پاکستان کے سابق کرکٹر محمد یوسف کا یہ ریکارڈ شاید کبھی نہ ٹوٹ سکے

پاکستان کے سابق انٹرنیشنل کرکٹر محمد یوسف،جن کی پیر کے روز (27اگست) 44ویں سالگرہ تھی ،ایک غیر معروف اور غریب عیسائی گھرانے میں پیدا ہوئے لیکن خدا کی طرف سے ودیعت کی گئی کرکٹ صلاحیتوں کی بدولت وہ نہ صرف دولتمند ہو گئے بلکہ کرکٹ کی تاریخ میں کئی ریکارڈ اپنے نام کر کے معروف بھی ہو گئے ۔ یوسف نے اپنے ٹیسٹ کیریئر میں ساڑھے سات ہزار رنز اور ایک روزہ کیریئر میں ساڑھے نو ہزار رنز بنائے۔ محمد یوسف کا پاکستان کے ظہیر عباس،ماجد خان، جاوید میاں داد ، یونس خان اور انضما م الحق کی طرح پایہ کے بلے بازوں میں شمار کیا جاتا تھا۔ یوں تو یوسف کے نام کئی ریکارڈ ہیں جن کا ان کی پیدائش کے ماہ کے دوران ذکرکر کے انہیں خراج تحسین اور سالگرہ کی مبارکباد دی جا سکتی ہے لیکن ایک کیلنڈر سال میں 1788رنز بنانے کا وہ ریکارڈ ان کے نام ہے جو انہوں نے 2006میں 99.33کی اوسط سے بنا کر ویسٹ انڈیز کے سابق جارح اور دھماکہ خیز بلے باز ووین رچرڈز کا 1976میں90کی ا وسط سے 1710رنز بنانے کا ریکارڈ توڑا تھا۔ ایک کیلنڈر سال میں1500یا اس سے زائد رنزبنانے والے کلب میں تیسرے مقام پر جنوبی افریقہ کے گریم اسمتھ ہیں جنہون نے 2008میں 12ٹیسٹ میں 72کی اوسط سے 1656رنز بنائے۔ اس کے بعد آسٹریلیا کے مائیکل کلارک 2012میں11ٹیسٹ میں1595، ہندوستان کے سچن ٹنڈولکر اور سنیل گواسکر اس کلب میں بالاترتیب پانچویں اور چھٹے مقام پر ہیں۔سچن نے 2010میں14ٹیسٹ میں 78کے اوسط سے 1562اور گواسکر نے 1978میں18ٹیسٹ میں59کے اوسط سے 1555رنز بنائے تھے۔آمدم بر سر مطلب محمد یوسف کی پیدائش 27اگست 1974کو پاکستان کے لاہور میں ہوئی تھی۔انہوں نے اپنے ٹیسٹ کیریرکا آغاز 1998میں جنوبی افریقہ کے خلاف یوسف یوحنا کے نام سے کیا۔

محمد یوسف نے لاہور، پنجاب (پاکستان)، پاکستان میں جنم لیا۔ آپ کا خاندان ہندو مت چھوڑ کر مسیحیت میں داخل ہوا تھا۔ آپ کے والد یوحنا مسیح ریلوے اسٹیشن پر کام کیا کرتے تھے اور ان کا خاندان ریلوے کالونی کے قریب ہی رہتا تھا۔ لڑکپن میں، یوسف ایک بلّا خریدنے تک کی استطاعت نہیں رکھتے تھے، چنانچہ لکڑی کے تختے اور ٹیپ ٹینس گیند کے ساتھ کھیلا کرتے تھے۔ 12 سال کی عمر میں گولڈن جیمخانہ نے یوسف کے ہنر کا اندازہ لگایا، لیکن تب بھی یوسف نے کرکٹ کو ذریعہ معاش بنانے کا نہیں سوچا تھا۔ یوسف نے لاہور میں فارمین کرسچین کالج میں داخلہ لیا اور کھیلنا بھی جاری رکھا۔ اوائل 1994 میں یوسف نے کھیلنا چھوڑ دیا اور بہاولپور میں رکشا چلانے لگے۔غربت بھرے پس منظر سے تعلق رکھنے والے یوسف 1990 کے عشرے میں درزی کی دکان پر بھی کام کرتے رہے۔ اس دوران میں انھوں نے ایک مقامی کرکٹ میچ میں شرکت کی۔ ان کے عمدہ شاٹوں نے ہر ایک کی توجہ حاصل کرلی اور پاکستان کے ایک بہترین بلے باز بننے کی طرف ان کے سفر کا آغاز ہوا۔ وہ درزی کی دکان ہی پر کام کر رہے تھے کہ ایک مقامی کلب نے کھلاڑیوں کی کمی کے باعث ان سے رابطہ کیا۔ یوسف کے نمایاں کھیل نے انہیں بریڈفورڈ کرکٹ لیگ تک پہنچادیا جہاں وہ باو¿لنگ اولڈ لین کرکٹ کلب کی طرف سے کھیلے۔

