سال رفتہ:ہندوستان کھیلوں کے آئینہ میں

(سید اجمل حسین)
یوں تو عام طور پر ہندوستان کھیل کے میدان میں ہر نئے سال کا استقبال سال رفتہ کے دوران مختلف کھیلوں میں شاندار کامیابیوں کے ساتھ کرتا رہا ہے۔ لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ ہندوستان کسی ایک سال کے دوران کئی کھیلوں میں کارنامے انجام دے کر کھیل افق پرروشن ستارے کی مانند دمکتا ہو سال نو میں داخل ہواہے۔سال رفتہ کے دوران لیڈی باکسرمیری کوم نے 35سال کی عمر میں چھٹی بار عالمی باکسنگ چمپین شپ جیت کر اگر با کسنگ کی دنیا میں ملک کے لیے ایک نئی تاریخ رقم کی تو وہیں دوسری جانب ایک ہونہار اور ابھرتی ہوئی 16سالہ باکسرسندیپ کور نےپولینڈ میں 13ویں انٹرنیشنل سیلیشیان باکسنگ چمپین شپ میں گولڈ میڈل جیت کر ہندوستان کا نام روشن کرنے کے ساتھ ساتھ پنجاب کے ضلع پٹیالہ کے حسن پور گاو ¿ں کے ایک غریب آٹو رکشہ ڈرائیور کا سر بھی فخر سے بلند کر دیا۔اگر ہاکی ٹیم نے ورلڈکپ ہاکی کے کوارٹر فائنل میں ہی ہارکر ہاکی شوقینوں کو مایوس کیا تو بیڈ منٹن اور کشتی میں کئی کھلاڑیوں نے مختلف عالمی و ایشیائی ٹورنامنٹ جیت کر ملک کے 2018 کھیل کیلنڈر کی کئی تاریخوں کو سنہری ہندسوں میں لکھ دیا۔اس کھیل کے مردوں کے مقابلوں میںسوربھ ورمانے ڈچ اوپن اوررشئین اوپن ، سمیر ورمانے سوئس اوپن ،حیدر آباد اوپن اورسید مودی انٹرنیشنل جیتا تو خواتین زمرے میں پی وی سیندھو نے بیڈ منٹن ورلڈ فیڈریشن فائنل جیت کرکسی ورلڈ ٹور فائنلز میں گولڈ جیتنے والی پہلی ہندوستانی ہونے کا عزاز حاصل کیا۔ ریسلنگ میں بھی ہندوستان ایشیائی نقشہ پر نمایاں طور پر اس وقت نمودار ہوا جب انڈونیشیا کے دارالخلافہ جکارتہ میں کھیلے گئے ایشیائی کھیلوں میں ونیش پھوگٹ ریسلنگ مقابلوں میں گولڈ میڈل جیت کر ایک ہی سال میںدو گولڈ میڈل جیتنے والی پہلی ہندوستانی پہلوان بنیں۔اسی سال پھوگٹ نے گولڈ کوسٹ دولت مشترکہ کھیوں میں بھی کشتی مقابلوں میں طلائی تمغہ جیتا تھا۔ ہندوستان نے 66میڈل جیت کر، جن میںاس میں26گولڈ میڈل تھے، 2018کے دولت مشترکہ کھیلوں میں شرکت کرنے والے 71ملکوںمیں تیسری پوزیشن حاصل کی۔ لیکن جو کارنامے کرکٹ کے میدان میں کپتان وراٹ کوہلی نے انجام دیے ہیں اس نے کرکٹ کی دنیا میں ہندوستان کو ایک ایسا مقام دے دیا ہے کہ اب ہر ملک اپنی سرزمین پر بھی ہندوستان سے لرزہ بر اندام رہتا ہے۔ کیونکہ اگر سپاٹ اور بے جان پچ ہے تو اس کے بلے باز قہر ڈھاتے ہیں اور اپنے بلے کی دھن پر فیلڈروں کو رقص کرنے پر مجبور کر دیتے ہیں اور اگر ٹرننگ ٹریک یا اچھال لینے والی پچ ہے تو اس کے اسپنرز اور فاسٹ بولر مل کر میزبان بلے بازوں کی پہلے اوور سے ہی ایسی خبر لینا شروع کرتے ہیں کہ انہیں سوائے ڈریسنگ روم کے کوئی دوسری جائے پناہ نہیں ملتی۔اس کی تازہ ترین مثال میلبورن میں باکسنگ ڈے سے شروع ہوکراختتام سال سے عین ایک روز قبل ہندوستان کی جیت پر ختم ہونے والے اس ٹیسٹ میچ کی ہے جس میںجب تک پچ بلے بازی کے لیے سازگار رہی تو ہندوستانی بلے بازوں نے اس وقت تک آسٹریلیائی بولروں کا ناک میں دم کیے رکھا جب تک کہ کپتان وراٹ کوہلی نے ان پر رحم کھا کر اننگز ختم کرنے کا اعلان نہیں کر دیا۔ حالانکہ اس کے لیے انہیں کرکٹ شوقینوں اور خاص طور پر روہت شرما پر فریفتہ کرکٹ شوقینوں کا ہدف تنقید بھی بننا پڑا کیونکہ کوہلی نے جس وقت اننگز ڈکلیئر کی تو روہت 63رنز پر تھے اور جس طرح کی پچ تھی اور وہ جس فارم میں تھے سنچری بنا سکتے تھے جو2018میں ان کی پہلی سنچری ہوتی۔