اب ہندوستانی دستہ برازیل سے تہی دست نہیں لوٹے گا

ریو ڈی جینرو:(یو این آئی) بیڈمنٹن اسٹار پی وی سندھو کی چاندی کی چمک، خاتون پہلوان ساکشی ملک کے کانسہ کی دھمک اور کئی مایہ ناز کھلاڑیوں کی سپر فلاپ کارکردگی کے درمیان ہندوستان کی جانب سے ریو اولمپکس کی مہم ریکارڈ 118 رکنی ٹیم اتارنے کے باوجود محض دو تمغوں کے ساتھ ختم ہو گئی۔
ہندستان نے 2012 میں گزشتہ لندن اولمپکس میں دو چاندی اور چار کانسہ سمیت چھ تمغے جیتے تھے جبکہ 2008 کے بیجنگ اولمپکس میں ہندستان نے ایک طلائی اور دو کانسہ سمیت تین تمغے جیتے۔ اس بار ہندستان کیلئے ہندستانی اولمپک ایسوسی ایشن (آئی او اے) نے 10سے 15 تمغہ کا دعوی کیا تھا جبکہ سابق وزیر کھیل سرباند سونووال نے 10تمغے اور ان کے بعد کچھ وقت کے لیے وزارت کھیل کی ذمہ داری سنبھالنے والے جتیندر سنگھ نے لندن میڈل دوگنے ہونے کا دعوی کیا تھا لیکن تمام دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے اور ہندستان دو ہی تمغہ جیت پایا۔
یہ تو بھلا ہو دو ہندوستانی بیٹیوں سندھو اور ساکشی کا، جنہوں نے 24 گھنٹے کے وقفے میں دو تمغے جیت کر ملک کی عزت بچا لی ورنہ پہلے 12 دن تک تو ہندستان کے ہاتھوں ایک بھی تمغہ نہیں لگا تھا اور پھر ایسا لگ رہا تھا کہ کہیں ہندستان کو خالی ہاتھ نہ لوٹنا پڑے لیکن پہلے ہریانہ کی ساکشی نے تاریخی کانسہ کا تمغہ جیتا اور پھر حیدرآباد کی سندھو نے تاریخی نقرئی تمغہ جیت لیا۔

Read all Latest sports news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from sports and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: No debacle at rio in Urdu | In Category: کھیل Sports Urdu News

Leave a Reply