قبول اسلام

2005 میں قبول اسلام سے قبل، یوسف پاکستان کرکٹ ٹیم کے لیے کھیلنے والے چوتھے مسیحی (اور مجموعی طور پر چھٹپانچویں غیر مسلم) کھلاڑی تھے ۔ (ان سے پہلے ولیس مٹھیاس، انٹاؤ ڈی سوزا، ڈنکن شارپ اور انل دلپت پاکستانی ٹیم کا حصہ رہ چکے تھے) ۔ انھیں پاکستانی ٹیم کی قیادت کرنے والے پہلے اور اب تک کے واحد غیر مسلم کھلاڑی ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہوا، جب 2004 -2005 میں انھوں نے دورہ آسٹریلیا کے موقع پر ٹیم کی قیادت کی اور ملبورن کرکٹ گراؤنڈ پر باکسنگ ڈے ٹیسٹ میں سنچری بھی بنائی۔ پاکستان کی سب سے بڑی غیر سیاسی مذہبی تحریک، تبلیغی جماعت کے تبلیغی اجتماعات میں مسلسل شرکت کرنے کے بعد انھوں نے اسلام قبول کر لیا۔ ان کے مبلغین میں یوسف کے سابقہ کرکٹ کھلاڑی ساتھی، سعید انور اور ان کے بھائی بھی شامل تھے۔ یوسف کی اہلیہ، تانیہ نے بھی ان کے ساتھ اسلام قبول کیا اور اسلامی نام فاطمہ رکھا۔ تاہم، خاندانی معاملات کی وجہ سے اس خبر کو تین مہینوں تک پوشیدہ رکھنے کے بعد، ستمبر 2005 میں یوسف نے قبول اسلام کا اعلان کر دیا۔ انگریزی اخبار، ڈیلی ٹائمز (پاکستان) سے بات کرتے ہوئے یوسف کی والدہ نے کہا کہ ”یوسف کی اس حرکت کے بعد میں اسے اپنا نام دینا نہیں چاہتی۔ ہمیں اس کے اس فیصلے کا تب علم ہوا جب اس نے مقامی مسجد میں نماز جمعہ ادا کی۔ یہ ہمارے لیے صدمے کی خبر تھی۔“ تاہم بی بی سی سے بات کرتے ہوئے، یوسف کا کہنا تھا کہ ”میں (قبول اسلام کے ) اس شاندار احساس کو بیان نہیں کر سکتا۔“ قبولِ اسلام کے بعد، یوسف نے باضابطہ طور پر اپنا نام یوسف یوحنا سے محمد یوسف رکھ لیا۔

