اس بار بھی ٹی ٹونٹی ٹرافی میزبان ملک کو ٹھینگا دکھا گئی

سید اجمل حسین
ورلڈ کپ ٹی ٹونٹی 3اپریل کو ویسٹ انڈیز اور انگلستان کے درمیان کھیلے گئے فائنل میں ویسٹ انڈیز کی جیت اور جگمگاتی ٹرافی پر دوسری بار قبضہ کے ساتھ اختتام پذیر ہو گیا۔ اور اس ٹرافی نے اپنی روایت برقرار رکھتے ہوئے اس بار بھی ہندوستان کے مضبوط دعویدار ہونے کے باوجود میزبان ملک میں مزید چار سال قیام کرنے سے انکار کر دیا ۔اور سات سمندر پار جانا پسند کیا ۔
دوسری جانب میزبان ٹیم انڈیا کو یہ سبق دے گئی کہ جب تک وہ محض ایک کھلاڑی وراٹ کوہلی پر ہی تکیہ کیے رہے گی اس کاوہی حشر ہوتا رہے گا جو کسی دور میں سنیل گاوسکر اورسچن ٹنڈولکر کے آؤٹ ہوتے ہی اس دور کی ٹیم انڈیا کا ہوجایا کرتا تھا۔حالانکہ ہر وہ شخص جسے کرکٹ کی ذرا بھی شد بد تھی نہ صرف ٹیم انڈیا کو فیورٹ قرار دے رہا تھا بلکہ پہلے ہی میچ میں نیوزی لینڈ سے شکست کے باوجود اسے نظر انداز کرنے تیار نہیں تھا۔کیونکہ سبھی کا یہی خیال تھا کہ روہت شرما، شیکھر دھون، سریش رینا اور حتیٰ کہ روی چندر اشون، پانڈیا اور رویندر جڈیجہ بھی دیسی پچوں کے ایسے زبردست ماہر ہیں کہ حریف بولرزکا دیسی پچوں پر انہیں کریز کی جانب بڑھتا دیکھ کر ہی پتہ پانی ہو جاتا ہے۔
اور ٹیم انڈیاجیسے ہی سیمی فائنل میں پہنچی ہر طرف سے یہی صدا بلند ہو رہی تھی کہ اب یہ ٹرافی اپنے نخرے بھول جائے گی اور کوئی طاقت ہندوستان کو یہ ٹرافی جیتنے والا پہلا میزبان ملک بننے کا عزاز پانے سے نہیں روک سکے گا۔کیونکہ ٹیم انڈیا کو وراٹ جیسابلے باز دستیاب ہے۔لیکن کوئی بھی ٹیم محض کسی ایک مخصوص کھلاڑی کے بل پر چھ حریف ٹیموں کے 66کھلاڑیوں سے متواتر تنہا مقابلہ کر سکتا ہے اور نہ ہی اس کا انفرادی اسکور ٹیم کی فتح کی ضمانت بن سکتا ہے۔ کچھ ایسا ہی حال ٹیم انڈیا کا ہوا جس نے اول تا آخر وراٹ کوہلی پر ہی انحصار کیا گویا فتح کا اکا وراٹ کوہلی ہی ہے جس کے چلتے ہی ساری چالیں ناکام ہو جائیں گی۔لیکن ضرورت اس بات کی تھی کہ دیگر بلے باز بھی اپنا کردار بخوبی نبھاتے جو وہ نہ نبھا سکے۔
نبھا کیا نہ سکے حریف بولروں نے انہیں نبھانے کا موقع ہی نہیں دیا۔اور وہ بلے باز جو صرف بیٹنگ کے لیے ساز گار پچوں پر کسی ٹورنامنٹ میں ایک اننگز میں ہی جتنا اسکور کر لیتے تھے اس ٹورنامنٹ میں5اننگز کھیل کر بھی 3عددی ہندسہ میں نہ پہنچ سکے۔یہاں تک کہ سوائے کوہلی کے کوئی بھی ہندستانی بلے باز ایک بار بھی ہاف سنچری کے قریب تک نہ پہنچ سکا۔اور اس کا آغاز پہلے ہی میچ سے اس وقت ہو گیا جب نیوزی لینڈ کے خلاف ٹیم انڈیا کے سات بلے باز دو عددی ہندسہ تک میں نہیں پہنچ سکے۔یہاں تک کہ نیوزی لینڈ کے اسپنروں نے ٹیم انڈیا کے خلاف ایسا اسپن جال بنا کہ ان معروف بلے بازوں پر مشتمل گروپ اجتماعی ہلہ بول کر ٹیم کو تین عددی ہندسہ کا اسکور تک نہیں دلا سکے ۔حالانکہ ٹیم انڈیا کو 126کا معمولی ہدف ملا تھا پھر بھی اس کا 47رنز سے شکست کھا جانا ٹیم انڈیا کے بلے بازوں کی غیر ملکی پچوں پر فاسٹ اور گھر میں اسپن رخی پچ پر اسپن باؤلنگ کے خلاف نااہلی کھل کر سامنے آگئی۔
