اکتیس سالہ فیض فضل اور ان فٹ محمد شامی کو زمبابوے اور ویسٹ انڈیز کے دورے پر لے جانے کا مقصد کیا ہے

سید اجمل حسین
زمبابوے اور ویسٹ انڈیز کے دورے کے لیے اعلان کردہ ون ڈے میچوں کی اور ٹسٹ ٹیم میں صرف ایک ایک مسلم کھلاڑی فیض فضل اور محمد شامی کو ہی شامل کر کے شاید کرکٹ کنٹرول بورڈ آف انڈیا نے یہ پیغام دیا ہے کہ اب عنقریب مسلم کھلاڑیوں سے پاک ٹیم انڈیا ہوگی۔کیونکہ فضل کو جس عمر میں ملک کی نمائندگی کا موقع دیا گیا ہے وہ ایسی ڈھلتی عمرہے کہ جلد ہی کرکٹ کو خیر باد کہنے پر مجبور ہو جائیںگے۔ دوسری طف محمد شامی اگر کہیں ویسٹ انڈیز میں ان فٹ رہے یا فارم گنوا بیٹھے تو ان کا بھی کرکٹ کی دنیا سے صفایا یقینی ہے۔ اس کے برعکس جنوبی افریقہ نے آئندہ ماہ ویسٹ انڈیز میں کھیلی جانے والی ٹرائینگولر سریز کے لیے ٹیم میں بیک وقت چار مسلم کھلاڑیوںکو شامل کر کے ان کرکٹ ملکوں خاص طور پر ہندوستان کو شرمندہ کر دیا جومسلم کرکٹ کھلاڑیوں کی ٹیم میں موجودگی کے باعث بارہا کئی سریز اور ٹورنامنٹس اور انڈر نائنٹین ورلڈ کپ میچز جیتتے رہے ہیں۔
انہی ممالک میں ایک ہندوستان بھی ہے جس کو منصور علی خان پٹوڈی، محمد اظہر الدین، محمد کیف، ظہیر خان اور، عرفان پٹھان جیسے وہ کھلاڑی میسر رہے جو ٹیم انڈیا کو کرکٹ کے افق پر دمکانے میں اپنا کردار ادا کرتے رہے اور اب یہی تاریخی کردار ادا کرنے کے لیے ابھرتے ستار ے سرفراز خان، ارمان جعفر اور اویس خان تیار بیٹھے ہیں۔آخر الذکر تو بس موقع دیے جانے کے اور اول الذکر میں عرفان پٹھان واپسی کے بلاوے کے منتظر ہیں۔ لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سوربھ گنگولی، راہل دراوڑ اور کمبلے جیسے کسی کپتان کے نہ ہونے سے ان میں سے کسی کا بھی خواب شاید کبھی پورا نہ ہو سکے۔البتہ کچھ امید وراٹ کوہلی سے تھی بھی کہ وہ شاید مہندر سنگھ دھونی کے نقش قدم چلتے ہوئے اپنی آئی پی ایل ٹیم کے جارح بلے باز سرفراز خان کو ضرور موقع دلائیںگے۔ لیکن کوہلی ون ڈے میچز کے ابھی کپتان بنائے ہی نہیں گئے نیز آئندہ ماہ زمبابوے کے دورے کے لیے وہ دستیاب بھی نہیں ہیں اس لیے دور دور تک اس بات کے امکان نظر نہیں آرہے کہ سرفراز کو موقع مل سکے گا۔حالانکہ ایک دور تھا کہ کسی غیر اسلامی ملک کی کرکٹ ٹیم میں 3یا 3سے زائد کھلاڑی صرف ہندوستان کی کرکٹ ٹیم میں نظر آیا کرتے تھے۔
