑیوں اور دونوں ممالک کے کرکٹ بورڈز کو رہا ہوگا۔حیرت تو اس بات پر ہے کہ ایک ایسی پچ پر جس کے بارے میں کسی کو علم نہیں تھا کہ وہ کیسا برتاؤ کرے گی یا کس کا ساتھ دے گی کپتان وراٹ کوہلی نے ٹاس جیت کر خود بلے بازی کرنے کے بجائے پاکستان کو بیٹنگ کے لیے مدعو کیا۔ جبکہ پوری دنیا جانتی ہے کہ ہندوستان کی طاقت اگر اس کی بیٹنگ صف میں مضمر ہے تو پاکستان کو اپنی بولنگ پر ناز ہے۔جہاں کے کھیتوں کی کچھ ایسی مٹی ہے کہ کوئی بیج بکھیرو فصل فاسٹ بولنگ کی ہوتی ہے۔فاسٹ بولنگ کی ایک فصل کٹتی نہیں کہ دوسری پکنا شروع ہو جاتی ہے۔یوں تو پہلے ہی یہ شک ظاہرکیا جارہا تھا کہ ہندستان اور پاکستان کے درمیان میچ فکس ہو سکتا ہے۔لیکن اس میچ کے دوران ہندوستانی کھلاڑیوں کی حرکات و سکنات سے صاف ظاہر ہورہا تھا کہ دال میں کچھ کالا ہے۔ عام طور پر کسی بھی میچ میں خاص طور پر پاکستان کے خلاف میچ میں ہندوستانی کھلاڑیوں کا رویہ ایسا ہی جارحانہ ہوتا ہے جیسا جاوید میاں داد کے دو ر میں پاکستانی کھلاڑیوں کا ہوا کرتا تھا۔اور ہوتا بھی کیوں نہیں۔ آخر ٹیم انڈیا دنیا کی کسی بھی ٹیم کو کسی بھی میدان پر ہرانے کی طاقت رکھتی ہے۔ اور پاکستان کو تو وہ اتنی بار پٹخنیاں دے چکی ہے کہ اس میں تو اب اٹھنے کی بھی تاب نہ رہی تھی۔
لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس بار چمپئیز ٹرافی میں فائنل شروع ہونے سے پہلے ہی ہندوستانی کھلاڑیوں پر کچھ ایسا دباؤ تھا جسے نہ وہ الفاظ میںبیان کر سکتے تھے اور نہ ہی کسی سے شئیر کر سکتے تھے۔بس ایسا لگ رہا تھا گویا معاملہ سینہ بہ سینہ ہی چل رہا ہو۔ او ر وہ اپنے بڑوں کے فیصلہ کے آگے سر خم کیے ہیں۔ کرکٹ حلقوں میں یہ افواہ گردش کر رہی ہے کہہمارے ہندوستانی کرکٹ کنٹرول بورڈ کے بے کنٹرول سابق نائب صدر اور آئی پی ایل کے موجودہ چیرمین راجیو شکلا بھی شاید اس میچ کے فیصلہ سے قبل از وقت واقف رہے ہوں گے۔جتنے منھ اتنی باتیں ہیں۔کوئی یہ کہہ رہا ہے کہ ہندوستان کے خلاف کرکٹ تعلقات ختم ہوجانے کے باعث پاکستانی کرکٹ بورڈ کنگال ہوچکا ہے اور وہ ہندوستان سے کرکٹ تعلقات بحال کرنے کے لیے بیتاب ہے۔ اس کے لیے وہ سب کچھ کرگذرنے کو تیا ر ہے ۔ دوسری جانب ہندوستانی کرکٹ کنٹرول بورڈ کے بھی بیشتر عہدیداران پاکستان کے ساتھ کرکٹ تعلقات شروع کر نے کے حق میں ہیں۔لیکن حکومت ہند سے ہری جھنڈی نہیںمل رہی۔ پاکستان نے شاید یہ سوچ کر کہ اگر وہ چمپینز ٹرافی کے فائنل میں ہندوتان کو ہرا دیتا ہے تو اس کا کسی مضبوط ہو جائے گا۔ اور وہ ہندوستانیوں پر یہ کہہ کہہ کر نفسیاتی حملے کر سکتا ہے کہ ہندوستان اس سے اس لیے کرکٹ نہیں کھیلنا چاہتا کیونکہ اسے ہار کا ڈر ستا رہا ہے اور وہ سوچ رہا ہے کہ جس طرح چمپینز ٹرافی میں شکست ہوئی ہے اس سے شارجہ کا دور واپس نہ آجائے۔
اور اس نفسیاتی حملہ کا شکار ہو کرہندوستان کی حکومت بارڈر پر ہونے والی دراندازی،بلا اشتعال فائرنگ اور سرحد پار سے ہندوستانی علاقہ میں دہشت گردانہ وارداتوں اور کرکٹ کو ایک نظر سے نہ دیکھے بلکہ دونوں کو دو مختلف خانوں میں رکھ کر پاکستان کے کرکٹ تعلقا ت بحال کرنے پر مجبور ہو جائے۔ ایک دوسرا نظریہ یہ پیش کیا جا رہا ہے کہ ہندوستانی کھلاڑیوں کو چونکہ پیسہ سے خریدا نہیں جا سکتا کیونکہ ہندوستانی کرکٹ بورڈ اور آئی پی ایل فرنچائزی پہلے ہی ان پر دولت کی اتنی بارش کر چکے ہیں کہ اگر یہ کہا جائے کہ دولت تو ان کے گھر کی باندی ہے تو بے جا نہ ہوگا۔ ظاہر ہے جب پیسے سے کام نہیں بنے گا تو سٹے باز اپنے کاروبار کو چمکانے کے لیے کھلاڑیوںکو دھمکیاں دے کر اپنی حکمت عملی کے مطابق کھیلنے پر مجبور کر سکتے ہیں۔ اس لیے یہ گمان کیا جا رہا ہے کہ چمپینز ٹرافی کے فائنل میں کچھ ایسا ہی ہوا ہوگا۔ورنہ ٹیم انڈیا ایسی آسانی سے گھٹنے نہ ٹیکتی۔ بومراہ کا نو بال کرکے فخر زماں کو سنچری بنانے اور پاکستان کو ایک بڑے اسکور کی جانب بڑھنے کی راہ پر ڈالنا، اشون اور جڈیجہ کی اسپن بولنگ کی درگت بنتے دیکھ کر بھی کپتان وراٹ کوہلی کا ان دونوں کو اٹیک پر لگائے رکھنا، بولنگ میں تبدیلی کے لیے روہت شرما،یوراج سنگھ اور خود اپنا استعمال نہ کرنا ، کیشو جاڈھو کو تاخیر سے اٹیک پر لانا ، مہندر سنگھ دھونی کا فیلڈنگ اور بولنگ تبدیلی کے عمل میں دلچسپی نہ لینا اور ان کا کپتان کوہلی کے ساتھ کوئی تال میل نہ دکھائی دینااور ایک ہمالیائی اسکور بنوانے کے بعد ہدف کے تعاقب میںصرف حاضری لگانے میدان میں آنا اور تو چل میں آیا کی گردان کرکے ہدف سے میلوں دور دم توڑ دینا کوئی اور ہی کہانی بیان کر رہا ہے۔ جو کسی پیچیدہ معمہ سے کم نہیں ہے۔

Read all Latest sports news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from sports and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Was the champions trophy final between india and pakistan final fixed in Urdu | In Category: کھیل Sports Urdu News

Leave a Reply