آفریدی اینڈ کمپنی میلوں دور تک” پاکستانی کرکٹ ٹیم “نظر نہیں آتی

سید اجمل حسین
اس وقت اگرچہ ہندوستان میں کھیلے جارہے ٹونٹی ٹونٹی ورلڈ کپ میں سوائے ہندوستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان کھیلے گئے افتتاحی میچ کے کم و بیش تمام میچز میں کانٹے کا مقابلہ دیکھنے کو مل رہا ہے یہاں تک کہ جنوبی افریقہ کے خلاف افغانستان نے بھی زبردست کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے شکست کھانے سے پہلے جنوبی افریقہ کے دانت کھٹے کر دیے۔لیکن تمام کرکٹ شوقینوں کو جتنی حیرت افغانستان کی کرکٹ دیکھ کر ہو رہی ہے اس سے کہیں زیادہ یہ کرکٹ شوقین کسی دور کی مقبول ترین ٹیم پاکستان کی پرفارمنس دیکھ کر انگشت بدنداں ہیں کہ یہ وہی کرکٹ ٹیم ہے جس کے ایک ایک کھلاڑی کی محض ایک جھلک دیکھنے کے لیے خلقت امڈ پڑتی تھی۔
یہ وہی ٹیم تھی کہ دنیا کا ہر بولر اس کے چند کھلاڑیوں خاص طور پر جاوید میاں داد، ظہیر عباس، سعید انور، انضمام الحق، محمد یوسف ، سلیم ملک ،یونس خان اور عامر سہیل میں سے کسی بھی ایک بلے باز کو آو¿ٹ کر کے ایسا محسوس کرتا تھا گویا اس نے ایک دنیا فتح کر لی ہو ۔اور کئی بلے باز اسی ٹیم کے بولروں خاص طور پر سرفراز نواز،عمران خان، وسیم اکرم، وقار یونس، شعیب اختر ، ثقلین مشتاق ، عبدا لقادر کی ایک گیند پر بھی چھکا لگا کر یہ سمجھتے تھے گویا اس نے ماو¿نٹ ایورسٹ سر کر لی ہو۔ جس وقت پاکستانی ٹیم کسی بھی میدان میں کسی بھی ٹیم کے خلاف میدان میں اترتی تھی تو کرکٹ پنڈت پہلے ہی پاکستانی ٹیم کی جیت کے امکانات حریف ٹیم کے مقابلہ زیادہ بتایا کرتے تھے۔
کیونکہ اس وقت پاکستانی ٹیم کو عمران خان جیسا ذہین اور محترم کپتان اور جاوید میاں داد جیسا شاطر و چالاک ان کا نائب دستیاب تھا ۔لیکن جوں جوں وقت گذرتا گیا نہ معلوم پاکستانی کرکٹ کو کس کی نظر کھا گئی کہ آج حالات ایسے ہوگئے ہیں کہ وہ نہ میچ جیت رہی ہے اور نہ ہی دل۔ تاہم اس کی بیٹنگ بھلے ہی کمزور ہو گئی ہو لیکن فاسٹ بولنگ کی اس کی طاقت میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔ عمران خان اور سرفراز نواز گئے تو جس طرح وسیم اکرم اور وقار یونس اور عاقب جاوید آئے تھے اسی طرح عاقب جاوید اور عبد الرازق گئے تو شعیب اختر اور محمد آصف آئے اور یہ سلسلہ محمد عامر، محمد عرفان، وہاب ریاض، عمر گل، محمد سمیع تک جاری و ساری ہے ۔ اسی طرح اسپن شعبہ بھی کبھی کمزور نہیں رہا اور اس وقت شاہد آفریدی، عبدالرحمٰن ، فواد، محمد حفیظ ، اور عماد وسیم جیسے اچھے اسپنروں سے ٹیم آراستہ ہے۔
لیکن ٹیم ایک اچھے قائد سے محروم ہے۔ شاہد آفریدی نے سرزمین ہند پر پہنچتے ہی غیر ضروری سیاسی بیان دے کر خود کوموضوع بحث بنا لیا اور ان کی توجہ کرکٹ سے ہٹ کر اپنے بیان پر کیے جانے والے تبصروں پر مرکوز ہو گئی۔ جبکہ وہ ہندستان آئے تھے صرف کرکٹ کھیلنے۔ اور انہیں اپنی تمام تر توجہ ہر میچ کے لیے نہیں بلکہ پورے ٹورنامنٹ کے لیے ایک ہی حکمت عملی اور ایک ہی منصوبہ بنانے کی ضرورت تھی ۔کیونکہ یہ نہات مختصر اووروںکا میچ تھا جس میں ہر میچ کے لیے ٹسٹ میچوں کی طرح حکمت عملی وضع نہیں کی جاتی۔ بس جس دن جو ٹیم اچھا کھیل گئی وہی سکندر بن گئی۔
