اپنے کرکٹروں کوپہلا ٹیسٹ میچ کھیلتا دیکھ کر افغانوں کو خوشی منانے کا موقع ملے گا:افغان کرکٹ کپتان

گریٹر نوئیڈا(اترپردیش) :افغانستان کے کرکٹرز کو امید ہے کہ وہ آئندہ ماہ ملک کو ٹسٹ کرکٹ کھیلنے والے دنیا کے 12ویں ملک ہونے کا اعزاز دلا کر دسیوں سال سے جنگ میں مبتلا اپنے ملک کو کچھ خوشی منانے کا موقع دیں گے۔

جنگ زدہ ملک کے کرکٹرز پناہ گزیں کیمپوں سے کرکٹ کے بین الاقوامی میدان میں آنے کے بعد بنگلور میں 14جون کو ہندوستان کے خلاف اپنا پہلا ٹیسٹ کھیل کر عظیم کھیل داستانوں میں سے ایک داستان رقم کریں گے۔

دہلی سے متصل اترپردیش کے شہر گریٹر نوئیڈا میں ٹیم کے ٹریننگ سینٹر میں کپتان اصغر اسٹانکزئی نے کہا کہ ان کے ملک پر اسلامی انتہاپسندوں کے تسلسل سے کیے جانے والے حملوں سے ان کی ٹیم بھی متاثر ہوئی ہے لیکن انہیں ملک کو خوشیوں کے کچھ لمحات دینے کی تحریک بھی ملی ہے۔

اسٹانک زئی نے کہا کہ بڑا مشکل دور ہے اور جب بھی ہم اپنے ملک پر حملے کیے جانے کی خبر سنتے ہیں ہمیں نہایت درجہ تکلیف ہوتی ہے ۔لیکن اس سے ہم اپنا مورال ڈاؤن نہیںہونے دیتے۔ بلکہ ہم اور بھی زایدہ میچ جیتنے کی کوشش کریں گے کیونکہ ملک کے عوام ہماری جیت دیکھنے کا شدت سے انتظار کر رہے ہیں۔

اور جب ہم جیتیں گے تو پوری افغان قوم خوشی سے جھوم اٹھے گی۔ 30سالہ اسٹانک زئی نے کہا کہ ہماری فتح افغان قوم کو توانائی بخشے گی۔ہم اپنی قوم کی تکلیفوں اور صدموں خوشیوں سے مبدل کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔

Title: sorrow to happiness afghans hope to lift spirits in fairy tale test | In Category: کھیل  ( sports )

Leave a Reply