یوسف نے اپنے ٹیسٹ کیریئر کا آغاز جنوبی افریقہ کے خلاف ڈربن میں اور پہلا بین الاقوامی ایک روزہ میچ ہرارے میں زمبابوے کے خلاف کھیلا۔ ایک روزہ کیریئر میں یوسف نے 15 سنچریوں کی مدد سے 40 سے زائد کی اوسط سے 9000 رنز بنائے اور ٹیسٹ مقابلوں میں 50 سے زائد کی اوسط سے 24 ٹیسٹ سنچریوں کی مدد سے 7000 رنز بنائے۔ ان کے پاس ایک روزہ میچ میں بغیر آؤٹ ہوئے سب سے زیادہ رنز بنانے کا ریکارڈ بھی ہے۔ انہوں نے 2002 2003- میں زمبابوے کے خلاف سیریز میں مجموعی طور پر 405 رنز بنائے تھے۔ ایک روزہ مقابلوں میں 23 گیندوں پر نصف سنچری اور 68 گیندوں پر سنچری بنانے کے ساتھ ساتھ، ٹیسٹ میچ میں 27 گیندوں پر نصف سنچری بنانے کا اعزاز بھی یوسف کے پاس ہے۔ اپنے کامیاب ترین برسوں، یعنی 2002 اور 2003 میں یوسف ایک روزہ مقابلوں میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے کھلاڑی رہے۔ دسمبر 2005 میں انھوں نے لاہور میں انگلستان کے خلاف 223 رنز کی اننگز کھیلی۔ سات ماہ بعد جولائی 2006 میں، جب پاکستان نے انگلستان کا دورہ کیا تو وہاں بھی یوسف نے پہلے ٹیسٹ میچ میں 202 رنز اور 48 رنز بنائے، جس کی بنیاد پر انہیں پلیئر آف دی میچ قرار دیا گیا۔ اس سیریز کے تیسرے ٹیسٹ میں یوسف نے 192 اور آخری ٹیسٹ میں 128 رنز بنائے تھے۔2006 میں سی این این-آئی بی این نے آسٹریلوی کپتان رکی پونٹنگ، ویسٹ انڈیز کے برائن لارا، آسٹریلوی اسپنر شین وارن اور سری لنکا کے متیاہ مرلی دھرن کے مقابلے میں یوسف کو اس سال کا بہترین کھلاڑی قرار دیا۔ 2007 میں وہ سال کا بہترین وزڈن کرکٹر کے طور پر منتخب ہوئے۔[8] 2007 میں یوسف کو آئی سی سی کی جانب سے سال کا بہترین ٹیسٹ کرکٹ کھلاڑی ہونے کا اعزاز ملا۔[9] وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والے چوتھے کھلاڑی تھے۔ انہوں نے 10 اننگز میں 7 سنچریوں اور 2 نصف سنچریوں کی مدد سے 94.40 کی اوسط کے ساتھ 944 رنز بنائے تھے۔

یوسف کا شمار عمدہ فیلڈروں میں ہوتا ہے۔ اواخر 2005 میں کرک انفو کی تیار کردہ ایک رپورٹ کے مطابق کرکٹ عالمی کپ 1999 سے ایک روزہ کرکٹ میں سب سے زیادہ رن آؤٹ کرنے والے ساتویں کھلاڑی تھے۔ سنچری مکمل کرنے کے بعد جشن منانے کا ان کا انداز بھی ان کی پہچان رہا۔ قبول اسلام سے قبل، سنچری بنانے پر وہ سینے پر صلیب کا نشان بنایا کرتے تھے، جبکہ اسلام قبول کرنے کے بعد، انہوں نے میدان میں مکہ کی سمت میں سجدہ کرنے کا اندز اپنایا۔

2007 میں انڈین کرکٹ لیگ کے ساتھ معاہدہ کرنے کے بعد، پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے دباؤ اور پابندی لگائے جانے کی دھمکی کے باعث یوسف نے لیگ کھیلنے سے انکار کر دیا۔ جواب میں پاکستان کرکٹ بورڈ نے انہیں انڈین پریمیئر لیگ میں شامل کروانے کا وعدہ کیا، تاہم انڈین کرکٹ لیگ کی جانب سے مقدمے کے باعث ان کی بولی نہیں لگ سکی۔

قومی ٹیم کے لیے منتخب نہ ہونے پر 2008 میں، ایک بار پھر انھوں نے انڈین کرکٹ لیگ میں شامل ہونے کی دھمکی دی۔ پی سی بی کے ایک عہدے دار نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے انڈین کرکٹ لیگ میں شمولیت اختیار کرنے والے اپنے تمام کھلاڑیوں پر پابندی عائد کی ہے اور اگر یوسف ایسی لیگ کے لیے کھیلتے ہیں تو انہیں بھی اسی سزا کا سامنا کرنا ہوگا۔ یوسف اب بھی ہمارے بہترین بلے باز ہیں اور پاکستانی ٹیم کے ساتھ ان کا مستقبل ہے، لیکن آئی سی ایل میں شامل ہونے کی صورت میں نہیں۔تاہم یوسف آئی سی ایل میں شمولیت کا فیصلہ کرچکے تھے۔یوسف کے اس فیصلے کی ایک وجہ یونس خان کی جگہ شعیب ملک کو کپتان بنایا جانا بھی تھا؛ یوسف اور شعیب کے درمیان میں اختلافات پائے جاتے تھے۔ آخر پاکستان کرکٹ بورڈ نے یوسف پر پابندی عائد کردی۔