جس کا سلسلہ عباس علی بیگ ، منصور علی خان پٹوڈی اور سلیم درانی، اس کے بعد عباس علی بیگ کی جگہ تیسرے مسلم کھلاڑی کی جگہ عابد علی کو ملی اور یہ سلسلہ بڑھتے بڑھتے اتنا بڑھا کہ ایک موقع پر تو ٹیم انڈیا میں بیک وقت چار مسلم کھلاڑی وسیم جعفر، محمد کیف، ظہیر خان اور مناف موسیٰ پٹیل پلئینگ الیون میں تھے۔لیکن ان مسلم کھلاڑیوں کو اسی وقت تک در خور اعتنا سمجھا گیا یا ان کی صلاحیتوں کا اعتراف کیا جاتا رہا جب تک ہندوستانی کرکٹ کے افق پر سوربھ گنگولی، راہل دراوڑ اور انل کمبلے جیسے صاف ستھرے ذہن کے مالک کپتان دمکتے رہے۔ ان تینوں کے افق کرکٹ سے غائب ہوتے ہی مسلم کرکٹرز بھی قومی کرکٹ ٹیم سے بتدریج غائب ہونا شروع ہو گئے ۔جبکہ ا س کے برعکس انگلستان، ویسٹ انڈیز اور جنوبی افریقہ میں مسلم کھلاڑیوں کی تعداد میں بتدریج اضافہ ہوتا رہا ۔یہاں تک کہ آسٹریلیا میں بھی مسلم کھلاڑیوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے ۔ اور عثمان طارق خواجہ ا نٹرینشل کرکٹ میں آسٹریلیا کی نمائندگی کرنے والے پہلے مسلم کھلاڑی بنے۔ اور فواد احمد نام کے ایک اور کھلاڑی کرکٹ آسٹریلیا کے دفتر کے دروازے پر دستک دے رہے ہیں اور قانونی تقاضوں کی تکمیل ہوتے ہی وہ آسٹریلیائی ٹیم میں شامل ہونے والے دوسرے مسلم کھلاڑی ہو جائیں گے۔جبکہ جنوبی افریقہ کی کرکٹ ٹیم میں ایک اور مسلم کھلاڑی تبریز شمسی کی شمولیت سے جنوبی افریقہ کی کرکٹ ٹیم میں چار مسلم کھلاڑی ہو گئے ہیں۔ہاشم آملہ، بحر الدین اور عمران طاہر پہلے ہی سے جنوبی افریقی ٹیم میں شامل تھے۔
اور جس وقت ویسٹ انڈیز میں جون میں ٹرائینگولر سریز ہوگی تو اس میں شامل آسٹریلیا، جنوبی افریقہ اور میزبان ویسٹ انڈیز تینوں ٹیموں میں مسلم کھلاڑی نظر آئیں گے۔ لیکن اس بات کی کوئی ضمانت نہیں ہے کہ جون میں ہی زمبابوے میں دو طرفہ کرکٹ سریز اور اس کے فوراً بعد ویسٹ انڈیز میں دو طرفہ کرکٹ سریز میں ٹیم انڈیا میں ایک سے زیادہ کوئی مسلم کھلاڑی نظر آئے گا۔ کیونکہ لے دے کر اس وقت ٹیم انڈیا میں جو واحد مسلم کھلاڑی محمد شامیہیں وہ کپتان کی پسند ناپسند کا شکار بنے ہوئے ہیںاور سلیکٹروں نے بھی دھونی کاخیال رکھتے ہوئے ون ڈے اور ٹونٹی ٹونٹی کی ٹیم سے دودھ کی مکھی کی طرح نکال پھینکا ہے۔ بنگلہ دیش میں حال ہی میں ہونے والے ورلڈ کپ ٹی ٹونٹی میں ہی کپتان مہندر سنگھ دھونی نے صاف صاف کہہ دیا تھا کہ اگر محمد شامی فٹ ہو بھی جائیں تب بھی اب پلئینگ الیون میں ان کی کوئی جگہ نہیں بنتی۔ اور واقعی ایسا ہی ہوا۔ کیونکہ اشیش نہرا اور جس پریت بومرا سے فاسٹ بولنگ شعبہ مکمل ہو چکا ہے اور اب ٹیم ہر لحاظ سے نہایت متوازن ہے۔ لیکن اس کے باوجود ٹیم انڈیا ورلڈ کپ پر قبضہ نہ کر سکی ۔اور اتنی متوازن تھی کہ صرف وراٹ کوہلی کے دم پر ہی پیش رفت کرتے ہوئے فائنل تک ہی پہنچ سکی۔اگر متوازن ہوتی تو ا سکی معراج صرف فائنل کھیلنے تک ہی محدود نہ ہوتی۔ مگر کپتان مہندر سنگھ دھونی تو ٹیم میں شاید مسلم کھلاڑی دیکھنا ہی نہیں چاہتے ۔
