آخر محمد شامی کا سینٹرل کانٹریکٹ ختم کرنے کی ایسی کیا جلدی تھی

سید اجمل حسین

ٹیم انڈیا کو اپنی تباہ کن بولنگ سے حریف ٹیموں کے بلے بازوں کوحیرت میں ڈالنے والے ٹیم انڈیا کے فاسٹ بولر محمد شامی کے، جنہوں نے چند ہفتہ پہلے ہی جنوبی افریقہ کے خلاف ایک تاریخی فتح دلانے میں مرکزی کردار ادا کیا تھا وہم و گمان میں بھی نہیں رہا ہوگا کہ خود ان کی بیوی ہی ایسا باؤنسر ماریں گی کہ ان کا کرکٹ کیریر ہی داؤ پر لگ جائے گا اور نہ صرف ان کو کروڑوں روپے اور قومی ٹیم میں جگہ پانے سے ہاتھ دھونا پڑے گا بلکہ پل بھر میں ان کی عزت بھی خاک میں مل جائے گی ۔
یوں توجہاں ایک طرف محمد شامی کی بیوی حسین جہاں کے ذریعہ پوسٹ کیے گئے اسکرین شاٹس ان کی بدچلنی کی چیخ چیخ کر گواہی دے رہے ہیںا اور دوسری جانب ایک نجی ٹی وی چینل اے بی پی کو انٹرویو دیتے ہوئے حسین جہاں کے ان پر خانگی تشدد اور یہاں تک کہ انہیں جان سے مار ڈالنے کی کوشش کرنے کا ان کے اور ان کے گھر والوں پر سنگین الزام انہیں ایک ظالم شوہر بھی قرار دے رہا ہے۔ لیکن ابھی نہ تو اس معاملہ میں کوئی تھانہ پولس کی نوبت آئی، نہ معاملہ ویمن سیل تک پہنچا اور نہ ہی کوئی قانونی چارہ جوئی ہوئی پھر بھی ہندوستانی کرکٹ کنٹرول بورڈ نے جس تیزی سے کارروائی کرتے ہوئے محمد شامی کا نہ صرف سینٹرل کانٹریکٹ ختم کر دیابلکہ اس بات کو بھی یقینی بنا دیا کہ اب وہ شاید کبھی قومی کرکٹ ٹیم میں جگہ نہیں پاسکیں گے کچھ اور ہی کہانی بیان کر رہا ہے۔
یہی نہیں بلکہ شاید وہ آئی پی ایل میں دہلی کی ٹیم کی طرف سے بھی نہیں کھیل سکیں گے۔ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ ہندوستان کرکٹ کنٹرول بارڈ محمد شامی کو جنہوںنے 2017کے سیزن میں 8ٹیسٹ میچوں میں34وکٹ لینے کے ساتھ ساتھ جنوبی افریقہ کے خلاف جوہانسبرگ ٹیسٹ میچ میں تباہ کن بولنگ کر کے جس طرح ہندوستان کو شاندارفتح سے ہمکنار کر کے ٹیم انڈیا میں جیت کی وہ امنگیں جگا دی تھیں کہ اس کے بعد دورے کے آخری میچ تک ٹیم انڈیا نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا اور فتح کی پٹری پر دوڑتی رہی، ترقی دے کر اے پلس گریڈ میں ڈالتا۔
لیکن اس نے ایسا کرنے کے بجائے سب سے پہلے تو انہیں تنزلی دےکر اے گریڈ میں پہنچا دیا اور ابھی اس کا اعلان بھی نہیں کیا گیا تھا کہ سوشل میڈیا پر ان کی بیوی کے پوسٹ کیے گئے اسکرین شاٹس سے متاثر ہو کر محمد شامی کے خلاف ایسی تادیبی کارروائی کی کہ سینٹرل کانٹریکٹ سے ہی نکال کر انہیں پانچ کروڑ روپے کی کثیر رقم سے محروم کر دیا ۔ اگرچہ سینٹرل کانٹریکٹ میں شامل کرنے کا معیار کسی بھی کھلاڑی کی ذاتی زندگی اور ازدواجی تعلقات میں تلخی نہیں بلکہ صرف اور صرف انٹرنیشنل کرکٹ میں اس کی پرفارمنس ہوتا ہے ۔