اس بڑے فرق کی شکست سے ہی ٹیم انڈیا کا رن ریٹ اس قدر بگڑا کہ اگر بنگلہ دیش کے خلاف کانٹے کے مقابلہ میں قسمت کی دیوی عین اس وقت جب آخری اوور میں ہندوستان پر شکست کے بادل منڈلانا شروع ہو گئے تھے بنگلہ ٹائیگروں سے نہ روٹھ کر ٹیم انڈیا پر سایہ فگن نہ ہوجاتی تو شاید یہی رن ریٹ ٹیم انڈیا کا سفر سیمی فائنل سے پہلے ہی ختم کر چکا ہوتا۔ نیوزی لینڈ کے خلاف ناتھ میک کولم، اسٹینر اور سوڈھی جیسے بہترین تین اسپنروں پر مشتمل اسپن اٹیک کے آگے گھٹنے ٹیکنے کے بعد جب ٹیم انڈیا کے ٹاپ آرڈر کے معروف بلے بازوں کو پاکستان کے خلاف دوسرے میچ میں محض 119رنز کے ہدف کے تعاقب میں محمد عامر ، محمد سمیع اور وہاب ریاض جیسے فاسٹ بولروں پر مشتمل فاسٹ اٹیک کا سامنا کرنا پڑا تو اصل فاسٹ اٹیک کے خلاف بھی ان کی کمزوری ایک بار پھر جگ ظاہر ہو گئی اور پاور پلے کے چار اووروں میں ہی روہت شرما، شیکھر دھون اور سریش رینا پویلین لوٹ چکے تھے۔
یوراج سنگھ نے یوں تو اس میچ میں23گیندوں پر24رنز بنائے لیکن جتنی دیر وہ کریز پر رہے وہاب ریاض سے خوفزدہ نظر آئے ۔ اور کئی بار چکمہ کھا گئے اور آخر کار ان کی پریشانی وہاب ریاض نے ہی محمد سمیع کے ہاتھوں کیچ آو¿ٹ کراکے دور کردی۔حتیٰ کہ بنگلہ دیش کے فاسٹ اٹیک کے خلاف بھی ٹیم انڈیا کے چمپین بلے باز مات کھا گئے۔ یہ شاید پہلا میچ تھا جس میں ٹیم انڈیا کے بلے بازوں نے اتحاد کا سبق پڑھ کر متحد ہوکر رنز بنانے کے منصوبہ کے تحت بیٹنگ کی۔ لیکن مشرف مرتضیٰ ، امین الحسین اور مستفیض الرحمٰن نے ان کی ناک میں ایسا دم کیے رکھا کہ بس دو عددی ہندسہ میں پہنچنا ہی ٹیم انڈیا کے بلے بازوں کی معراج بن گیا۔ایسا لگ رہا تھا کہ ہر بلے باز بس کسی نہ کسی طرح وکٹ بچاتے ہوئے ڈبل فیگر میں پہنچ کر پویلین جانے کی جستجو میں ہے۔
ٹیم انڈیا وکٹیں بچانے میں تو کامیاب رہی لیکن نہ تو 150کا ہندسہ پار کر سکی اور نہ ہی اپنا رن ریٹ بہترکر سکی کہ پاکستان سے پوائنٹس برابر ہونے کی صورت میں رن ریٹ کی بنیاد پر ہی کوالیفائی کر سکے ۔تاہم قسمت کی دھنی رہی کہ یہ نوبت نہیں آئی اور بنگلہ دیش کے سیٹ بلے باز مشفق رحیم اور محمود اللہ جوش میں ہوش کھو بیٹھے اور آخری اوور میں جیت کے لیے مطلوبہ11رنز میں تین گیندوں پردو چوکوں کے ساتھ8رنز بنانے کے بعد تین گیندوں پر صرف تین رنز بنانے کے لیے چھکے سے میچ ختم کرنے کے شوق میں باؤنڈریوں پر لپک لیے گئے اوربنگلہ دیش نہ صرف جیت کی دہلیز سے واپس لوٹ گیا بلکہ ٹیم انڈیا کو سیمی فائنل میں بھی پہنچا گیا۔اس میچ کے نتیجہ پر کرکٹ حلقوں میں چہ میگوئیاں آج تک جاری ہیں۔اور شکوک و شبہات ظاہر کیے جارہے ہیں۔ٹیم انڈیا سیمی فائنل میں پہنچ ضرور گئی لیکن جس طرح ویسٹ انڈیز نے سیمی فائنل اور فائنل میں ثابت کر دکھایا کہ ٹیم میں ایک نہیں کئی کرس گیل ہیں ٹیم انڈیا کسی میچ میں یہ نہیں باور کرا سکی کہ ٹیم میں ایک نہیں کئی وراٹ کوہلی ہیں.

Read all Latest sports news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from sports and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: T 20 trophy refused to stay in host nation in Urdu | In Category: کھیل Sports Urdu News

Leave a Reply