حالانکہ اسی محمد شامی کو انتڑنیشنل کرکٹ کونسل کی جیوری نے، جس میں کرکٹ کے بڑے بڑے دماغ بیٹھے ہیں، 2015سال کی جو ون ڈے میچوں کی ٹیم منتخب کی تھی اس میں محمد شامی کو پلئینگ الیون میں شامل کیا گیا تھا۔ دھونی نے شامی سے پہلےنے اپنا سب سے پہلا شکار عرفان پٹھا ن کو بنایا ۔انہوں نے 2012میں عرفان پٹھان کو ون ڈے میچز اور ٹی ٹونٹی کی ٹیم سے نکلوایا۔ جبکہ اپنے آخری ون ڈے میچ میں عرفان پٹھان نے 28گیندوں پر 29رنز بنائے تھے اور ناٹ آو¿ٹ رہے تھے اور پھر اپنے کوٹے کے دس اووروں میں 5وکٹ بھی لیے تھے۔ اور مین آف دی میچ قرار دیے گئے تھے۔لیکن اس کے باوجود چار مہینے بعد ہی اگلی سریز جو ہوم سریز تھی اور پاکستان کے خلاف کھیلی جارہی تھی عرفان پٹھان کو ٹیم میں شامل نہیں کیا گیا اور ظہیر خان کے ساتھ ساتھ عرفان سے بھی چھٹکارہ پانے کے لیے مہندر سنگھ دھونی نے بھونیشور کمار کو ڈیبو کرایا اور سرد خانہ میں پڑے اشوک دیندا کی واپسی کرائی ۔اور سلیکٹروں کے دماغ سے ظہیر خان اور عرفان پٹھان دونوں کو ہی ایسا نکالا کہ آج تک ان میں سے کسی کی ٹیم میں واپسی نہیں ہوئی۔ اور ظہیر خان نے تو واپسی کے تما م دروازے بند پاکر ریٹائرمنٹ کا ہی اعلان کر دیا۔
لیکن عرفان پٹھان آج بھی امید لگائے بیٹھے ہیں۔ جو کہ عبث ہے کیونکہ معلوم ہوتا ہے کہ زمبابوے کے دورے پر ٹیم انڈیا کے کپتان دھونی ہی رہیںگے۔ جس کے باعث نہ کسی پرانے مسلم کھلاڑی کی واپسی کا امکان ہے اور نہ ہی سرفراز ، اویس خان اور ارمان جعفر میں سے کسی کو موقع دینے کا امکان ہے۔ دھونی نے جس طرح ظہیر خان اور عرفان پٹھان کے مقابلہ پر کچھ کھلاڑیوں کو لاکھڑا کیا تھا اسی طرح انہوں نے محمد شامی کے مقابلہ پر جسپریت بومرا پر ٹیم انڈیا کے دروازے اس انداز سے کھولے کہ محمد شامی پر وہ بند ہو گئے۔اور اب زمبابوے کے دورے کے لیے کئی سینیئر اور ریگولرکھلاڑیوں کو آرام دینے کے بعد بھی محمد شامی،یوسف پٹھان،سرفراز خان اور اویس خان میں سے ایک بھی کھلاڑی کو ٹیم میں شامل نہیں کیا گیا تو اس سے ثابت ہوجائے گا مہندر سنگھ دھونی آر ایس ایس اور وشوہندو پریشد کے خفیہ فرمان پر عمل کرتے ہوئے ٹیم انڈیا کو مسلم کھلاڑیوں سے پاک کرنے پر تلے ہیں۔

Read all Latest sports news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from sports and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Reason behind the selection of faiz fazal and mohammad shami in Urdu | In Category: کھیل Sports Urdu News

Leave a Reply