لیکن بورڈ نے سینٹرل کانٹریکٹ کرتے وقت جہاں ایک طرف پسند ناپسند کو معیار بنا کر پسندیدہ اور ٹیلنٹ کے ساتھ ساتھ سفارش نامہ رکھنے والے کھلاڑیوں کو بورڈ سے ہونے والی سالانہ آمدنی میں200فیصد اضافہ کر کے کو مالا مال کر دیا وہیں محمد شامی جیسے مایہ ناز کھلاری کو ماؤرائے عدالت سزا دے کر ایک کثیر رقم سے ہی محروم کردیا۔ جس کے دور رس اثرات آئی پی ایل سے ہونے والی تین کروڑ روپے کی آمدنی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ اور شاید نیلی جرسی سے بھی وہ ہمیشہ کے لیے محروم کیے جا سکتے ہیں۔محمد شامی کی بیوی کے الزامات اتنے چونکانے والے نہیں ہیں کیونکہ وہ فرضی اور وقتی بھی ثابت ہو سکتے ہیں لیکن بورڈ کا فیصلہ ضرور چونکا دینے والا ہے۔ مجموعی اعتبار سے دیکھا جائے تو کانٹریکٹ اسی وقت منسوخ کیا جاتا ہے جب کوئی کھلاڑی مجرم ثابت ہو جائے۔
اگر کوئی بیوی جعلی جہیز مقدمہ بھی دائر کرتی ہے تو کوئی آجر اپنے ملازم کو برطرف کرنا تو دور کی بات معطل تک نہیں کرتا ۔لیکن کرکٹ بورڈ نے کس قانون کی روشنی میں ایسا سخت فیصلہ لے لیا یہ صرف وہی جانتا ہے۔حالانکہ جوہنسبرگ ٹیسٹ میچ میں محمد شامی کی پرفارمنس اس امر کی متقاضی تھی کہ آزمائش کی اس گھڑی میں کرکٹ بورڈ، چیف کوچ، کپتان او تمام ساتھی کھلاڑی معاملہ کی سچائی سامنے آنے تک محمد شامی کے شانہ بشانہ کھڑے ہوتے۔جیسا کہ آج سابق کپتان مہندر سنگھ دھونی کھڑے نظر آرہے ہیں۔لیکن بورڈ کا اپنا شاید کوئی قانون ہے جس کی ایک شق کھلاڑی کی خانگی زندگی میں کڑواہٹ کو بھی کرکٹ کا ایک حصہ قرار دیتا ہے۔
کہنے کوحیدر آباد دکن کے فاسٹ بولر محمد سراج کوٹونٹی ٹونٹی کرکٹ کی ٹیم میں جگہ دے کر یہ باور کرانے کی کوشش تو کی گئی ہے کہ مسلم کھلاڑیوں کے لیے کرکٹ بورڈ کے دروازے بند نہیں ہوئے ہیں لیکن انہیں پلئینگ الیون میں مستقل جگہ بنانےکا موقع ہی نہیں دیاجارہا جس سے یہ خدشہ پیدا ہوگیا ہے کہ انہیں محض شو پیس یا سیاح کی حد تک ہی رکھ کر ”کوٹہ“ پورا نہ کر دیا جائے ۔

Read all Latest sports news in Urdu at urdutahzeeb.com. Stay updated with us for Daily urdu news from sports and more news in Urdu. Like and follow us on Facebook

Title: No complaint but still no new contract for shami in Urdu | In Category: کھیل Sports Urdu News
What do you think? Write Your Comment