2 فروری 2009 کو پاکستانی عدالت نے آئی سی ایل کھیلنے والے کھلاڑیوں پر عائد پابندی کو کالعدم قرار دیا تو پاکستانی کرکٹ میں محمد یوسف کی واپسی کے امکانات بڑھ گئے۔ جولائی 2009 میں، سری لنکا میں ٹیسٹ سیریز کے لیے پاکستانی ٹیم کا اعلان ہوا تو محمد یوسف اس کا حصہ تھے۔ وہ پہلے ہی، اوائل مئی میں غیر منظور شدہ لیگ سے خود کو علاحدہ کرچکے تھے۔ جولائی 2009 میں یوسف نے سنچری کے ساتھ کرکٹ میں واپسی کی۔ یہ 2007 کے بعد سے ان کا پہلا ٹیسٹ میچ تھا۔

محمد یوسف اور عبد الرزاق نے جب خود کو انڈین کرکٹ لیگ سے علاحدہ کیا تو پاکستان کرکٹ بورڈ نے ان کے ساتھ ’اے‘ کیٹگری کے وسط مدتی سینٹرل معاہدے کیے۔ یوسف نے بورڈ کو مطلع کیا کہ وہ چیمپئنز ٹرافی 2008 میں حصہ نہیں لیں گے، کیونکہ وہ ماہِ رمضان میں ہوگی۔ یوسف کی واپسی کے تقریباً ایک سال بعد، بورڈ نے یونس خان کو آرام دیتے ہوئے محمد یوسف کو دورہ نیوزی لینڈ کے لیے ٹیسٹ ٹیم کا کپتان مقرر کر دیا۔
یکم اگست 2010 کو ٹرینٹ برج، ناٹنگھم میں انگلستان کے خلاف سیریز کے پہلے ٹیسٹ میچ میں پاکستان کرکٹ ٹیم کو شکست ہوئی تو بقیہ سیریز کے لیے یوسف کو دوبارہ طلب کر لیا گیا۔ تھکن کے باعث یوسف نے دوسرا ٹیسٹ نہ کھیلنے کا فیصلہ کیا۔ دوسرے ٹیسٹ میچ کے بعد پاکستانی کپتان سلمان بٹ نے کہا کہ انھیں تیسرے ٹیسٹ میں یوسف کی واپسی کی توقع ہے۔ انتخاب کنندگان (سلیکٹرز) نے تیسرے ٹیسٹ سے پہلے یوسف کو وورچسٹرشائر کے خلاف ٹور میچ میں کھلانے کا فیصلہ کیا تاکہ ان کی اہلیت جانچی جاسکے۔ یہ جانچ کامیاب رہی اور بارش کے باعث میچ ختم ہونے کے سے پہلے محمد یوسف نے ناقابلِ شکست 40 رنز بنائے۔ انگلستان کے خلاف سیریز کے تیسرے ٹیسٹ میں یوسف 56 کے انفرادی مجموعے پر گریم سوان کی گیند پر انہیں ہی کیچ تھما بیٹھے اور یوں وہ ٹیسٹ کرکٹ میں سوان کے 100ویں شکار بنے۔

یوسف کی واپسی کا سفر اچھی طرح چلتا رہا۔ انھوں نے انگلستان کے خلاف پانچ ایک روزہ میچوں کی سیریز میں بھی حصہ لیا، اگرچہ پاکستان وہ سیریز 3-2 سے ہار گیا تھا۔ بعد ازاں، اکتوبر 2010 میں جنوبی افریقا کے خلاف سیریز کے لیے پاکستان کرکٹ ٹیم میں بھی یوسف کو شامل رکھا گیا، یہاں تک کہ انہیں کپتان بنانے پر بھی غور کیا گیا، لیکن کپتانی مصباح الحق کو دی گئی۔فیصل بینک ٹی20 کپ 2010-11 میں، یوسف نے مقامی ٹیم لاہور لائنز کی قیادت کی اور فائنل مقابلے میں کراچی ڈولفنز کو شکست دے کر فاتح قرار پائی۔