مجموعی اعتبار سے دیکھا جائے تو 2018وراٹ کوہلی کی بلے بازی کی دھمک سے گونجتا رہا۔ اس سال بھی انہوں نے نہ صرف 5سنچریاں لگائیں بلکہ یہ بھی ثابت کر دیا کہ وہ صرف گھر میں ہی نہیں بیرون ملک بھی کسی آدم خور شیر سے کم نہیں ہیں۔جنوبی افریقہ کا سنچورین اور جوہانسبرگ کامیدان ہو یا انگلستان کا نوٹنگھم ،برمنگھم،ساو ¿تھمپٹن یا اوول اور آسٹریلیا کا پرتھ یا میلبورن کا میدان ہو وہاں بھی سنچری اور ہاف سنچری بنانا ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔صرف ٹیسٹ میچوں میںہی نہیں بلکہ کرکٹ کے ہر فارمیٹ میں ان کی بیٹنگ کا جادو سر چڑھ کر بولتا رہا۔انہوں نے ون ڈے انٹرنیشنل میچوں میں تیز ترین 10ہزار رنز پورے کرنے والے بلے باز ہونے کا اعزاز 2018میں ہی حاصل کیا۔2018میںہی انہوں نے سب سے جلدی60انٹرنیشنل سنچریاں بنانے کا بھی اعزاز پایا۔ کوہلی نے جنوبی افریقہ،انگلستان اورآسٹریلیا میں ٹیسٹ میچ جیتنے والے پہلے ایشیائی کپتان ہونے کا بھی اعزاز حاصل کیا۔اسی سال ہندوستان نے20ٹی ٹونٹی میچ کھیلے اور 14جیتے۔2018ان کی انفرادی کامیابی سے ہی نہیں بلکہ ان کی قیادت میں ٹیم انڈیا کے ایسے کارناموں سے بھی آراستہ رہا جس سے انہوں نے بطوربلے باز ہی نہیں کپتان کے طور پر بھی اپنا لوہا منوایا۔انگلستان کے خلاف سریز 1-4کے فرق سے ہارنے کے بعد انہوں نے ویسٹ انڈیز کو 2-0سے اور آسٹریلیا کے خلاف چار ٹیسٹ میچوں کی سریز کے پہلے تین میں سے دو میچ جیت کر اس سال کھیلے گئے 10میں سے پانچ ٹیسٹ جیت کر ہار جیت کا تناسب برابر رکھا۔ٹیم انڈیا نے 2018کا انگلستان سے سریز ہار کر جتنا مایوس کن آغاز کیا تھا اختتام اتنا ہی خوشگوار اور حوصلہ افزا رہا۔کیونکہ ایڈیلیڈ میں ٹیم انڈیا نے دس سال بعد اور ملبورن میں 37سال بعد کوئی ٹیسٹ جیتا ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ٹیم انڈیا کے موجودہ کھلاڑیوں میں سے کسی بھی کھلاڑی نے اپنی زندگی میں کسی ہندوستانی ٹیم کو میلبورن میں کوئی ٹیسٹ جیتتے ہوئے نہ دیکھا نہ سنا۔اور جب 2018میں ٹیم انڈیا نے میلبورن میں کوئی ٹیسٹ میچ جیتا تو ان کھلاڑیوں کو ایسا محسوس ہوا ہوگا گویا میلبورن میں کوئی ٹیسٹ جیتنے والی وہ پہلی ہندوستانی ٹیم ہے۔2018اس لیے بھی کسی یادگار سال سے کم نہیں ہے کہ اس سال ہندوستان کو پرتھوی شاہ کی شکل میں ایک ایسا بلے باز ملا جس نے ابھی دو ٹیسٹ میچ ہی کھیلے لیکن تین اننگز میں ہی ایک سنچری اور ایک ہاف سنچری بنا کر انٹرنیشنل کرکٹ میں اپنی آمد کا ڈنکا بجا دیا۔ 2018 میں کرکٹ کی مردوں کی ٹیم کے کپتان کوہلی کی طرح ویمن کرکٹ کی کپتا ن ہرمن پریت کور بھی نمایاں رہیں۔انہوں نے ورلڈ ٹی ٹونٹی ٹورنامنٹ میں نیوزی لینڈ کے خلاف103رنز کی اننگز کھیل کر سنچری بنانے والی پہلی ہندوستانی ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔غرضیکہ 2018کا سال کھیلوں کی دنیا میں ہندوستان کو زبردست کامیابیوں سے ہمکنار کر کے ہر ہندوستانی کا سرفخر سے بلند کر کے یہ تلقین کرتے ہوئے گیا ہے کہ اس کے نومولود بھائی 2019کو بھی ایسی ہی کامیابیوں سے بھرپور غذا دیناتاکہ وہ بھی سرسبز و شاداب رہ کر میٹھے و خوشبو دار پھل پھول دے کر 2020کا اسی جوش و خروش کے ساتھ خیرمقدم کر سکے جیسا2019کا کیا گیا ہے۔

Read all Latest sports news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from sports and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Sports 2018 the year that was in Urdu | In Category: کھیل Sports Urdu News
What do you think? Write Your Comment