یہاں تک کہ کوئی غیر معروف یا محض خانہ پری کے لیے بحالت مجبوری ٹیم میں شامل کرنے والاایک اوسط درجہ کا کھلاڑی بھی میچ ونر بن جاتا ہے۔ بس ضرورت جیت کی امنگوں کے ساتھ کھیلنے کی ہوتی ہے جو اس بار شاہد آفریدی کے لڑکوں حتیٰ کہ خود کپتان میں بھی نظر نہیں آرہی۔جس کے باعث کرکٹ شوقینوں کو وہ پاکستانی کرکٹ دیکھنے کو نہیں مل رہی جس کے لیے کرکٹ کی دنیا میں پاکستان جانا جاتا تھا۔حالانکہ اس دور میں جب سوائے برطانیہ اور آسٹریلیا کے کسی ملک میں خواہ وہ میدان ہو یا کمٹری باکس ہو کوئی پاکستانی ٹیم کی حوصلہ افزائی کے لیے موجود نہیں ہوتاتھا ۔لیکن اس دور کے کھلاڑیوں کا خوبصورت کھیل اور جیت کی امنگیں ہی ان کی ساتھی ہوا کرتی تھیں جو پاکستانی ٹیم کو جیت سے ہمکنار کیا کرتی تھیں اور ہار کر بھی وہ کرکٹ شوقینوں کے دل جیت لیا کرتی تھی۔
لیکن آج جب ہر ملک میں یہاں تک کہ ہندوستان اور بنگلہ دیش تک میں پاکستانی کرکٹ کے دیوانے اس ٹیم کی حوصلہ افزائی کرنے موجود ہیں، کمنٹری باکس میں ایک نہیں متعدد پاکستانی سابق کرکٹرز موجود رہتے ہیں اور وقتاً فوقتاً وقت نکال کر پاکستانی کھلاڑیوں کی رہنمائی کرنے دستیاب رہتے ہیں پھر بھی پاکستانی ٹیم رواں ٹونٹی ٹونٹی ورلڈ کپ میں سیمی فائنل تک پہنچنے میں بھی کوئی دلچسپی نہیں دکھا رہی۔ اور اب تو ہر میچ کے بعد ایسا محسوس ہونے لگا ہے کہ شاہد آفریدی اینڈ کمپنی محض خانہ پری یا ورلڈ کپ میں اپنی حاضری لگوانے کے لیے ہی سرحد پار کر کے آئی ہے۔اگر اب بھی پاکستانی کھلاڑیوں نے اپنی صلاحیتوں سے انصاف نہ کیا اور اپنی خوابیدہ صلاحیتوں کو بیدار نہ کیا تو نہ معلوم پاکستان کی کرکٹ کا کیا حشر ہوگا۔ اب تک کی اس ورلڈ کپ کی جو داستاں ہے اس میں غیر اسلامی ملکوں کی ٹیموں آسٹریلیا، انگلستان، جنوبی افریقہ، ویسٹ انڈیزاور کوالیفائنگ راو¿نڈ میں ہانگ کانگ، زمبابوے، ہالینڈاوراسکاٹ لینڈ میں کھیل رہے مسلم کھلاڑی تک اپنی دھاک بٹھا گئے لیکن پاکستان جس میں صد فیصد مسلم کھلاڑی ہیں کوئی کھلاڑی ابھی تک کرکٹ شوقینوں کے دل میں جگہ نہ بنا سکا۔
جبکہ اس کے برعکس افغانستان جیسی نو وارد ٹیم اپنے بیٹنگ کوچ انضمام الحق اور بولنگ کوچ منوج پربھاکر کی کی زیر تربیت رہ کراس غضب کی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے میں کامیاب ہو گئی کہ اپنے سے کہں زیادہ تجربہ کار پاکستان، سری لنکا اور بنگلہ دیش کی طرح تہی دست نہیں لوٹی بلکہ ویسٹ انڈیز جیسی مضبوط ٹیم کے خلاف شاندار جیت کے ساتھ وطن واپس ہوئی جہاں اس کے ہر کھلاڑی کا ایک ہیرو جیسا استقبال ہوا کیونکہ ان کھلاڑیوں کی بدولت ہی ایک چیمپین ٹیم کے خلاف یہ جیت اس بے بی ٹیم کے لیے ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ جیت لینے سے کم نہیں تھی۔

Read all Latest sports news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from sports and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Pakistan does not deserve a place in world cricket in Urdu | In Category: کھیل Sports Urdu News

Leave a Reply