اکتوبر 2010میں جنوبی افریقا کے خلاف سیریز کے لیے تربیت کے دوران میں وہ ہیمسٹرنگ کا شکار ہو گئے۔ چنانچہ محدود اوورز کے مقابلوں کے لیے یوسف کی جگہ یونس خان کو منتخب کیا گیا، جنہیں پابندی عائد ہونے کے بعد سے اب تک موقع نہیں مل سکا تھا مگر اب بورڈ کے ساتھ ان کے معاملات طے پا چکے تھے۔ یوسف کی صحت تیزی سے بحال ہوئی اور وہ پانچ ایک روزہ میچوں کی سیریز سے پہلے ہی صحتیاب ہو گئے۔ ایک روزہ میچ میں یوسف نے جو شرٹ پہنی اس پر ان کا نام روشنائی سے لکھا گیا تھا جو قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی تھا۔ میچ ریفری کے طلب کیے جانے پر یوسف نے بتایا کہ چونکہ وہ صرف ٹیسٹ سیریز کھیلنے آئے تھے، اس لیے اپنے ساتھ رنگین لباس نہیں لاسکے تھے، کیونکہ انھیں نہیں لگتا تھا کہ وہ ٹیسٹ سیریز کھیل پائیں گے۔ آخر آئی سی سی نے انہیں اس معاملے سے بری کر دیا۔ پہلے ٹیسٹ میچ کے ٹاس سے چند لمحات قبل ہی، یوسف گرؤن انجری کا شکار ہو گئے۔ یوسف کو اس بار صحت یاب ہونے میں دو ہفتے لگ گئے، نتیجتاً یوسف دونوں ٹیسٹ مقابلے نہیں کھیل سکے۔ مسلسل انجریوں کے پیشِ نظر، سابق پاکستانی کپتان معین خان نے یوسف کو مشورہ دیا کہ انھیں ایک روزہ اور ٹی20 کرکٹ سے ریٹائر ہوجانا چاہیے اور اپنی عمر اور مسلسل انجریوں کے باعث، صرف ٹیسٹ کرکٹ پر توجہ دینی چاہیے۔

اگست 2012 میں محمد یوسف کو تمغا حسن کارکردگی دیا گیا۔شماریات کے اعتبار سے، کرکٹ میں سال 2006کو آسٹریلیا قومی کرکٹ ٹیم، متیاہ مرلی دھرن اور یوسف کا سال کہا جاتا ہے۔ یوسف نے 2006 میں 99.33 کی اوسط سے 1788 رنز بنائے اور سر ویو رچرڈز کے دو عالمی ریکارڈز توڑے۔

30 نومبر 2006کو، کراچی میں پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان میں آخری ٹیسٹ میچ کی تیسری اننگز میں، انھوں نے ویو رچرڈز کا تیس سالہ پرانا ریکارڈ توڑا اور ایک کیلنڈر سال میں ٹیسٹ میچ میں سب سے زیادہ رنز بنانے میں والے کھلاڑی بن گئے۔ انھوں نے تین ٹیسٹ سیریز میں سب سے زیادہ رنز بنانے کا ظہیر عباس کا ریکارڈ بھی توڑا۔ ظہیر نے 1978/79 میں دورہ بھارت کے دوران میں 583 رنز بنائے تھے۔یوسف نے 2006 میں 9 سنچریاں بنائیں، جو ایک کیلنڈ سال میں سب سے زیادہ سنچریاں بنانے کا عالمی ریکارڈ ہے۔

یوسف نے لگاتار ٹیسٹ مقابلوں میں 6 سنچریاں بناکر سابق آسٹریلوی بلے باز ڈونلڈ بریڈمین کا ریکارڈ برابر کر دیا – تاہم، بریڈمین کے چھ میچوں کے مقابلے میں یوسف نے صرف چار میچوں میں یہ ریکارڈ بنایا۔

ملتان میں 191 رنز بنانے کے بعد وہ ٹیسٹ تاریخ میں تین بار 190 رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہونے والے کھلاڑی بن گئے۔ یہ تینوں اننگز 2006 میں کھیلی گئی تھیں۔

یوسف کو آئی سی سی کی جانب سے 2007 کا بہترین ٹیسٹ کرکٹ کھلاڑی بھی قرار دیا گیا۔ وہ کچھ عرصہ متنازع انڈین کرکٹ لیگ کا حصہ بھی رہے۔2009 -2010 میں پاکستانی کرکٹ ٹیم نے محمد یوسف کی قیادت میں آسٹریلیا کا دورہ کیا جہاں اسے شکست ہوئی۔ نتیجتاً پاکستان کرکٹ بورڈ نے تحقیقات کے بعد، 10 مارچ 2010 کو محمد یوسف پر پاکستان کی جانب سے بین الاقوامی کرکٹ کھیلنے پر پابندی عائد کردی۔ بورڈ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ انھیں آئندہ ٹیم کے لیے منتخب نہیں کیا جائے گا کیونکہ انھوں نے ٹیم میں انضباطی مسائل اور اندرونی رسہ کشی کو جنم دیا ہے۔اس پابندی کے رد عمل میں، محمد یوسف 29 مارچ 2010 کو بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائر ہو گئے ۔یکم اگست 2010 کو ٹرینٹ برج، ناٹنگھم میں انگلستان کے خلاف سیریز کے پہلے ٹیسٹ میچ میں پاکستان کرکٹ ٹیم کو شکست ہوئی تو بقیہ سیریز کے لیے یوسف کو دوبارہ طلب کر لیا گیا۔ تھکن کے باعث یوسف نے دوسرا ٹیسٹ نہ کھیلنے کا فیصلہ کیا۔ دوسرے ٹیسٹ میچ کے بعد پاکستانی کپتان سلمان بٹ نے کہا کہ انھیں تیسرے ٹیسٹ میں یوسف کی واپسی کی توقع ہے۔ انتخاب کنندگان (سلیکٹرز) نے تیسرے ٹیسٹ سے پہلے یوسف کو وورچسٹرشائر کے خلاف ٹور میچ میں کھلانے کا فیصلہ کیا تاکہ ان کی اہلیت جانچی جاسکے۔ یہ جانچ کامیاب رہی اور بارش کے باعث میچ ختم ہونے کے سے پہلے محمد یوسف نے ناقابلِ شکست 40 رنز بنائے۔ انگلستان کے خلاف سیریز کے تیسرے ٹیسٹ میں یوسف 56 کے انفرادی مجموعے پر گریم سوان کی گیند پر انہیں ہی کیچ تھما بیٹھے اور یوں وہ ٹیسٹ کرکٹ میں سوان کے 100ویں شکار بنے۔

یوسف کی واپسی کا سفر اچھی طرح چلتا رہا۔ انھوں نے انگلستان کے خلاف پانچ ایک روزہ میچوں کی سیریز میں بھی حصہ لیا، اگرچہ پاکستان وہ سیریز 3-2 سے ہار گیا تھا۔ بعد ازاں، اکتوبر 2010 میں جنوبی افریقا کے خلاف سیریز کے لیے پاکستان کرکٹ ٹیم میں بھی یوسف کو شامل رکھا گیا، یہاں تک کہ انہیں کپتان بنانے پر بھی غور کیا گیا، لیکن کپتانی مصباح الحق کو دی گئی۔

اکتوبر 2010 میں جنوبی افریقا کے خلاف سیریز کے لیے تربیت کے دوران میں وہ ہیمسٹرنگ کا شکار ہو گئے۔ چنانچہ محدود اوورز کے مقابلوں کے لیے یوسف کی جگہ یونس خان کو منتخب کیا گیا، جنہیں پابندی عائد ہونے کے بعد سے اب تک موقع نہیں مل سکا تھا مگر اب بورڈ کے ساتھ ان کے معاملات طے پا چکے تھے۔ یوسف کی صحت تیزی سے بحال ہوئی اور وہ پانچ ایک روزہ میچوں کی سیریز سے پہلے ہی صحتیاب ہو گئے۔ ایک روزہ میچ میں یوسف نے جو شرٹ پہنی اس پر ان کا نام روشنائی سے لکھا گیا تھا جو قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی تھا۔ میچ ریفری کے طلب کیے جانے پر یوسف نے بتایا کہ چونکہ وہ صرف ٹیسٹ سیریز کھیلنے آئے تھے، اس لیے اپنے ساتھ رنگین لباس نہیں لاسکے تھے، کیونکہ انھیں نہیں لگتا تھا کہ وہ ٹیسٹ سیریز کھیل پائیں گے۔ آخر آئی سی سی نے انہیں اس معاملے سے بری کر دیا۔ پہلے ٹیسٹ میچ کے ٹاس سے چند لمحات قبل ہی، یوسف گرؤن انجری کا شکار ہو گئے۔ یوسف کو اس بار صحت یاب ہونے میں دو ہفتے لگ گئے، نتیجتاً یوسف دونوں ٹیسٹ مقابلے نہیں کھیل سکے۔ مسلسل انجریوں کے پیشِ نظر، سابق پاکستانی کپتان معین خان نے یوسف کو مشورہ دیا کہ انھیں ایک روزہ اور ٹی20 کرکٹ سے ریٹائر ہوجانا چاہیے اور اپنی عمر اور مسلسل انجریوں کے باعث، صرف ٹیسٹ کرکٹ پر توجہ دینی چاہیے۔

Read all Latest sports news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from sports and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: Pak cricketer mohd yusuf records in Urdu | In Category: کھیل Sports Urdu News

Leave a Reply